Tuesday, January 25, 2005

کارپوریٹ امریکہ کی سنگدلی

آج بڑا افسوسناک دن تھا۔ حال ہی میں آریکل کارپوریشن (جہاں میں ملازم ہوں) نے مخالف کمپنی پیپل سافٹ کو خرید لیا تھا۔ کچھ عرصے سے افواہیں گرم تھیں کہ اکثر ملازمین کو نوکری سے نکال دیا جائے گا تاکہ کاغذ پر یہ سودا منافع بخش لگے۔ پیپل سافٹ کے ملازمین کی تو پچھے ہفتے ہی چھٹّی کردی گئی تھی۔ آج ہماری باری تھی۔

میری ایک ساتھی ملازم تھیں۔ خاصی عمر کی ہوں گی۔ ان کو نکال دیا گیا۔ بیچاری کی بوڑھی والدہ ہیں جو خاصی بیمار رہتی ہیں۔ کام کے ذریعے جو طبّی انشورنس ملتی ہے وہ آج رات ختم ہو جائے گی۔ معیشت کا حال اتنا اچھّا نہیں کہ دوسری نوکری فورا مل جائے۔ بیچاری سخت پریشان تھیں۔ الوداع کہتے ہوئی ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مجھے گلے لگایا۔ پیار کیا۔ کہنے لگیں تم بہت اچھّے لڑکے ہو۔ اپنا خیال رکھنا۔ دیکھنے والوں کے دل ٹوٹ گئے۔

ایسی ترقّی یافتگی کا کیا فائدہ جس کی بنیاد مزدور کی ناخوشی اور مخدوشی ہو؟ یورپ اور ہندوستان میں بھی لوگوں کو نکالا گیا لیکن وہاں کے لیبر قوانین اس نوعیت کے ہیں کہ بڑی سے بڑی کمپنی بھی یک مشت اتنے سارے ملازمین کو فارغ نہیں کرسکتی۔ یہ امریکہ میں ہی مزدور یونیینز اور لیبر قوانین کی کمزوری کی دلیل ہے کہ بغیر کوئی وجہ پیش کیے ملازم کو سڑک پر پھینک دیا جاتا ہے۔ سنگدل کارپوریٹ امریکہ کے لیے منافع انسانی خوشی سے بالاتر ہے۔

Monday, January 24, 2005

بلامزہب نکاح

شادی کی تقریب میں ایک جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ جیسا میں پہلے لکھ چکا ہوں، میری اور بھیّا کی یہ خواہش تھی کہ شادی کے تمام مراحل میں مزہب کا کوئی کردار نہ ہو۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ نکاح عامر ماموں نے پڑھوایا کسی اجنبی داڑھی والے نے نہیں، اور اس خوبی سے پڑھوایا کہ خدا یا اسلام کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ پہلے گواہوں نے نکاح نامے پر دستخت کیے۔ (دو گواہ تھے: میں اور بھابھی کے بھائی) پھر ماموں نے بھابھی اور بھیّا سے تین دفعہ پوچھا کہ کیا ان کو نکاح قبول ہے۔ دونوں کی طرف سے تین مرتبہ حامی ملنے کے بعد انہوں نے کہا مبارک ہو، اور نکاح مکمل ہو گیا۔

بھیّا اور بھابھی نکاح نامے پر دستخت کرتے ہوئے

اس کے بعد معاملے میں کھٹاس پڑگئی۔ ماموں اور بھابھی کے والد کی ملی بھگت سے ایک مختصر سی دعا پڑھی گئی جس میں وہی روایتی بکواس تھی۔ یا اللہ، یا مالک العالمین، اس جوڑے کو سلامت رکھ وغیرہ وغیرہ۔ ایک بہترین لادین رسم پر سخت پانی پھرگیا۔ نہایت کوفت ہوئی۔ تمام شادی کی تصویریں لینے کی ذمہ داری میں نے خود ہی اٹھائی ہوئی تھی۔ احتجاجا میں نے دعا کی کوئی تصویر نہیں لی۔ نہ ہی ہاتھ اٹھائے۔ اب اسے بچکانگی کہیں یا بیوقوفی، ہر انسان کو اپنے خیالات کا اختیار ہے۔


لادینی گواہ
اس کے بعد ایک اور مزہبی موقع آیا۔ رات کو رخصتی کے وقت ایک آواز اٹھی کے قران لائیے، لڑکی اس کے نیچے سے گزرے گی۔ ہم منہ کھولے دیکھتے ہی رہ گئے۔ کچھ تاخیر کے بعد ایک بوسیدہ سا قران دستیاب ہوا اور "لڑکی" اس کے نیچے سے گزری۔ میں نے دوبارہ احتجاجا تصویر نہ کھینچی۔ اس آبرو کے ساتھ کے شاید تصویری تاریخ کی طاقت ماضی کی حقیقت کو بدل ڈالے۔

واپسی

تین ہفتوں کے بعد میں باسٹن واپس پہنچ گیا ہوں۔ جمعہ کے روز واپسی ہوئی اور ہفتے اور اتوار کو شمال مشرقی امریکہ شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں آگیا۔ گھر سے نکلنا تقریبا ناممکن تھا۔ دو فٹ سے ذائد برف پڑی۔ یہ تو خوش قسمتی ہے کہ پرواز صحیح دن پہنچ گئی کیونکہ اتوار کو تو حوائی اڈّہ بھی بند تھا۔

بہت دنوں سے بلاگ نہیں کرپایا۔ بھیّا کی شادی تھی۔ جس کمرے میں والد صاحب کا کمپیوٹر ہے اس میں دو عدد خالائیں مقیم تھیں۔ ان سے کہنا اچّھا نہیں لگا کہ آپ آرام سے سوتی رہیں، میں ذرا ای۔میل اور بلاگ وغیرہ پر ایک نظر ڈال لوں۔ بہرحال، کراچی میں تین ہفتوں اور روایتی شادی سے متعلق اپنے مشاہدات کو رفتہ رفتہ لکھتا چلا جاؤں گا۔ پڑھنے والے ہوشیار ہو جائیں!

Saturday, January 08, 2005

فرائڈے ٹائمز

اس ہفتے کے فرائڈے ٹائمز میں بلاگنگ سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے۔ خیر لکھا تو کافی پہلے تھا، چھپا اب ہے۔ مضمون میں دیگر اردو بلاگز کا بھی ذکر ہے۔ افسوس کہ جب مضمون لکھا تھا تو کنول کے پھول کا وجود میرے علم میں نہ تھا، اسلیے اس کا ذکر نہیں ہے۔

Thursday, January 06, 2005

دین اور دنیا

چند دنوں پہلے ایک زیور فروش کےہاں جانے کا اتّفاق ہوا۔ موصوف پر دین کا جوش بری طرح چھایا ہوا تھا۔ لمبی داڑھی، شرعی پاجامہ، سر پر ٹوپی، ماتھے پر تقوی کا نشان وغیرہ۔ اچھی عمر کے صاحب تھے اور خاندانی کاروبار لگتا تھا۔ ان کے کئی عدد بیٹے بھی دوکان میں ملازم تھے۔ دو باتوں نے حیران کیا۔

اوّل تو صاحب میری والدہ سے اس طرح کترا رہے تھے کہ جیسے کوئی دس سالہ بچّہ لڑکیوں سے شرماتا ہو گا (ویسے پتا نہیں کہ دس سالہ بچّے لڑکیوں سے شرماتے بھی ہیں یا نہیں)۔ آنکھیں ملانا تو دور کی بات، بڑے میاں تو بات بھی کچھ منہ ہی منہ میں کر رہے تھے اور الفاظ کے استعمال میں بھی کنجوسی نمایاں تھی۔

یکایک دوکان کے ملازمین نے بھیڑ لگانی شروع کردی۔ بڑے میاں نے اعلان کیا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اسلیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا، حالانکہ انہوں نے ہمیں وقت دے کر بلایا تھا۔ کوئی خاص ندامت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ لو بھئی لو، ایک صاحب نے وہیں اذان دی اور سب کے سب نماز پڑھنے لگے۔ گھبرا کر امّی اور سحر نے جلدی سے سر ڈھکے۔ اور میں نے ہنسی روکنے کی سر توڑ کوشش کی۔ جماعت، سنّتوں اور طویل دعا کے نعد محترم نے ہمیں پھر عزّت بخشی اور گفتگو کا موقع دیا۔

دو خیال ذہن میں آئے۔ اگر مزہب کی روح کے مطابق ان صاحب کو خواتین سے میل جول کرنا پسند نہیں تو پھر زیورات کی دوکان کھولنے کا مشورہ انہیں کس حکیم نے دیا تھا؟ اور کیا اسلام بری کسٹمر سَروِس کا درس دیتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ کون سا طریقہ ہے کہ دوکاندار گاہک کو بلائے اور پھر عبادت میں لگ جائے؟ اور نادم ہونے کے بجائے اپنے آپ کو بالاتر محسوس کرے۔ ظاہر ہے خدا کی سَروِس کسٹمر سَروِس سے زیادہ ضروری ہے!

سوپرمین کرِپٹَون میں

کافی عرصے سے بلاگ نہیں کر پایا۔ کچھ روز سفر میں گزر گئے (جی ہاں، میں اب ایشیا کے پیرس کراچی میں ہوں!) اور کچھ وقفہ جیٹ لیگ کی نزر ہو گیا۔ اس کے بعد بخار کی باری تھی۔ ویسے تو ڈائل اپ کے ساتھ کاہلی مفت ملتی ہے۔ لیکن آج ہمّت کر کے بلاگ کی طرف نظر اٹھا ہی لی۔

پاکستان میں مقیم بلاگر بہنوں اور بھائیوں سے گستاخی کی معافی چاہتا ہوں لیکن یہاں اردو بلاگر کی موجودگی بالکل ایسی ہے کہ جیسے سوپرمین کرِپٹَون جا پہنچا ہو۔ یا پھر لؤس کی محبّت سے مجبور ہو کر اپنی تمام طاقتیں گوا چکا ہو (جیسا کہ سوپرمین ٹو میں دیکھا گیا)۔ گویا اس میں اور گردا گرد کے لوگوں میں کوئی فرق ہی نہ رہے۔