Thursday, November 25, 2004

تھینکسگونگ اور مذہب

اگر مقامی امریکیوں کی نسل کشی کو کچھ دیر کے لیے نظرانداز کیا جائے تو تھینکسگونگ کا تہوار کچھ ایسا برا نہیں۔ ویسے تو ہر تہوار کا کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہے۔ عید اور کرسمس مذہبی نوعیت رکھتے ہیں، اس لیے دونوں ہی تہوار ملحدین (یعنی لامذہب یا غلط مذہب پر یۡقین رکھنے والوں) کو باہر کر دیتے ہیں۔ بکرا عید پر تقوی کے نام پر جانوروں کا قتلِ عام ہوتا ہے اور معصوم بچّوں کو ظلم اور تشدّد کا سبق دیا جاتا ہے۔ یوم آزادی مناتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ تقسیم کے وقت کیا کیا مظالم ڈھائے گئے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔

تھینکسگونگ شاید ان مثائل سے پاک ہے۔ اس سے بہتر کیا تہوار ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے خاندان کے ساتھ بیٹھ کر زندگی کی تمام نعمتوں پر شکرگزار ہو سکے اور لمبی چوڑی دعوت اڑا سکے؟ لیکن یہ صرف میری خوش فہمی تھی۔ تھینکسگونگ کو بھی مذہب کی دیمک لگی ہوئی ہے۔

جیسے ہی کھانے کا وقت ہوا، ایبی کے سوتیلے والد نے اعلان کیا کہ دعا کی جائے۔ تمام بھوکے مہمانوں نے ادباً سر جھکائے اور ایک آواز سے مٹرنے لگے: اس کھانے کو برکت دے اور ہماری زندگیوں کو اپنی خدمت میں منظور کر ، ہم تجھ سے عیسی کے نام پر مانگتے ہیں، آمین۔

بس جناب، جیسے ہی خدمت کا ذکر ہوا، میری ہنسی چھوٹ گئی۔ بڑی مشکل سے اپنے اوپر قابو پایا۔ کمال ہے، اکیسویں صدی شروع ہو چکی ہے، پہلی دنیا کا جدید ملک ہے اور پڑھے لکھے لوگ حضرت عیسیٔ کے نام پر کھانا طلب کر رہے ہیں! جی چاہتا ہے کہ کینیڈا یا یورپ چلا جائوں۔ آخر کہیں تو جہالت سے چھٹکارا ملے۔ یا پھر کوئی وقت کی مشین ہوجو مجھے سو سال آگے لے جائے۔ شاید تب اس وبا کا خاتمہ ہو چکا ہو۔