Thursday, January 06, 2005

دین اور دنیا

چند دنوں پہلے ایک زیور فروش کےہاں جانے کا اتّفاق ہوا۔ موصوف پر دین کا جوش بری طرح چھایا ہوا تھا۔ لمبی داڑھی، شرعی پاجامہ، سر پر ٹوپی، ماتھے پر تقوی کا نشان وغیرہ۔ اچھی عمر کے صاحب تھے اور خاندانی کاروبار لگتا تھا۔ ان کے کئی عدد بیٹے بھی دوکان میں ملازم تھے۔ دو باتوں نے حیران کیا۔

اوّل تو صاحب میری والدہ سے اس طرح کترا رہے تھے کہ جیسے کوئی دس سالہ بچّہ لڑکیوں سے شرماتا ہو گا (ویسے پتا نہیں کہ دس سالہ بچّے لڑکیوں سے شرماتے بھی ہیں یا نہیں)۔ آنکھیں ملانا تو دور کی بات، بڑے میاں تو بات بھی کچھ منہ ہی منہ میں کر رہے تھے اور الفاظ کے استعمال میں بھی کنجوسی نمایاں تھی۔

یکایک دوکان کے ملازمین نے بھیڑ لگانی شروع کردی۔ بڑے میاں نے اعلان کیا کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اسلیے ہمیں انتظار کرنا پڑے گا، حالانکہ انہوں نے ہمیں وقت دے کر بلایا تھا۔ کوئی خاص ندامت کا مظاہرہ بھی نہیں کیا۔ لو بھئی لو، ایک صاحب نے وہیں اذان دی اور سب کے سب نماز پڑھنے لگے۔ گھبرا کر امّی اور سحر نے جلدی سے سر ڈھکے۔ اور میں نے ہنسی روکنے کی سر توڑ کوشش کی۔ جماعت، سنّتوں اور طویل دعا کے نعد محترم نے ہمیں پھر عزّت بخشی اور گفتگو کا موقع دیا۔

دو خیال ذہن میں آئے۔ اگر مزہب کی روح کے مطابق ان صاحب کو خواتین سے میل جول کرنا پسند نہیں تو پھر زیورات کی دوکان کھولنے کا مشورہ انہیں کس حکیم نے دیا تھا؟ اور کیا اسلام بری کسٹمر سَروِس کا درس دیتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ کون سا طریقہ ہے کہ دوکاندار گاہک کو بلائے اور پھر عبادت میں لگ جائے؟ اور نادم ہونے کے بجائے اپنے آپ کو بالاتر محسوس کرے۔ ظاہر ہے خدا کی سَروِس کسٹمر سَروِس سے زیادہ ضروری ہے!

تبصرے  (3)

Blogger Asif

آپ کی مزاح نگاری بہت عمدہ ہے مجھے یہ جملہ بہت پسند آیا: "گھبرا کر امّی اور سحر نے جلدی سے سر ڈھکے۔ اور میں نے ہنسی روکنے "کی سر توڑ کوشش کی۔

اور یہ کہ اسلام گاہک کی بری تواضع کا درس نہیں دیتا۔ ممکن ہے کچھ لوگ اس کی تفہیم میں فرق کریں اور یہ بہرحال ان کا حق بھی ہے۔

8:43 AM  
Blogger Asif

Zia do something to make your comments appear from right to left. You will have to play a little bit with your css. If you dont prefer this (in order to allow correct formatting of english comments), then you may think about allowing some basic html tags in comments like (div, span, p). And you may put a javascript button for the users to align their comments from right to left (or vice versa). I have written a small snippet, and can provide you if you like.

8:48 AM  
Blogger ضیا

شکریہ آصف۔ میں بھی کومینٹ کی اورینٹیشن سے تنگ ہوں۔ اگر ممکن ہو تو جاواسکرپٹ مجھے ای۔میل کر دیجیے۔
(ziadotahmedatgmaildotcom)

2:50 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت