Monday, December 06, 2004

شادی اور مولوی

خوشخبری یہ ہے کہ بھیّا نے شادی کرنے کا اعلان کر دیا ہے! بہت عرصے پہلے ہم دونوں نے تہیّہ کیا تھا کہ ایسے تہوار پر کسی قیمت پر بھی کسی مولوی کو شریک ہونے نہیں دیں گے۔ اب جبکہ اس تہیّہ کا اصل امتحان سر پر ہے، مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ بھیّا اپنے ارادے پر اٹل ہے۔ میں نے اپنی ہونے والی بھابھی آفرین سے بھی بات کی اور لگتا ہے کہ وہ بھی کسی انجان مولوی کی شرکت کے خلاف ہیں۔ اب صرف والدین کو روشنی دکھانے کا مسئلہ باقی ہے۔

بھیّا کی مولوی مخالف تحریک کی اپنی وجوح ہوں گی۔ مجھے تو کئی سطحوں پر مسئلہ ہے۔ اوّل تو یہ کہ شادی دو فریقین کے درمیان کا معاہدہ ہے۔ اس کے بیچ میں خدا کو لانے کی کیا ضرورت؟ دویم، اگر معاشرہ مزہبی دکھلاوے کا طلب گار ہے بھی، تو گھر کا کوئی فرد باآسانی یہ فریضہ پورا کر سکتا ہے۔ ایک جاہل، لچر مولوی کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک اور بات۔ ہم عرب تو نہیں ہیں اور نہ عربی زبان سے کوئی خاص واقفیت رکھتے ہیں۔ پھر یہ شادی کے موقع پر عربی میں ٹر ٹر کیوں کی جاتی ہے جسے کوئی نہیں سمجھتا؟ اس سے کہیں بہتر ہے کے فیض صاحب کی کوئی اچھّی سی نظم پڑھی جائے تاکے مہمان بھی لطف اندوز ہوں اور دولہا اور دلہن اپنے احساسات کا اظہار نظم کے ذریے کر سکیں۔