Thursday, December 09, 2004

تہزیبِ ضیاع

بھیّا کی شادی کی تاریخ طے ہوگئی ہے۔ اب ہمارے قومی مشغلے کا بھرپور مظاہرہ ہوگا، یعنی پیسے کا ضیاع۔

ظاہر سی بات ہے کہ "اسلام" تو سادگی کی تلقین کرتا ہے اور معاشرے کی ہر بری رسم کی طرح شادی بیاہ پر جو دکھلاوے کا بازار گرم ہوتا ہے، اس کا سارا الزام "ہندو ثقافت" پر لگایا جاتا ہے! بہرحال، ثقافت ہندو ہو یا مسلم، اب تو یہ ہماری زندگیوں کا حصّہ بن چکی ہے۔ اور اس زہریلی ثقافت کا تقاضہ ہے کہ عزّت کے نام پر چند سو لوگوں کو لاکھ روپے کے مشروبات پلائے جائیں (شکریہ سپریم کورٹ)۔ ایک آدھ اور لاکھ کپڑوں پر باآسانی صَرف ہوسکتے ہیں۔ لیں جناب، دیکھتے ہی دیکھتے اتنا سب کچھ ایسے مہمانوں کو متاثر کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے جن کی زندگی کا مقصد ہی دوسروں پر تنقید کرنا ہے۔

سیدھی سی بات ہے، ایسے موقع پر سچّی خوشی تو بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے۔ دو عدد پھوپھیاں تو پہلے ہی نالاں ہے۔ ان کی شرکت ناممکن ہے۔ چچا سدا سے ناراضگی کی منڈیر پر کھڑے ہیں۔ باقی رشتہ داروں میں سے کوئی نہ کوئی تو ضرور مسئلہ کھڑا کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خودغرض مہمانوں میں سے کون سب سے زیادہ مزاح کا سامان مہیّح کرتا ہے۔

ایک مسئلہ تو ہل ہوا۔ لڑکی والے مولوی کی غیرحاضری کی شرط پر راضی ہیں۔