Monday, December 20, 2004

حقِ انتخاب

ڈان اخبار والے ہر جمعہ کو مزہبی نوعیت کا ایک مضمون شائع کرتے ہیں۔ جانے کہاں کہاں سے چھانٹ کر جاہل اسلامی ماہرین لاتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ہوتا ہے۔ پچھلے جمعہ کے ماہر وہی تھکی ہاری دلیل پیش کر رہے تھے جس کے مطابق اسلام نے عورت کو تمام حقوق چودہ سو سال پہلے ہی دے دیے تھے۔ بھلا مغرب یا جدیدیت سے ہمیں کچھ سیکھنے کی کیا ضرورت؟ ہمیں ان کی فحشی، آزاد خیالی، نسوانی ہم جنسی وغیرہ نہیں چاہیے۔ اس قسم کی جہالت کا میں عادی ہوں اور اس کے خلاف اکثر ڈان کو خط لکھتا رہتا ہوں۔ لیکن اس مضمون میں خصوصا ایسی بات کا ذکر تھا جسے پڑھ کر میرا خون کھول اٹھا۔ اور وہ ہے عورت کا حقِ انتخاب۔


ظاہر ہے کہ اسلامی ماہر اس حق کے سخت خلاف ہیں۔ بلکہ امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں اس حق کی موجودگی کو مغرب کی فحشی کا حصّہ سمجھتے ہیں۔ ان سے اتنا نہ ہوا کہ اپنی تنگ ذہنی کا مظاہرہ کرنے سے پہلے کسی ایسی عورت سے گفتگو کر لیتے جسے اسقاطِ حمل کا تجربہ ہو۔ جانے اس کی کیا مجبوری ہوگی؟ اس کے کیا حالات ہوں گے؟ لیکن ظاہر ہے، مزہب تو مرد کی جائیداد ہے اور صرف مرد ہی اسے سمجھ سکتا ہے۔ کسی عورت سے رجوع کرنے کی کیا ضرورت، خواہ اس کی زندگی کا سوال ہی کیوں نہ ہو؟

ذرا دیکھیے، مزہب عورت کو کتنا "حق" دیتا ہے۔ زنا بالجبر کی صورت میں بھی اسے حق نہیں کہ حمل کو ختم کر سکے۔ اگر حمل سے عورت کی زندگی خطرے میں ہو تب بھی اسے مستقبل کی امکانی زندگی کے لیے اپنی زندگی قربان کرنا پڑے گی۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو مزہب اور اسلامی زمانہ اسے مجرم قرار دیتا ہے۔

سیدھی سی بات ہے۔ عورت کا جسم، عورت کی مرضی۔ قاضی اور خدا دونوں کو عورت کے جسم پر کوئی حق نہیں۔ اور یہ فقرہ "اسقاطِ حمل" سراسر جزباتی ہے۔ ترقّی پسند لوگوں کو چاہیے کہ "حقِ انتخاب" کو اپنائیں۔

پچھلی اپریل ایبی اور میں واشنگٹن میں ہونے والے حقِ انتخاب کے مظاہرے میں شریک ہوئے۔ دس لاکھ کا مجمع تھا۔ میں نے تو اپنی زندگی میں اتنے سارے لوگ ایک جگہ اکٹھے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ اتّحاد کا ایسا منظر تھا کہ آنکھوں میں آنسو آگئے۔ کاش انسانیت ہر نانصافی کے خلاف اسی طرح کھڑی ہو جائے۔