Saturday, January 08, 2005

فرائڈے ٹائمز

اس ہفتے کے فرائڈے ٹائمز میں بلاگنگ سے متعلق ایک مضمون لکھا ہے۔ خیر لکھا تو کافی پہلے تھا، چھپا اب ہے۔ مضمون میں دیگر اردو بلاگز کا بھی ذکر ہے۔ افسوس کہ جب مضمون لکھا تھا تو کنول کے پھول کا وجود میرے علم میں نہ تھا، اسلیے اس کا ذکر نہیں ہے۔

تبصرے  (7)

Blogger Kunwal

بہوت اچھا مضمون آپ نے لکھا ہے۔ فرائڈے ٹائمز کی پرنٹڈ ورژن بھی ہوتی ہے؟ آپ کیا اکثر مضامین لکھتے ہیں؟ میں نے چوک پہ بھی ایک دفعہ آپ کا ایک مضمون پڑھا تھا (لیگل ایلین)۔ وہ بھی کافی اچھا تھا۔

6:59 AM  
Blogger ضیا

شکریہ کنول۔ جی فرائڈے ٹائمز کاغزی شکل میں بھی دستیاب ہے۔ لیکں سنا ہے کہ صرف کراچی اور لاہور میں ملتا ہے۔ میں اکثر ان کے لیے کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔ مگر میرے والدین کے علاوہ پڑھنے والوں کی تعداد خاصی محدود ہے :)

1:24 PM  
Blogger Kunwal

لو جی، اب اچھی طرح سمجھ میں آیا جو آپ نے لکھا تھا۔ آج مجھ سے بھی کسی نے کچھ ایسے ہی سوال پوچھے جیسے آپ کی چھوٹی پھوپھو نے آپ سے کۓ۔ اتنا شوق تھا مجھے اردو لکھنے کا اور میرا دل ہی توڑ دیا۔ اب کچھ عرصہ کے لۓ اردو لکھنا ہی چھوڑ دوں گی۔
آپ کے کمینٹ کا جواب میں یہاں لکھ دیتی ہوں ۔ ہیسے کی جرمن آپ کی اردو کی طرح ہے، یعنی بہوت اچھی :)
میں آسٹریا میں پیدا ہوئی ہوں اسلۓ ہمیشہ سے ہی جرمن بولتی ہوں۔

9:18 PM  
Blogger Asif

ضیاء آپ کسی دوسرے اردو یا انگریزی جریدے میں بھی لکھتے ہیں کیا؟ اور دوسرا یہ بتائیں کہ یہ مضمون بھیجنے اور چھپنے کے درمیں کتنا وقت لگا؟

12:35 PM  
Blogger ضیا

کسی دوسرے چھپے ہوئے اخبار میں تو نہیں لیکن انٹرنیٹ رسالے چوک پر کبھے کبھار کچھ لکھ دیتا ہوں۔
(chowk.com)

رہا سوال لکھنے اور چھپنے کے درمیان کے وقفے کا۔ تو وہ مدیروں کی طبیعت پر منحصر ہے۔ کبھی تو چند دنوں میں چھاپ دیتے ہیں اور کبھی چند مہینوں میں!

4:17 AM  
Blogger ضیا

کنول، چھوٹی پھوپھو والے واقعے کا دوسرا حصّہ بھی آپ کو بتا دوں! جب میں نے ان سے جوابا پوچھا کہ آپ نے اردو کی کتاب آخری دفعہ کب پڑھی تھی تو وہ گہری سوچ میں پڑ گئیں۔ پھر کہنے لگیں۔ 1967 میں، جب میں ایم اے کر رہی تھی!

4:22 AM  
Blogger Asma

آپ نے کیا اب کوئ نئ پوسٹ نہیں لکھلی؟؟؟
محو انتظار
اسما

4:57 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت