Sunday, November 28, 2004

بیٹ مین

میرا بیٹ مین کا شوق جنون کی حد تک بڑھ چکا ہے۔ بیٹ مین کے کامکس، بیٹ مین کے گرافک ناول، بیٹ مین کے کارٹون: روزانہ ایک آدھ گھنٹا ان کی نذر ہو جاتا ہے۔ جانے کیسا جادو ہے اس کردار میں! بچّے تو سوپرمین کے دیوانے ہوتے ہیں۔ موصوف اڑتے ہیں، خوب طاقتور ہیں، آنکھوں سے موضی شعاعیں مارتے ہیں، اور دل کے بہت اچھے ہیں۔ بھلا بیٹ مین سے کیا مقابلہ؟

بیچارا بروس وین: نہ تو اڑ سکتا ہے، نہ غیرمعمولی طاقت رکھتا ہے۔ لیکن شاید اس کی انسانیت میں ہی اس کی بےپناہ کشش کا راز ہے۔ عام انسان کا سوپرمین سے کیا تعلق؟اسے زندگی کی تمام دشوارئیوں کا سامنا اپنی ا انسانی صلاحیتوں سے کرنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے بیٹ مین سے بہتر کیا مشال؟ ایک ایسا آدمی جو اپنی کمزور انسانیت کے باوجود خدائوں سے برابری کرتا ہے۔ اور اکثر ان سے آگے نکل جاتا ہے۔



بیٹ مین سوپر مین کی طرح کوئی بوائے سکاوٹ نہیں۔ اس کے اندر ایک خوفناک تاریکی ہے۔شاید کسی سطح پر اس میں اور اس کے وحشتناک دشمنوں میں اتنا ذیادہ فرق نہیں۔ وہ کیا چیز ہے جو ایک انسان کو خونی قاتل بناتی ہے اور دوسرے کو جرم کا دشمن، جبکہ دونوں ہی کا دماغی توازن عام انسان سے بہت مختلف ہوتا ہے؟ اس معمّے کا نامکمل جواب بیٹ مین میں موجود ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے پاکستان میں دہشت گردی سے اکتا کر ایک نیم حقیقی کہانی لکھی جس کی بنیاد بیٹ مین میں تھی۔ ذرا سوچیے! اگر کوئی پاکستانی بیٹ مین ہوتا جو ہمیں ان وحشیوں سے چھٹکارا دلا سکتا۔ ڈر کر نہیں، پیار اور بات چیت سے نہیں بلکہ ایسی زبان میں جسے دحشت گرد بخوبی سمجھتے ہیں: خوف اور دحشت کی زبان۔

افسوس کہ میرا شاہکار فرائڈےٹائمز میں تو نہ چھپ سکا۔ لیکن انٹرنیٹ سائٹ چوک پر اسے جگہ مل گئی۔