Wednesday, December 15, 2004

سائےفائے چینل

اگر کوئی جہنّم ہے تو ایک دن سائےفائے چینل والے اس کے نچلے درجوں میں قیام پزیر ہوں گے۔ ارتھسی جیسے شاہکار کو جو لوگ ایسی گھناؤنی شکل دے سکتے ہیں، ان کی یہی سہی جگہ ہے۔ شاید میری اپنی غلطی ہے کہ بلاوجہ معیار کی طوقع کرتا ہوں۔ خیر کچھ عرصے پہلے جو ڈیون کی منی سیریز دکھائی گئی تھی وہ اتنی بری بھی نہیں تھی۔ بلکہ مجھے تو کافی پسند آئی تھی۔ لیکن ارتھسی کا جو نقشہ کھیچا گیا ہے وہ بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

کہاں سے شروع کروں؟ نسلی مسئلہ کا تو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ چلیں گیڈ کی سفیدگی رو دھو کر برداشت کی جاسکتی ہے۔ لیکن فضول کی رومانیت مشکل سے ہضم ہوتی ہے۔ کوئی بتائے، نوجوان گیڈ ایک حسین لڑکی کے ساتھ کیوں قلاباضیاں کھاتا پھر رہا ہے؟ گیڈ شکل سے بیس سالہ کیوں لگتا ہے؟ ہمارا خیال تھا کہ روک اسکول بچّوں کی جگہ ہے۔ پھر یہ مردوئے وہاں کیا کر رہے ہیں؟ ایرتھ۔ایکبے کی انگوٹھی کو "ایمیولٹ" بنانے کی کیا ضرورت؟ ٹینار ہنستی مسکراتی زندگی کیوں گزار رہی ہیں؟ کیا پرانی طاقتوں کے پجاری اتنے ہنس منکھ ہوتے ہیں؟ گیڈ کا اصل نام سپیروہاک اور عام نام گیڈ کیوں ہے؟ جیسپرس اتنا بڑا بدمعاش کیسے بن گیا؟ اور سب سے بڑی بات یہ منہوس بادشاہ کون ہے جو دنیا فتح کرتا پھر رہا ہے؟ کیا وہ واقعی روک کے جادوگروں کو اتنی آسانی سے شکست دے سکتا ہے؟

لگتا ہے کہ لکھنے والوں نے ارتھسی کے مرکزی خیال کو بالکل نظرانداز کردیا ہے۔ وہ ٹاؤ کیا جو روائیتی قسم کی نیکی اور بدی میں بٹا ہوا ہو؟ اگر ٹاؤ اور توازن کو ارتھسی سے جدا کردیا جائے تو ایک عام سی تلوار و جادوگری کی کہانی رہ جاتی ہے۔ ایسی کہانی جس میں مرد وحشیوں کی طرح لڑتے ہیں، ذور ذور کی آوازیں نکالتے ہیں، اور جادو صرف تشدّد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عورتیں خوبصورت لگتی ہیں اور مردوں کے انتظار میں بیٹھی رہتی ہیں۔ آخرکار بڑی تلوار اور طاقتور جادو والا جیت جاتا ہے۔ ختم شد۔

میں نے احتجاجا دوسری قسط دیکھنے سے انکار کر دیا ہے۔