Saturday, December 11, 2004

ارتھسی

کل سائےفائے چینل پر لیجنڈ آف ارتھسی نامی منی سیریز کا آغاز ہوگا۔ یہ سیریز ارسلا کے لاگوئن کے شاہکار ناولوں پر مبنی ہے۔ سالوں سے یہ ناول میرے پسندیدہ رہیں ہیں۔ آجکل ہیری پاٹر اور جے کے راؤلنگ کے چرچے ہیں۔ لیکن لاگوئن کے تقریبا تیس سال پہلے کے کام میں ہیری پاٹر کے اکثر عنصر نظر آتے ہیں۔ سچّی بات تو یہ ہے کہ ادب کے معروف نقاد ارتھسی کے ناولوں کو ترجیح دیتے ہیں۔



میں یہ نہیں کہ رہا کہ راؤلنگ کا کام غیرمعیاری ہے۔ بھلا میری کیا مجال! میں نے ان کی تمام کتابیں کئی مرتبہ پڑھی ہوئی ہیں۔ لیکن ذہن میں یہ شبہ اکثر کھڑا ہوتا ہے کہ ہیری پاٹر کی مقبولیت کاراز کافی حد تک پبلشر کی مارکٹنگ کی حکمتِ عملی میں ہے۔ لاگوئن کے ناول زیادہ تخلیقی معیار رکھنے کے باوجود بھی اتنی مقدار میں نہیں بکتے۔ اور یہی پبلشنگ کی دنیا کی افسوسناک حقیقت ہے۔

دا وزرڈ آف ارتھسی ایک ایسے بچّے کی کہانی ہے جو معمولی شروعات سے سربراہ جادوگر کے عہدہ تک جاپہنچتا ہے۔ سب سے منفرد بات یہ ہے کہ گیڈ کا دشمن کوئی سیدھا سادھا انسان یا بھوت نہیں بلکہ اسی کے اندر کی برائی کی علامت ہے۔ یعنی خود گیڈ کا سایا۔ لاگوئن ٹاؤ پر یقین رکھتی ہیں اور ان کے خیالات ان کے کام میں اکثر نمایاں ہوتے ہیں۔ نیکی اور بدی ایک ہی تصویر کے دو حصّے ہیں۔ عام کہانیوں میں اچھّے اور برے کی تفریق زوروشور سے کی جاتی ہے۔ ارتھسی میں زندگی اتنی سیدھی سادھی نہیں۔

خیر، اب دیکھنا یہ ہے کہ سائےفائے چینل ایک شاہکار کاحلیہ کیسے بگاڑتا ہے۔ آثار کچھ اچھّے نہیں۔ گیڈ سمیت اکثر مرکزی کردار گوری رنگت کے ہیں جبکہ کتابوں میں ارتھسی کے زیادہ تر رہنے والے بھورے ہیں۔ ٹی وی پر خوش شکل خواتین دکھائی دے رہی ہیں جبکہ کتابوں میں حسین دوشیزاؤں کا کوئی ذکر نہیں۔

بہرحال، امّید پر دنیا قائم ہے۔ چند دنوں میں پتا چلے گا کہ سائے فائے چینل والے ارتھسی کے ساتھ کتنا انصاف کر پائے ہیں۔