Thursday, December 16, 2004

اے بینڈ ان دا رور

کیا قلم ہے نیپال کا! جادو ہے اس انسان کے ہر لفظ میں۔ پاکستان میں تو لوگوں کو ہر طرف اسلام دشمن سازشیں نظر آتی ہیں اسلیے اس عظیم قلم کی کوئی قدر نہیں۔ نوبیل انعام بھی ان کو اسی مغربی سازش کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ افسوس کیونکہ "اے بینڈ ان دا رور" جیسے ناول کو ہر انگریزی ادب کے نصاب میں شامل ہونا چاہیے۔


میں افریقی نہیں۔ کبھی افریقہ نہیں گیا۔ لیکن نیپال نے مجھے گھر بیٹھے پوسٹ کلونیل افریقی ملک کی رنگارنگ تصویر دکھادی۔ ایک ایسے کردار کی آنکھوں سے افریقہ دکھایا جس میں عام انسان کی ہر خامی موجود ہے۔ جزباتی کمزوری، کاہلی، لالچ۔ نیپال کے سلیم میں پڑھنے والا اپنے آپ کو باآسانی دیکھ سکتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو غیرمعمولی حالات میں معمولی زندگی گزارنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے۔ اپنی تمام خامیوں کے باوجود، سلیم کے کردار میں بے پناہ کشش ہے۔ دنیا خواہ جہنّم کیوں نہ بن جائے، سلیم حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔

ظاہر ہے اس نوعیت کی کتاب کے مصنّف کا موازنہ کونریڈ سے کیا جاتا ہے۔ اور واقعی، نیپال کونریڈ کے عقلی وارث ہیں۔ شرمناک بات ہے لیکن مجھے "ہارٹ آف ڈارکنیس" پڑھنے میں کچھ دقّت پیش آئی تھی۔ کونریڈ کمال کے ناولسٹ ظرور تھے لیکن ان کی زبان اتنی آسان نہیں۔ کم ازکم مجھ جیسے جاہل کو تو نیپال کی لکھائی زیادہ قدرتی لگتی ہے۔

اکژ لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے کہ نیپال اچّھے انسان نہیں۔ ان کے کام کے معیار کو ان کی شخصیت کے ترازو میں تولنا چاہیے۔ پال تھرو کی "سر وڈیاز شیڈو" پڑھنے والا کوئی بھی انسان نیپال کو فرشتہ ہرگز نہیں کہے گا۔ بھلا کیا فضولیت ہے! اگر ہر فنکار کے کام پر معیار کا لیبل لگانے سے پہلے اس کے کردار کو کھودا جائے تو شاید کوئی فنکار عظیم نہ کہلائے۔ نیپال واقعی عظیم فنکار ہیں۔ نوبیل کمیٹی کو "اے بینڈ ان دا رور" پڑھ کر انہیں ایک اور انعام دینا چاہیے۔