Saturday, December 04, 2004

وبائے مادہ پرستی

کل میری پیاری ماموں زاد بہن سحر ایک انٹرویو کے لیے باسٹن آئی۔ بہت لائق لڑکی ہے۔ ییل میں نسوانیات سمیت دیگر لبرل آرٹس کی طالبہ ہے۔ بڑی خوشی کی بات ہے، نوکری تو اسے مل گئی۔ ظاہر ہے، کیوں نہ ملتی؟ کمپنی باسٹن میں ہے، اور "کنسلٹنگ" کے شعبے میں مہارت رکھتی ہے۔ لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہے کی اتنی لائق لڑکی "کنسلٹنگ" یا "اِنوسٹمنٹ بینکاری" کے شعبوں سے آگے نہیں سوچتی۔

سحر گہری سوچ میں گم

مسئلہ صرف سحر کی نوکری کا نہیں ہے۔ نوکری تو اسے کہیں بھی مل سکتی ہے۔ مسئلہ ایک پوری نسل کا ہے جس پر مادہ پرستی کا بھوت چھایا ہوا ہے۔ یہ وبا کوئی نئی نہیں۔ جب میں کالج میں تھا تو اکثر لوگ یہ سن کر برا سا منہ بناتے تھے کہ میں ریاضیات پڑھنے کا خواہشمند ہوں۔ اس وقت بھی ایم۔بی۔اے کا بول بالا تھا۔ جوک در جوک لوگ بزنس اسکول کا رخ کررہے تھے اور ایم۔آئی۔ٹی جیسی جگہ میں بھی سائنس یا انجنیرنگ کے بجائے وال سٹریٹ کی تحزیب رونما ہونے لگی تھی۔

خیر میں نے تو آسان اور درمیانہ راستہ اختیار کیا۔ ایک سافٹویر کمپنی میں ملازمت اختیار کر لی۔ میرے دوست اسد نے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی اور آج یورپ میں طبیعیات کا ڈاکٹر ہے۔ لیکن راستہ دشوار تھا اور اس کے آگے کے بچّے، جنہوں نے بمشکل کالج گزارا تھا، آج وال سٹریٹ پر اتراتے پھرتے ہیں۔

کاروباری زمانہ ہے، اور ہمارے والدین بھی اسی زمانے کے افراد ہیں۔ بجائے قابلیت اور تعلیم پر ذور دینے کے، آجکل کے والدین بھی پیسے کے پجاری ہیں۔ اور اگر نہیں بھی ہیں تو اپنے گرداگرد کے مادہ پرستوں کے تعنے برداشت نہیں کر پاتے۔ انہیں بھی اپنے بچّوں سے وال سٹریٹ یا سلیکون ویلی کی سونے کی اینٹوں کی توقع ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو دنیا کے سائینسدان، فنکار، مصنف، غرض یہ کہ کوئی بھی تخلیقی کام کرنے والے کہاں سے آئیں گے؟ اگر تمام کالج گریجوئٹ مینیجر یا بینکار یا کنسلٹنٹ بن گئے تو اصلی کام کون کرے گا؟

یہ تو تھی سنجیدہ بات۔ ماموں اور ممانی سحر کی نوکری کی خبر سن کر بہت خوش ہوئے۔ پیاری ممانی جان ساری رات سحر کی کامیابی کی دعائیں مانگتی رہیں! لگتا ہے کچھ فائدہ ہو ہی گیا۔

تبصرے  (2)

Blogger Asma

Assalamo alaykum w.w!
My first time here , nice blog but I felt due to maybe the font [it's not unicode ... is it?] site's visibility is very slow ! [I hope u understood what i wanted to say:)]!! Well, this materialistic approach is building up in our youth, even in u and me, coz of very profeesional oriented thinkings we've developed lately in our selves ....!

Happy Blogging!
Wassalam n Allah hafiz

2:42 PM  
Blogger ضیا

شکریہ اسماء۔ میں ایک دوسرے فونٹ کا استعمال کر رہا ہوں۔ امید ہے کہ کچھ بہتری ہو گی۔

10:11 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت