Wednesday, December 22, 2004

یو این

بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ایبی کو یو این میں نوکری مل گئی! پچھلے سال اس نے مقابلے کے امتحان میں حصّہ لیا تھا۔ ایک سال کے بعد جاکر کامیابی کی خبر ملی اور انٹرویو کے لیے نیو یارک کا بلاوا آیا۔ اس کے ڈیڑھ مہینے بعد آج ویب سائٹ پر نتائج کا اعلان ہوا۔ اتنے انتظار اور تحمّل کا عمدہ صلح ملا۔

سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ اگر ایک تنظیم کو ملازمین کے چناؤ میں سال سے زیادہ کی مدّت درکار ہے تو وہ دنیا کے اہم مسائل حل کرنے میں کتنی موئثر ثابت ہوگی؟ یو این کو تو سنگین ترین حالات کا سامنا پڑتا ہے۔ قحت، جنگ، نسل کشی وغیرہ۔ امّید ہے کہ ایسی صورتوں میں تیزی سے کام ہوتا ہوگا۔

ظاہر ہے اتنے سخت مقابلے میں کامیابی حاصل کرنا کوئی عام بات نہیں۔ ہر سال امتحان میں پاس ہونے والوں کی تعداد صرف چند فیصد ہوتی ہے۔ میرا تو سر فخر سے آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ ایک عرصے سے ایبی کا الزام ہے کہ میں اس کے ذریعے اپنے خواب جی رہا ہوں۔ واقعی، مجھے یو این کے مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کا بہت شوق ہے۔ لیکن افسوس کہ پاکستانیوں کے لیے امتحان میں شرکت کئی سالوں سے بند ہے۔ تو اگر ایبی کی کامیابی سے میں بے پناہ مسرّت حاصل کر رہا ہوں تو کوئی ایسی بری بات نہیں۔

Monday, December 20, 2004

حقِ انتخاب

ڈان اخبار والے ہر جمعہ کو مزہبی نوعیت کا ایک مضمون شائع کرتے ہیں۔ جانے کہاں کہاں سے چھانٹ کر جاہل اسلامی ماہرین لاتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا ہے۔ پچھلے جمعہ کے ماہر وہی تھکی ہاری دلیل پیش کر رہے تھے جس کے مطابق اسلام نے عورت کو تمام حقوق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے تھے۔ بھلا مغرب یا جدیدیت سے ہمیں کچھ سیکھنے کی کیا ضرورت؟ ہمیں ان کی فحشی، آزاد خیالی، نسوانی ہم جنسی وغیرہ نہیں چاہیے۔ اس قسم کی جہالت کا میں عادی ہوں اور اس کے خلاف اکثر ڈان کو خط لکھتا رہتا ہوں۔ لیکن اس مضمون میں خصوصا ایسی بات کا ذکر تھا جسے پڑھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ اور وہ ہے عورت کا حقِ انتخاب۔


ظاہر ہے کہ اسلامی ماہر اس حق کے سخت خلاف ہیں۔ بلکہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں اس حق کی موجودگی کو مغرب کی فحشی کا حصّہ سمجھتے ہیں۔ ان سے اتنا نہ ہوا کہ اپنی تنگ ذہنی کا مظاہرہ کرنے سے پہلے کسی ایسی عورت سے گفتگو کر لیتے جسے اسقاطِ حمل کا تجربہ ہو۔ جانے اس کی کیا مجبوری ہوگی؟ اس کے کیا حالات ہوں گے؟ لیکن ظاہر ہے، مزہب تو مرد کی جائیداد ہے اور صرف مرد ہی اسے سمجھ سکتا ہے۔ کسی عورت سے رجوع کرنے کی کیا ضرورت، خواہ اس کی زندگی کا سوال ہی کیوں نہ ہو؟

ذرا دیکھیے، مزہب عورت کو کتنا "حق" دیتا ہے۔ زنا بالجبر کی صورت میں بھی اسے حق نہیں کہ حمل کو ختم کر سکے۔ اگر حمل سے عورت کی زندگی خطرے میں ہو تب بھی اسے مستقبل کی امکانی زندگی کے لیے اپنی زندگی قربان کرنا پڑے گی۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مزہب اور اسلامی زمانہ اسے مجرم قرار دیتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے۔ عورت کا جسم، عورت کی مرضی۔ قاضی اور خدا دونوں کو عورت کے جسم پر کوئی حق نہیں۔ اور یہ فقرہ "اسقاطِ حمل" سراسر جزباتی ہے۔ ترقّی پسند لوگوں کو چاہیے کہ "حقِ انتخاب" کو اپنائیں۔

پچھلی اپریل ایبی اور میں واشنگٹن میں ہونے والے حقِ انتخاب کے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ دس لاکھ کا مجمع تھا۔ میں نے تو اپنی زندگی میں اتنے سارے لوگ ایک جگہ اکٹھے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اتّحاد کا ایسا منظر تھا کہ آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کاش انسانیت ہر نانصافی کے خلاف اسی طرح کھڑی ہو جائے۔

Saturday, December 18, 2004

ارسلا کے لےگوئن کی ناراضگی

لگتا ہے کہ ارتھسی منی سیریز صرف مجھے ہی زہر نہیں لگی۔ اس سلیٹ کے مضمون میں خود مصنّفہ خاصی ناراض ہیں۔

Friday, December 17, 2004

سالگرہ

آج میری سالگرہ ہے۔ اٹھائیس سال کچھ زیادہ ہی عمر ہوتی ہے! خیر پھر بھی تیس سے کم ہے۔ میرے پاس کرنے کو کوئی گہری بات نہیں اسلیے اپنے تمام تحائف کی فہرست بنا رہا ہوں۔


* دا ڈارک نائٹ ریٹرنز۔ فرینک مِلر
* سپلنٹر سیل۔ پینڈورا ٹومورو
* پرنس آف پرژیا۔ واریر وِداِن
* لَو، پاورٹی اینڈ وار۔ کرسٹوفر ہچنز
* گفٹس۔ ارسلا کے لاگوئن
* میجک سِیڈز۔ وی ایس نیپال
* تھری ہنڈرڈ۔ فرینک مِلر
* سویٹر
* تین جوڑی موزے

Thursday, December 16, 2004

اے بینڈ ان دا رور

کیا قلم ہے نیپال کا! جادو ہے اس انسان کے ہر لفظ میں۔ پاکستان میں تو لوگوں کو ہر طرف اسلام دشمن سازشیں نظر آتی ہیں اسلیے اس عظیم قلم کی کوئی قدر نہیں۔ نوبیل انعام بھی ان کو اسی مغربی سازش کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ افسوس کیونکہ "اے بینڈ ان دا رور" جیسے ناول کو ہر انگریزی ادب کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔


میں افریقی نہیں۔ کبھی افریقہ نہیں گیا۔ لیکن نیپال نے مجھے گھر بیٹھے پوسٹ کلونیل افریقی ملک کی رنگارنگ تصویر دکھادی۔ ایک ایسے کردار کی آنکھوں سے افریقہ دکھایا جس میں عام انسان کی ہر خامی موجود ہے۔ جزباتی کمزوری، کاہلی، لالچ۔ نیپال کے سلیم میں پڑھنے والا اپنے آپ کو باآسانی دیکھ سکتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو غیرمعمولی حالات میں معمولی زندگی گزارنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے۔ اپنی تمام خامیوں کے باوجود، سلیم کے کردار میں بے پناہ کشش ہے۔ دنیا خواہ جہنّم کیوں نہ بن جائے، سلیم حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔

ظاہر ہے اس نوعیت کی کتاب کے مصنّف کا موازنہ کونریڈ سے کیا جاتا ہے۔ اور واقعی، نیپال کونریڈ کے عقلی وارث ہیں۔ شرمناک بات ہے لیکن مجھے "ہارٹ آف ڈارکنیس" پڑھنے میں کچھ دقّت پیش آئی تھی۔ کونریڈ کمال کے ناولسٹ ظرور تھے لیکن ان کی زبان اتنی آسان نہیں۔ کم ازکم مجھ جیسے جاہل کو تو نیپال کی لکھائی زیادہ قدرتی لگتی ہے۔

اکژ لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے کہ نیپال اچّھے انسان نہیں۔ ان کے کام کے معیار کو ان کی شخصیت کے ترازو میں تولنا چاہیے۔ پال تھرو کی "سر وڈیاز شیڈو" پڑھنے والا کوئی بھی انسان نیپال کو فرشتہ ہرگز نہیں کہے گا۔ بھلا کیا فضولیت ہے! اگر ہر فنکار کے کام پر معیار کا لیبل لگانے سے پہلے اس کے کردار کو کھودا جائے تو شاید کوئی فنکار عظیم نہ کہلائے۔ نیپال واقعی عظیم فنکار ہیں۔ نوبیل کمیٹی کو "اے بینڈ ان دا رور" پڑھ کر انہیں ایک اور انعام دینا چاہیے۔

Wednesday, December 15, 2004

چندہ برائے معیّت

آج ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ایک صاحب میرے پاس آئے اور ایک چھوٹی سی بچّی کی تصویر میرے سامنے لہراتے ہوئے بولے۔ اس غریب بچّی کا انتقال ہو گیا ہے۔ معیّت اور تدفین کے لیے رقم درکار ہے۔ اس لیے میں چندہ جمع کرتا پھر رہا ہوں۔ آپ کچھ مدد کرسکیں تو اچّھا ہو۔ جی تو چاہا کہ چھان بین کروں۔ پوچھوں کہ یہ بچّی کون ہے؟ آپ سے اس کا کیا تعلق ہے؟ کیا لاش کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے؟ لیکن کچھ کہ نہ پایا۔ بٹوا کھولا تو پانچ کے نوٹ سے کم کچھ نہ تھا۔ مجبورا وہی ان صاحب کے ہوالے کردیا۔ وہ جانیں اور ان کا ایمان۔

سائےفائے چینل

اگر کوئی جہنّم ہے تو ایک دن سائےفائے چینل والے اس کے نچلے درجوں میں قیام پزیر ہوں گے۔ ارتھسی جیسے شاہکار کو جو لوگ ایسی گھناؤنی شکل دے سکتے ہیں، ان کی یہی سہی جگہ ہے۔ شاید میری اپنی غلطی ہے کہ بلاوجہ معیار کی طوقع کرتا ہوں۔ خیر کچھ عرصے پہلے جو ڈیون کی منی سیریز دکھائی گئی تھی وہ اتنی بری بھی نہیں تھی۔ بلکہ مجھے تو کافی پسند آئی تھی۔ لیکن ارتھسی کا جو نقشہ کھیچا گیا ہے وہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

کہاں سے شروع کروں؟ نسلی مسئلہ کا تو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ چلیں گیڈ کی سفیدگی رو دھو کر برداشت کی جاسکتی ہے۔ لیکن فضول کی رومانیت مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ کوئی بتائے، نوجوان گیڈ ایک حسین لڑکی کے ساتھ کیوں قلاباضیاں کھاتا پھر رہا ہے؟ گیڈ شکل سے بیس سالہ کیوں لگتا ہے؟ ہمارا خیال تھا کہ روک اسکول بچّوں کی جگہ ہے۔ پھر یہ مردوئے وہاں کیا کر رہے ہیں؟ ایرتھ۔ایکبے کی انگوٹھی کو "ایمیولٹ" بنانے کی کیا ضرورت؟ ٹینار ہنستی مسکراتی زندگی کیوں گزار رہی ہیں؟ کیا پرانی طاقتوں کے پجاری اتنے ہنس منکھ ہوتے ہیں؟ گیڈ کا اصل نام سپیروہاک اور عام نام گیڈ کیوں ہے؟ جیسپرس اتنا بڑا بدمعاش کیسے بن گیا؟ اور سب سے بڑی بات یہ منہوس بادشاہ کون ہے جو دنیا فتح کرتا پھر رہا ہے؟ کیا وہ واقعی روک کے جادوگروں کو اتنی آسانی سے شکست دے سکتا ہے؟

لگتا ہے کہ لکھنے والوں نے ارتھسی کے مرکزی خیال کو بالکل نظرانداز کردیا ہے۔ وہ ٹاؤ کیا جو روائیتی قسم کی نیکی اور بدی میں بٹا ہوا ہو؟ اگر ٹاؤ اور توازن کو ارتھسی سے جدا کردیا جائے تو ایک عام سی تلوار و جادوگری کی کہانی رہ جاتی ہے۔ ایسی کہانی جس میں مرد وحشیوں کی طرح لڑتے ہیں، ذور ذور کی آوازیں نکالتے ہیں، اور جادو صرف تشدّد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عورتیں خوبصورت لگتی ہیں اور مردوں کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہیں۔ آخرکار بڑی تلوار اور طاقتور جادو والا جیت جاتا ہے۔ ختم شد۔

میں نے احتجاجا دوسری قسط دیکھنے سے انکار کر دیا ہے۔

Sunday, December 12, 2004

پاکستانی امریکیوں کی قدامت پسندی

عید سے کچھ عرصے پہلے میرے پاس ایک عجیب سی ای۔میل آئی۔ چاند رات پر ایک میلے کا اعلان تھا۔ میلے پر کھانے، چوڑیوں، مہندی وغیرہ کے سٹال تھے۔ موسیقی کا بھی انتظام تھا۔ غالبا پاکستان سے کچھ موسیقار خاص طور پر آرہے تھے۔ بالکل ایسا نقشہ تھا جیسے کہ کراچی یا لاہور میں چاند رات ہو۔ ای۔میل کی آخری سطر پر لکھا تھا، صرف خواتیں کے لیے۔۔۔

یہ پڑھ کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔ یعنی کمال ہے۔ اکیسویں صدی ہے، امریکہ کی فراخدلانہ ریاست میساچوسیٹس میں یہ اعلان کیا جارہا ہے۔ اور ان قدامت پسند وحشیوں نے اپنی دقیانوسیت کے زہر کو پھیلانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اب تو شہری پاکستان میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ مردوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح علیحدہ رکھا جائے۔

خیر میں نے ایک جوابی ای۔میل بھیج ڈالی جس کا نچوڑ یہ تھا کہ بھلا یہ کس قسم کی دقیانوسی روایت ہے؟ کسی خاتون کا جواب آیا۔ فرمانے لگیں کہ آپ اپنے تنگ ذہن خیالات اپنے آپ تک مہدود رکھیں۔ میں نے جواب دیا کہ جنسی علیحدگی کے خلاف ہونا کوئی تنگ ذہنی نہیں۔ بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ سن کر محترمہ بگڑ گئیں۔ لکھا "وائے ڈونٹ یو شٹ دا فک اپ ناؤ!" ایسی رنگین زبان کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا اسلیے گفتگو اختتام پزیر ہوئی۔

یہی بدقسمتی ہے امریکہ میں مقیم کچھ پاکستانیوں کی۔ ان کا پاکستان اس وقت میں اٹکا ہوا ہے جب وہ وطن چھوڑ آئے تھے۔ وطن کہاں سے کہاں نکل چکا ہے، ان قدامت پسندوں کو خبر نہیں۔ ان کا بس چلے تو یہ تمام عورتوں کو برقعہ پہنا دیں اور سولہ سالہ لڑکیوں کی داڑھی والے متّقی نوجوانوں سے شادی کروادیں۔ ایک طرح سے اچّھا ہے کہ یہ لکیر کے فقیر پاکستان سے باہر ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ اپنے دقیانوسی خیالات امریکہ میں پھیلا کر عام پاکستانیوں کو برا نام دیتے ہیں۔ سب کو سعودی عرب بھجوادینا دینا چاہیے جہاں یہ اپنی جہالت پر کھل کے عمل کرسکیں۔

Saturday, December 11, 2004

ارتھسی

کل سائےفائے چینل پر لیجنڈ آف ارتھسی نامی منی سیریز کا آغاز ہوگا۔ یہ سیریز ارسلا کے لاگوئن کے شاہکار ناولوں پر مبنی ہے۔ سالوں سے یہ ناول میرے پسندیدہ رہیں ہیں۔ آجکل ہیری پاٹر اور جے کے راؤلنگ کے چرچے ہیں۔ لیکن لاگوئن کے تقریبا تیس سال پہلے کے کام میں ہیری پاٹر کے اکثر عنصر نظر آتے ہیں۔ سچّی بات تو یہ ہے کہ ادب کے معروف نقاد ارتھسی کے ناولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔



میں یہ نہیں کہ رہا کہ راؤلنگ کا کام غیرمعیاری ہے۔ بھلا میری کیا مجال! میں نے ان کی تمام کتابیں کئی مرتبہ پڑھی ہوئی ہیں۔ لیکن ذہن میں یہ شبہ اکثر کھڑا ہوتا ہے کہ ہیری پاٹر کی مقبولیت کاراز کافی حد تک پبلشر کی مارکٹنگ کی حکمتِ عملی میں ہے۔ لاگوئن کے ناول زیادہ تخلیقی معیار رکھنے کے باوجود بھی اتنی مقدار میں نہیں بکتے۔ اور یہی پبلشنگ کی دنیا کی افسوسناک حقیقت ہے۔

دا وزرڈ آف ارتھسی ایک ایسے بچّے کی کہانی ہے جو معمولی شروعات سے سربراہ جادوگر کے عہدہ تک جاپہنچتا ہے۔ سب سے منفرد بات یہ ہے کہ گیڈ کا دشمن کوئی سیدھا سادھا انسان یا بھوت نہیں بلکہ اسی کے اندر کی برائی کی علامت ہے۔ یعنی خود گیڈ کا سایا۔ لاگوئن ٹاؤ پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے خیالات ان کے کام میں اکثر نمایاں ہوتے ہیں۔ نیکی اور بدی ایک ہی تصویر کے دو حصّے ہیں۔ عام کہانیوں میں اچھّے اور برے کی تفریق زوروشور سے کی جاتی ہے۔ ارتھسی میں زندگی اتنی سیدھی سادھی نہیں۔

خیر، اب دیکھنا یہ ہے کہ سائےفائے چینل ایک شاہکار کاحلیہ کیسے بگاڑتا ہے۔ آثار کچھ اچھّے نہیں۔ گیڈ سمیت اکثر مرکزی کردار گوری رنگت کے ہیں جبکہ کتابوں میں ارتھسی کے زیادہ تر رہنے والے بھورے ہیں۔ ٹی وی پر خوش شکل خواتین دکھائی دے رہی ہیں جبکہ کتابوں میں حسین دوشیزاؤں کا کوئی ذکر نہیں۔

بہرحال، امّید پر دنیا قائم ہے۔ چند دنوں میں پتا چلے گا کہ سائے فائے چینل والے ارتھسی کے ساتھ کتنا انصاف کر پائے ہیں۔

Thursday, December 09, 2004

گیپ کے اشتہارات اور نسلی تعصّب

ابھی ابھی ایک گیپ کا اشتہار ٹی وی پر دیکھا۔ اتنے سفید لوگ حقیقت میں تو کم ہی نظر آتے ہیں ہالانکہ میں شہر سے کچھ فاصلے پر رہتا ہوں۔ یعنی کمال ہے، افریقی۔امریکی لوگ بھی ان اشتہاروں میں گورے لگتے ہیں! مجھے آئینے میں جاکر غور سے دیکھنا پڑا کہ کہیں بیٹھے بیٹھے میرا رنگ تو نہیں بدل گیا۔ خیر گیپ والے تو صرف اشتہاری مجرم ہیں۔ ایبرکرومبی اینڈ فچ پر تو لمبا چوڑا مقدمہ چلا کیونکہ ان کی اکثر دوکانوں میں ملازمین کے ساتھ تعصّبی برتاؤ کیا جاتا تھا۔

تہزیبِ ضیاع

بھیّا کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔ اب ہمارے قومی مشغلے کا بھرپور مظاہرہ ہوگا، یعنی پیسے کا ضیاع۔

ظاہر سی بات ہے کہ "اسلام" تو سادگی کی تلقین کرتا ہے اور معاشرے کی ہر بری رسم کی طرح شادی بیاہ پر جو دکھلاوے کا بازار گرم ہوتا ہے، اس کا سارا الزام "ہندو ثقافت" پر لگایا جاتا ہے! بہرحال، ثقافت ہندو ہو یا مسلم، اب تو یہ ہماری زندگیوں کا حصّہ بن چکی ہے۔ اور اس زہریلی ثقافت کا تقاضہ ہے کہ عزّت کے نام پر چند سو لوگوں کو لاکھ روپے کے مشروبات پلائے جائیں (شکریہ سپریم کورٹ)۔ ایک آدھ اور لاکھ کپڑوں پر باآسانی صَرف ہوسکتے ہیں۔ لیں جناب، دیکھتے ہی دیکھتے اتنا سب کچھ ایسے مہمانوں کو متاثر کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے جن کی زندگی کا مقصد ہی دوسروں پر تنقید کرنا ہے۔

سیدھی سی بات ہے، ایسے موقع پر سچّی خوشی تو بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ دو عدد پھوپھیاں تو پہلے ہی نالاں ہے۔ ان کی شرکت ناممکن ہے۔ چچا سدا سے ناراضگی کی منڈیر پر کھڑے ہیں۔ باقی رشتہ داروں میں سے کوئی نہ کوئی تو ضرور مسئلہ کھڑا کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خودغرض مہمانوں میں سے کون سب سے زیادہ مزاح کا سامان مہیّح کرتا ہے۔

ایک مسئلہ تو ہل ہوا۔ لڑکی والے مولوی کی غیرحاضری کی شرط پر راضی ہیں۔

Tuesday, December 07, 2004

تصوّر کرو

دنیا میں ایک نبی آچکا۔ کسی اور کی کیا ضرورت؟

تصوّر کرو کہ کوئی جنّت نہیں
آسان ہے اگر کوشش کرو
دوزخ نہیں ہمارے نیچے
اوپر کھلا آسمان
تصوّر کرو کہ تمام لوگ
آج کے لیے جیتے ہیں۔۔۔

تصوّر کرو کہ کوئی ملک نہیں
نہیں ہے اتنا مشکل
کچھ نہیں مارنے یا مرنے کے لیے
اور نہ ہی کوئی مزہب
تصوّر کرو کہ تمام لوگ
امن سے زندگی گزار رہے ہیں۔۔۔

تم کہو گے کہ میں خواب دیکھتا ہوں
لیکن میں اکیلا نہیں
امّید ہے اِک دن تم ہمارے ساتھ ہو گے
اور دنیا ایک ہو گی

تصوّر کرو کہ کوئی جائداد نہیں
پتہ نہیں کہ تم کر پاؤ
نہیں ضرورت لالچ یا بھوک کی
انسانیت کی ایک برادری
تصوّر کرو کہ سب لوگ
آپس میں دنیا بانٹ رہے ہیں۔۔۔

تم کہو گے کہ میں خواب دیکھتا ہوں
لیکن میں اکیلا نہیں
امّید ہے اِک دن تم ہمارے ساتھ ہو گے
اور دنیا ایک ہو گی

جان لینَن

Monday, December 06, 2004

شادی اور مولوی

خوشخبری یہ ہے کہ بھیّا نے شادی کرنے کا اعلان کر دیا ہے! بہت عرصے پہلے ہم دونوں نے تہیّہ کیا تھا کہ ایسے تہوار پر کسی قیمت پر بھی کسی مولوی کو شریک ہونے نہیں دیں گے۔ اب جبکہ اس تہیّہ کا اصل امتحان سر پر ہے، مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ بھیّا اپنے ارادے پر اٹل ہے۔ میں نے اپنی ہونے والی بھابھی آفرین سے بھی بات کی اور لگتا ہے کہ وہ بھی کسی انجان مولوی کی شرکت کے خلاف ہیں۔ اب صرف والدین کو روشنی دکھانے کا مسئلہ باقی ہے۔

بھیّا کی مولوی مخالف تحریک کی اپنی وجوح ہوں گی۔ مجھے تو کئی سطحوں پر مسئلہ ہے۔ اوّل تو یہ کہ شادی دو فریقین کے درمیان کا معاہدہ ہے۔ اس کے بیچ میں خدا کو لانے کی کیا ضرورت؟ دویم، اگر معاشرہ مزہبی دکھلاوے کا طلب گار ہے بھی، تو گھر کا کوئی فرد باآسانی یہ فریضہ پورا کر سکتا ہے۔ ایک جاہل، لچر مولوی کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک اور بات۔ ہم عرب تو نہیں ہیں اور نہ عربی زبان سے کوئی خاص واقفیت رکھتے ہیں۔ پھر یہ شادی کے موقع پر عربی میں ٹر ٹر کیوں کی جاتی ہے جسے کوئی نہیں سمجھتا؟ اس سے کہیں بہتر ہے کے فیض صاحب کی کوئی اچھّی سی نظم پڑھی جائے تاکے مہمان بھی لطف اندوز ہوں اور دولہا اور دلہن اپنے احساسات کا اظہار نظم کے ذریے کر سکیں۔

Saturday, December 04, 2004

وبائے مادہ پرستی

کل میری پیاری ماموں زاد بہن سحر ایک انٹرویو کے لیے باسٹن آئی۔ بہت لائق لڑکی ہے۔ ییل میں نسوانیات سمیت دیگر لبرل آرٹس کی طالبہ ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے، نوکری تو اسے مل گئی۔ ظاہر ہے، کیوں نہ ملتی؟ کمپنی باسٹن میں ہے، اور "کنسلٹنگ" کے شعبے میں مہارت رکھتی ہے۔ لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کی اتنی لائق لڑکی "کنسلٹنگ" یا "اِنوسٹمنٹ بینکاری" کے شعبوں سے آگے نہیں سوچتی۔

سحر گہری سوچ میں گم

مسئلہ صرف سحر کی نوکری کا نہیں ہے۔ نوکری تو اسے کہیں بھی مل سکتی ہے۔ مسئلہ ایک پوری نسل کا ہے جس پر مادہ پرستی کا بھوت چھایا ہوا ہے۔ یہ وبا کوئی نئی نہیں۔ جب میں کالج میں تھا تو اکثر لوگ یہ سن کر برا سا منہ بناتے تھے کہ میں ریاضیات پڑھنے کا خواہشمند ہوں۔ اس وقت بھی ایم۔بی۔اے کا بول بالا تھا۔ جوک در جوک لوگ بزنس اسکول کا رخ کررہے تھے اور ایم۔آئی۔ٹی جیسی جگہ میں بھی سائنس یا انجنیرنگ کے بجائے وال سٹریٹ کی تحزیب رونما ہونے لگی تھی۔

خیر میں نے تو آسان اور درمیانہ راستہ اختیار کیا۔ ایک سافٹویر کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ میرے دوست اسد نے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی اور آج یورپ میں طبیعیات کا ڈاکٹر ہے۔ لیکن راستہ دشوار تھا اور اس کے آگے کے بچّے، جنہوں نے بمشکل کالج گزارا تھا، آج وال سٹریٹ پر اتراتے پھرتے ہیں۔

کاروباری زمانہ ہے، اور ہمارے والدین بھی اسی زمانے کے افراد ہیں۔ بجائے قابلیت اور تعلیم پر ذور دینے کے، آجکل کے والدین بھی پیسے کے پجاری ہیں۔ اور اگر نہیں بھی ہیں تو اپنے گرداگرد کے مادہ پرستوں کے تعنے برداشت نہیں کر پاتے۔ انہیں بھی اپنے بچّوں سے وال سٹریٹ یا سلیکون ویلی کی سونے کی اینٹوں کی توقع ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو دنیا کے سائینسدان، فنکار، مصنف، غرض یہ کہ کوئی بھی تخلیقی کام کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ اگر تمام کالج گریجوئٹ مینیجر یا بینکار یا کنسلٹنٹ بن گئے تو اصلی کام کون کرے گا؟

یہ تو تھی سنجیدہ بات۔ ماموں اور ممانی سحر کی نوکری کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے۔ پیاری ممانی جان ساری رات سحر کی کامیابی کی دعائیں مانگتی رہیں! لگتا ہے کچھ فائدہ ہو ہی گیا۔

Thursday, December 02, 2004

بروس وین: قاتل؟

بیٹ مین کا ایک اصول ہے: تشدّد کا استعمال جائز ہے لیکن ایک انسان کو کسی بھی صورت میں قتل نہیں کیا جاسکتا۔ باوجود اس کے کہ جوکر نے دوسرے رابن جیسن ٹاڈ کو بری طرح جان سے مار دیا تھا، بیٹ مین نے جوکر کو زندہ رہنے دیا۔ یہی اصول ہے جو بیٹ مین کو جوکر جیسے خونیوں سے منفرد کرتا ہے۔ اس اصول کی تقدیس پڑھنے والوں کے ذہنوں پر اس بری طرح چھائی ہوئی ہے کے بروس وین: مرڈرر کا پہلا ورق پلٹنے سے پہلے ہی ہر سچّے مداح کو یقین ہونا چاہیے کہ بروس بے گناہ ہے۔



بروس کی بےگناہی تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ بیٹ مین: مرڈرر کا کمال ایک انوکھے خیال میں ہے۔ آج تک سب سمجھتے آئے ہیں کہ بروس حقیقی انسان ہے اور بیٹ مین صرف ایک نقاب۔ لیکن اگر حالات اس کے بر عکس ہوں تو کیسا رہے، یعنی کہ بیٹ مین حقیقی ہو اور بروس وین صرف ایک نقاب! یہی بروس وین: مرڈرر کا مرکزی خیال ہے۔

ویسے تو ہم سب نقاب پہنتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ بروس کا نقاب مکمل ہے، جسے پہن کر اس کی شخصیت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اصل صلاحیت صرف نقاب پہنّے میں نہیں بلکہ کئی نقاب اس طرح اتارنے چڑھانے میں ہے کہ انسان کی تمام شکلیں ایک دوسرے سے جدا رہیں۔