Wednesday, September 14, 2005

خدا آرہا ہے!

خدا آرہا ہے۔
God is coming!
اور اپنے ساتھ ڈونٹس لارہا ہے۔

Tuesday, September 06, 2005

اسرائیل

دانیال نے اسرائیل۔پاکستان مزاکرات سے متعلق اردو بلاگرز کے لیے کچھ سوالات کھڑے کیے ہیں۔ ان کے جواب دے رہا ہوں۔

اسرائیل سے بات کیوں نہیں ہونی چاہئیے؟

ہونی چاہیے اور بلاخوف و ججھک ہونی چاہیے۔

* * *
استنبول ملاقات سے پہلے آپ نے کتنی مرتبہ اپنے بلاگ پر فلسطین کے بارے میں کیا کچھ لکھا ہے؟ لنکس فراہم کریں۔

اردو میں افسوس صرف ایک مرتبہ۔ فلسطینی حقِ واپسی کے بارے میں عام پاکستانی خیالات میں مجھے منافقت نظر آتی ہے۔ انگریزی میں پچھلے سال فرائڈے ٹائمز میں ایک مضمون لکھا تھا۔ جو دستیاب نہیں ہے۔ لیکن اس بلاگ پر اس کے چند اقتباسات ہیں۔

* * *
اسرائیل سے مذاکرات نہ کرنے سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں؟ یا امت مسلمہ کو کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں یا فلسطینیوں کو کیا فائدے حاصل ہوسکتے ہیں؟

اسرائیل سے مزاکرات نہ کرنے سے پاکستان، امّت یا فلسطینیوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ الٹا پاکستان کے دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع ملے گا (اور ملتا ہے) کہ یہ لوگ ساتویں صدی سے آگے سوچ ہی نہیں پاتے۔

* * *
آپ ذاتی طور پر کتنے اسرائیلیوں کو جانتے ہیں؟

تین۔ اس کے علاوہ کئی امریکی یہودیوں کو بھی جانتا ہوں، اکثر کو دوست بھی سمجھتا ہوں۔

* * *
اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے اور اسرائیلی نقطہ نظر کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

اسرائیل اور فلسطینی تاریخ پر میں نے کئی کتابیں پڑھی ہیں۔ جن میں اسرائیلی اور فلسطینی، دونوں فریقین کے نقطہِ نظر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اخبارات اور رسائل کا مطالع کرنے کی بھی کوشش کرتا ہوں۔

Monday, August 15, 2005

صبح آزادی

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کبھی نہ کبھی

فیض

جشنِ آزادی مبارک

Tuesday, August 09, 2005

ایک نظم

اے وزرڈ آف ارتھسی سے ایک نظم کا ترجمہ۔
صرف خاموشی میں لفظ،
صرف اندھیرے میں روشنی،
صرف موت میں زندگی۔
روشن عقاب کی پرواز،
خالی آسمان پر۔

Saturday, July 16, 2005

کون سا بہتر ہے؟

اعظمی صاحب کی آج ای۔میل آئی۔ موضوع تھا: کون سا بہتر ہے؟ ترجمہ کچھ یوں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شہزاد تنویر، لندن کا خودکش دہشت گرد، بہت مزہبی تھا۔ اکثر مسجد جایا کرتا تھا۔ اسے لڑکیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔

میرا سترہ سالہ بیٹا شہزاد اعظمی بالکل مزہبی نہیں ہے۔ کبھی مسجد نہیں جاتا۔ اسے لڑکیاں بہت پسند ہیں۔

کون سا شہزاد بہتر ہے؟
ظاہر ہے اعظمی صاحب، آپ کا شہزاد بہتر ہے۔ بس اسے مسجد سے دور رکھیے۔

Tuesday, July 12, 2005

اینجِل: سمائل ٹائم

کچھ دنوں پہلے میں نے اینجِل کے آخری سیزن کی قسط سمائل ٹائم دیکھی۔ جو لوگ شو سے ناواقف ہیں، ان کے لیے یہ کہتا چلوں کہ اینجِل بفی دا ویمپائر سلیئر (میرا پسندیدہ شو!) سے منسلک ہے۔ بفی کا سابقہ بوئےفرینڈ، روح رکھنے والا ویمپائر اینجِل، لوس اینجلس (سٹی اوف اینجلز!) میں دکھی انسانیت کی مدد کرتا ہے۔


سمائل ٹائم کی کہانی نہایت مزاحیہ ہے۔ جادو کے ذریعے اینجِل، لمبا چوڑا طاقتور اینجِل، غلطی سے ایک کٹ پتلی میں تبدیل ہو جاتا ہے! چند سین دیکھ کر تو میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ ایک سین کا ذکر کرتا چلوں: اینجِل اور بھتنا کٹ پتلا لڑائی میں مصروف ہیں۔ کٹ پتلا اینجِل کو تڑی دیتا ہے :میں تمہیں نیا کٹ پتلی سراخ پھاڑ دوں گا، کتیا! (پورے مزے کے لیے اس فقرے کا انگریزی میں ترجمہ کیجیے۔)

بہرحال نہایت عمدہ قسط تھی۔ اس کو ہیوگو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

Saturday, July 09, 2005

خطِ نامنظوری

کل مجھے ایک جانا پہچانا خط ملا۔ جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔

ڈیر مز احمد،

ہمیں اپنا مسوّدہ بھیجنا کا بہت شکریہ۔ مجھے یہ اپنی حالیہ ضروریات کے لیے کچھ ٹھیک نہیں لگا۔

خلوص سے،

سٹینلی شمڈ
مدیر
اس مرتبہ مسٹر شمڈ نے "فارم" خط کا استعمال کیا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد کچھ دیر (یعنی پانچ منٹ کو) میری حالت سالیری جیسی ہوگئی۔ آماڈئیس کے اس سین میں جب وہ اپنا ایمان کھو بیٹھتا ہے۔ اور ایک سلیب کو آگ لگا دیتا ہے۔ ان چند منٹوں کو سٹینلی شمڈ میرے خدا تھے اور مسترد مسوّدہ میری سلیب۔

لیکن پھر جذباتی گھٹا اٹھی۔ سٹینلی شمڈ اب بھی خدا ہیں اور میں نااہل بندہ۔ میری کیا مجال کہ ان سے ناراض ہوں؟ اینالوگ کی جنّت کے لیے کوشش جاری رکھوں گا۔

ویسے تو دا لیفٹ ہینڈ آف ڈارکنس جیسے شاہکار کو ان الفاظ میں رد کیا گیا تھا۔ تمام ناکام اور اناڑی لکھنے والوں کو اس سے تسکین ملتی ہے۔