Wednesday, November 24, 2004

مثالی مائیں

کبھی کبھار میں پاکستانی اخبار دا فرائیڈے ٹائمز کے لیے مضمون وغیرہ لکھتا ہوں۔ بہت ترقی پسند لوگ ہیں۔ کئ ایسی باتیں جو کہ دوسرے کسی پاکستانی اخبار میں پڑھنے کو نہیں ملتیں وہ فرائڈے ٹائمز والے بلا جھجک چھاپ دیتے ہیں۔ اس ہفتے میں نے "مثالی مائیں" نامی کتاب کے بارے میں ایک مضمون لکھا۔ اتفاق سے کتاب کی مصنفہ میری سگی خالہ ہیں۔ بچوں کی کتاب ہے، اور اس میں ان تاریخی مائوں کا ذکر ہے جنہیں پیاری بجو خالہ "عظیم" سمجھتی ہیں۔

خیال تو برا نہیں۔ مگر افسوس کہ تمام کی تمام مثالی مائوں کی صرف یہ خوبی ہے کہ ان کے بیٹے (یعنی مرد) کوئی بڑے انسان تھے۔ خود ان عورتوں کی اپنی کوئی شناخت نہیں۔ ان کی زندگی کا صرف ایک مقصد ہے، اور وہ ہے بچوں کو جنم دینا۔

میں نے کہیں یہ لکھ ڈالا کہ اگر عقل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو حضرت محمدؐ کی والدہ حضرت آمنہؓ اور میری اپنی پیاری امی جان میں کتنا فرق ہے؟ میری امی (خدا انہیں لمبی عمر دے) خوش صحت ہیں جبکہ حضرت آمنہؓ کا انتقال حضرت محمدؐ کی چھٹی سالگرہ کے آس پاس ہو گیا تھا۔ میری امی نے اپنی زندگی کے بہترین سال بچوں کی نذر کر دیے، جبکہ حضرت آمنہؓ نے بیٹے کو دائی حلیمہ کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ حضرت آمنہؓ نے کبھی اسکول کے بعد، تپتی دھوپ میں بندر روڈ پر گاڑی بھی نہیں چلائی۔

فرائڈے ٹائمز کی مدیرہ یہ پڑھ کر ذیادہ خوش نہ ہوئیں۔ کہنے لگیں، ہمیں لگتا ہے کہ آپ کوئی خفیہ جہادی ہیں اور ہمارا دفتر جلوانا چاہتے ہیں! بہرہال، کاٹ پیٹ کر مضمون چھاپ ہی دیا۔ لیکن کچھ بات نہیں بنی۔