Wednesday, November 24, 2004

جائس کیرل اوٹس سے ایک ملاقات

کل عجب واقعہ پیش آیا۔ معروف مصنفہ جائس کیرل اوٹس نے باسٹن پبلک لائبریری میں اپنی نئ کتاب "دا فالز" سے چند اقتباسات پڑھے۔ یہ ناچیز بھی موجود تھا۔ شام کا وقت تھا۔ ایبی اور میں دفتر سے جلدی اٹھ کر لائبریری پہنچے۔ سخت نیند آرہی تھی۔ جائس کو پڑھتے ہوئے کوئی پانچ منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ میری آنکھ لگ گئ۔ پھر جانے کیا ہوا، مت پوچھیں۔ جب ہوش آیا تو حاضرین تالیاں بجا رہے تھے۔ میں نے بھی بھرپور داد دی۔ بعد میں ایبی نے بتایا کہ مجھے سوتے سوتے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت ہو گیا تھا!

جائس کیرل اوٹس کے الفاظ سے تو مستفید نہ ہو پایا۔ ان کی کتاب پڑھنےکی کوشش ضرور کروں گا۔