Tuesday, November 30, 2004

فلسطینی حقِ واپسی

کچھ دنوں پہلے پاکستانی اخبار ڈان نے فلسطینی پناہ گیروں کے حقِ واپسی پر ایک پراثر اداریہ شائع کیا۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد ۱۹۴، انسانی حقوق کے عالمی منشور کی دفعہ ۱۳(۲)، اور چوتھی جنیوا کنونشن ہر پناہ گیر کو اپنے وطن لوٹنے کا حق دیتیں ہیں۔ اگر بینالاقوامی قانون کی دنیا میں کوئی حیثیت ہے تو حقِ واپسی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ لیکن کیا پاکستانی اخبار میں ایسی بات ہونے سے منافقت کی بو نہیں آتی؟

میرے والد صاحب کے ایک بچپن کے دوست تقسیم کے وقت اپنے خاندان سمیت پناہ گیر بن گئے تھے۔ ان کی پیدائش سندھ کی ہے اور ان کے آباؤ اجداد صدیوں سے کراچی کے قریب ایک گاؤں میں آباد تھے۔ ۱۹۴۷؁ میں ان کا سارا کنبہ سندھ سے بھاگ کر جےپور آپہنچا۔ آج وہ بےپناہ چاہنے کے باوجود بھی اپنے آبائی گاؤں نہیں جاسکتے۔ کیا ڈان اخبار کے مدیر میرے منہ بولے چچا اور ان کے جیسے لاکھوں ہندؤں کے لیے بھی حقِ واپسی طلب کریں گے؟

تقسیم کے سوال کو چھوڑیے۔ بنگلہ دیش میں جو لاکھوں مہاجرین کی حالتِ زار ہے، کیا اس کے بارے میں ڈان نے کبھی اداریہ لکھا ہے؟ یہ لوگ اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں انہیں شہریت نہیں مل سکتی۔ لیکن کیا پاکستانی حکومت ۱۵ کڑوڑ کی آبادی میں چند لاکھ مہاجرین کو خوش آمدید کہ رہی ہے؟ تو پھر ڈان کے مدیر اسرائیل سے کیوں مطالبہ کر رہے ہیں کے وہ ۶۷ لاکھ کی آبادی میں ۴۰ لاکھ میاجرین کے لیے جگہ بنائے؟

Monday, November 29, 2004

حبّ الوطنی اور مقناطیس

لگتا ہے تمام کا تمام امریکہ حبّ الوطنی کے بخار میں مبتلا ہے۔ ہر دوسری گاڑی پر سٹکر لگا ہے: ہمارے فوجیوں کو سہارا دیں۔ جیسے کہ قاتل فوجیوں کو سہارے کی ضرورت ہے! یہ کوئی عام سٹکر بھی نہیں، بلکہ ربن کی شکل کے مقناطیس ہیں جو کے بغیر کسی نشان کے گاڑی پر باآسانی چپک جاتے ہیں۔



ایبی نے حبّ الوطن گاڑیوں سے بیزار ہو کر ایک نئے مہم کا اعلان کیا۔ آگ کا مقابلہ آگ سے کیا جاتا ہے۔ اسلیے جنگجو سٹکروں کا توڑ امن پسند سٹکروں میں ہے۔ یہ خوبصورت سٹکر ۴ ڈالر کی معمولی قیمت پر آپ کے ہو سکتے ہیں۔ دو ڈیزائن دستیاب ہیں: امن کا بین الاقوامی نشان یا اینیبڈی بٹ بش کی تہریر۔ مقناطیس گاڑی کی کسی بھی سطح پر چپک جاتا ہے اور بارش یا برف سے بھی محفوظ ہے۔

Sunday, November 28, 2004

بیٹ مین

میرا بیٹ مین کا شوق جنون کی حد تک بڑھ چکا ہے۔ بیٹ مین کے کامکس، بیٹ مین کے گرافک ناول، بیٹ مین کے کارٹون: روزانہ ایک آدھ گھنٹا ان کی نذر ہو جاتا ہے۔ جانے کیسا جادو ہے اس کردار میں! بچّے تو سوپرمین کے دیوانے ہوتے ہیں۔ موصوف اڑتے ہیں، خوب طاقتور ہیں، آنکھوں سے موضی شعاعیں مارتے ہیں، اور دل کے بہت اچھے ہیں۔ بھلا بیٹ مین سے کیا مقابلہ؟

بیچارا بروس وین: نہ تو اڑ سکتا ہے، نہ غیرمعمولی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن شاید اس کی انسانیت میں ہی اس کی بےپناہ کشش کا راز ہے۔ عام انسان کا سوپرمین سے کیا تعلق؟اسے زندگی کی تمام دشوارئیوں کا سامنا اپنی ا انسانی صلاحیتوں سے کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے بیٹ مین سے بہتر کیا مشال؟ ایک ایسا آدمی جو اپنی کمزور انسانیت کے باوجود خدائوں سے برابری کرتا ہے۔ اور اکثر ان سے آگے نکل جاتا ہے۔



بیٹ مین سوپر مین کی طرح کوئی بوائے سکاوٹ نہیں۔ اس کے اندر ایک خوفناک تاریکی ہے۔شاید کسی سطح پر اس میں اور اس کے وحشتناک دشمنوں میں اتنا ذیادہ فرق نہیں۔ وہ کیا چیز ہے جو ایک انسان کو خونی قاتل بناتی ہے اور دوسرے کو جرم کا دشمن، جبکہ دونوں ہی کا دماغی توازن عام انسان سے بہت مختلف ہوتا ہے؟ اس معمّے کا نامکمل جواب بیٹ مین میں موجود ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے پاکستان میں دہشت گردی سے اکتا کر ایک نیم حقیقی کہانی لکھی جس کی بنیاد بیٹ مین میں تھی۔ ذرا سوچیے! اگر کوئی پاکستانی بیٹ مین ہوتا جو ہمیں ان وحشیوں سے چھٹکارا دلا سکتا۔ ڈر کر نہیں، پیار اور بات چیت سے نہیں بلکہ ایسی زبان میں جسے دحشت گرد بخوبی سمجھتے ہیں: خوف اور دحشت کی زبان۔

افسوس کہ میرا شاہکار فرائڈےٹائمز میں تو نہ چھپ سکا۔ لیکن انٹرنیٹ سائٹ چوک پر اسے جگہ مل گئی۔

Thursday, November 25, 2004

تھینکسگونگ اور مذہب

اگر مقامی امریکیوں کی نسل کشی کو کچھ دیر کے لیے نظرانداز کیا جائے تو تھینکسگونگ کا تہوار کچھ ایسا برا نہیں۔ ویسے تو ہر تہوار کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہے۔ عید اور کرسمس مذہبی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے دونوں ہی تہوار ملحدین (یعنی لامذہب یا غلط مذہب پر یۡقین رکھنے والوں) کو باہر کر دیتے ہیں۔ بکرا عید پر تقوی کے نام پر جانوروں کا قتلِ عام ہوتا ہے اور معصوم بچّوں کو ظلم اور تشدّد کا سبق دیا جاتا ہے۔ یوم آزادی مناتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ تقسیم کے وقت کیا کیا مظالم ڈھائے گئے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

تھینکسگونگ شاید ان مثائل سے پاک ہے۔ اس سے بہتر کیا تہوار ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کی تمام نعمتوں پر شکرگزار ہو سکے اور لمبی چوڑی دعوت اڑا سکے؟ لیکن یہ صرف میری خوش فہمی تھی۔ تھینکسگونگ کو بھی مذہب کی دیمک لگی ہوئی ہے۔

جیسے ہی کھانے کا وقت ہوا، ایبی کے سوتیلے والد نے اعلان کیا کہ دعا کی جائے۔ تمام بھوکے مہمانوں نے ادباً سر جھکائے اور ایک آواز سے مٹرنے لگے: اس کھانے کو برکت دے اور ہماری زندگیوں کو اپنی خدمت میں منظور کر ، ہم تجھ سے عیسی کے نام پر مانگتے ہیں، آمین۔

بس جناب، جیسے ہی خدمت کا ذکر ہوا، میری ہنسی چھوٹ گئی۔ بڑی مشکل سے اپنے اوپر قابو پایا۔ کمال ہے، اکیسویں صدی شروع ہو چکی ہے، پہلی دنیا کا جدید ملک ہے اور پڑھے لکھے لوگ حضرت عیسیٔ کے نام پر کھانا طلب کر رہے ہیں! جی چاہتا ہے کہ کینیڈا یا یورپ چلا جائوں۔ آخر کہیں تو جہالت سے چھٹکارا ملے۔ یا پھر کوئی وقت کی مشین ہوجو مجھے سو سال آگے لے جائے۔ شاید تب اس وبا کا خاتمہ ہو چکا ہو۔

Wednesday, November 24, 2004

مثالی مائیں

کبھی کبھار میں پاکستانی اخبار دا فرائیڈے ٹائمز کے لیے مضمون وغیرہ لکھتا ہوں۔ بہت ترقی پسند لوگ ہیں۔ کئ ایسی باتیں جو کہ دوسرے کسی پاکستانی اخبار میں پڑھنے کو نہیں ملتیں وہ فرائڈے ٹائمز والے بلا جھجک چھاپ دیتے ہیں۔ اس ہفتے میں نے "مثالی مائیں" نامی کتاب کے بارے میں ایک مضمون لکھا۔ اتفاق سے کتاب کی مصنفہ میری سگی خالہ ہیں۔ بچوں کی کتاب ہے، اور اس میں ان تاریخی مائوں کا ذکر ہے جنہیں پیاری بجو خالہ "عظیم" سمجھتی ہیں۔

خیال تو برا نہیں۔ مگر افسوس کہ تمام کی تمام مثالی مائوں کی صرف یہ خوبی ہے کہ ان کے بیٹے (یعنی مرد) کوئی بڑے انسان تھے۔ خود ان عورتوں کی اپنی کوئی شناخت نہیں۔ ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد ہے، اور وہ ہے بچوں کو جنم دینا۔

میں نے کہیں یہ لکھ ڈالا کہ اگر عقل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو حضرت محمدؐ کی والدہ حضرت آمنہؓ اور میری اپنی پیاری امی جان میں کتنا فرق ہے؟ میری امی (خدا انہیں لمبی عمر دے) خوش صحت ہیں جبکہ حضرت آمنہؓ کا انتقال حضرت محمدؐ کی چھٹی سالگرہ کے آس پاس ہو گیا تھا۔ میری امی نے اپنی زندگی کے بہترین سال بچوں کی نذر کر دیے، جبکہ حضرت آمنہؓ نے بیٹے کو دائی حلیمہ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت آمنہؓ نے کبھی اسکول کے بعد، تپتی دھوپ میں بندر روڈ پر گاڑی بھی نہیں چلائی۔

فرائڈے ٹائمز کی مدیرہ یہ پڑھ کر ذیادہ خوش نہ ہوئیں۔ کہنے لگیں، ہمیں لگتا ہے کہ آپ کوئی خفیہ جہادی ہیں اور ہمارا دفتر جلوانا چاہتے ہیں! بہرہال، کاٹ پیٹ کر مضمون چھاپ ہی دیا۔ لیکن کچھ بات نہیں بنی۔

جائس کیرل اوٹس سے ایک ملاقات

کل عجب واقعہ پیش آیا۔ معروف مصنفہ جائس کیرل اوٹس نے باسٹن پبلک لائبریری میں اپنی نئ کتاب "دا فالز" سے چند اقتباسات پڑھے۔ یہ ناچیز بھی موجود تھا۔ شام کا وقت تھا۔ ایبی اور میں دفتر سے جلدی اٹھ کر لائبریری پہنچے۔ سخت نیند آرہی تھی۔ جائس کو پڑھتے ہوئے کوئی پانچ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ میری آنکھ لگ گئ۔ پھر جانے کیا ہوا، مت پوچھیں۔ جب ہوش آیا تو حاضرین تالیاں بجا رہے تھے۔ میں نے بھی بھرپور داد دی۔ بعد میں ایبی نے بتایا کہ مجھے سوتے سوتے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ہو گیا تھا!

جائس کیرل اوٹس کے الفاظ سے تو مستفید نہ ہو پایا۔ ان کی کتاب پڑھنےکی کوشش ضرور کروں گا۔

ضیاء کون ہے؟

میں ایک ناکام سائینس فکشن لکھنے والا مصنف ہوں۔ اردو زبان میں شاید سائینس فکشن پڑھنے یا لکھنے کی کوئی خاص روایت نہیں۔ شاید اسی وجہ سے میں انگریزی کے رسائل کے مدیروں سے مایوسکن خطوط وسول کرنے کا عادی ہو گیا ہوں۔

مشہور رسالے "اینلاگ" کے نامور مدیر سٹینلی شمڈ نے میری ایک کہانی "دا ٹریولر" کو خوب سراہا۔ لیکن ان کے خیال سے یہ کہانی کچھ زیادہ ہی ناامیدی کا پیغام رکھتی ہے۔ ان کے پڑھنے والے ایسی کہانیاں پسند کرتے ہیں جن میں روشنی کی ایک نہ ایک کرن ضرور ہو۔ اس کہانی کو آخرکار ایک گھر مل ہی گیا ہے۔

Tuesday, November 23, 2004

ابتدا

ضیاء احمد کا باسٹن سے آداب۔