Monday, January 24, 2005

بلامزہب نکاح

شادی کی تقریب میں ایک جزوی کامیابی حاصل ہوئی۔ جیسا میں پہلے لکھ چکا ہوں، میری اور بھیّا کی یہ خواہش تھی کہ شادی کے تمام مراحل میں مزہب کا کوئی کردار نہ ہو۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ نکاح عامر ماموں نے پڑھوایا کسی اجنبی داڑھی والے نے نہیں، اور اس خوبی سے پڑھوایا کہ خدا یا اسلام کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ پہلے گواہوں نے نکاح نامے پر دستخت کیے۔ (دو گواہ تھے: میں اور بھابھی کے بھائی) پھر ماموں نے بھابھی اور بھیّا سے تین دفعہ پوچھا کہ کیا ان کو نکاح قبول ہے۔ دونوں کی طرف سے تین مرتبہ حامی ملنے کے بعد انہوں نے کہا مبارک ہو، اور نکاح مکمل ہو گیا۔

بھیّا اور بھابھی نکاح نامے پر دستخت کرتے ہوئے

اس کے بعد معاملے میں کھٹاس پڑگئی۔ ماموں اور بھابھی کے والد کی ملی بھگت سے ایک مختصر سی دعا پڑھی گئی جس میں وہی روایتی بکواس تھی۔ یا اللہ، یا مالک العالمین، اس جوڑے کو سلامت رکھ وغیرہ وغیرہ۔ ایک بہترین لادین رسم پر سخت پانی پھرگیا۔ نہایت کوفت ہوئی۔ تمام شادی کی تصویریں لینے کی ذمہ داری میں نے خود ہی اٹھائی ہوئی تھی۔ احتجاجا میں نے دعا کی کوئی تصویر نہیں لی۔ نہ ہی ہاتھ اٹھائے۔ اب اسے بچکانگی کہیں یا بیوقوفی، ہر انسان کو اپنے خیالات کا اختیار ہے۔


لادینی گواہ
اس کے بعد ایک اور مزہبی موقع آیا۔ رات کو رخصتی کے وقت ایک آواز اٹھی کے قران لائیے، لڑکی اس کے نیچے سے گزرے گی۔ ہم منہ کھولے دیکھتے ہی رہ گئے۔ کچھ تاخیر کے بعد ایک بوسیدہ سا قران دستیاب ہوا اور "لڑکی" اس کے نیچے سے گزری۔ میں نے دوبارہ احتجاجا تصویر نہ کھینچی۔ اس آبرو کے ساتھ کے شاید تصویری تاریخ کی طاقت ماضی کی حقیقت کو بدل ڈالے۔

تبصرے  (6)

Blogger Kunwal

آپ کے بھیّا کی شادی کی مبارک ہو

4:34 PM  
Blogger Asif

بھائی کی شادی مبارک :)

7:52 AM  
Blogger ضیا

شکریہ کنول اور آصف۔

8:44 PM  
Blogger عاطف

ڈئیر ضیا میں نے آپ کے اکثر بلاگ پڑھے ہیں اور میں آپ کی بہت سی باتوں سے متفق بھی ہوں۔ اپنے خیالات کا اظہار کرنا سب سے بڑھی آذادی ہے مگر ایسے خیالات نہٰیں جن سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہو۔ اگر آج کے اس ذمانے میں اسلام کو لوگ اس کی روح کے مطابق فالو نہیں کر رہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کے اسلام میں کوئی خرابی ہے۔ ہاں آپ اس سسٹم کو برا کہہ سکتے ہیں جو نام نہاد اسلام کو فالو کرتا ہے۔
سادہ الفاظ میں میری آپ کے سخت الفاظ "روایتی بکواس تھی۔ یا اللہ، یا مالک العالمین،" ، "بوسیدہ سا قران" سے سخت دل آذاری ہوئی۔ آپ اپنا مقصد اور خیال "ان الفاظ" کو استعمال کیے بخیر بھی واضح کر سکتے تھے۔

9:03 AM  
Anonymous Mehar afshan

Aatif sahab dil azari ki koi baat naheen woh to pahlay hi likhtay hain aik bahkay howay dimag ki choti si khirki or aap aik bahkay howay dimag say is kay ilawa or tawaqa bhi kia ker saktay hain,
waisay Qurane Paak kay nechay say dulhan ya kisi ko bhi guzarwana niri jihalat or bidat hay

5:45 PM  
Anonymous Anonymous

{ilyas qasmy}aap ko shrum aany chhye.aap islam our quran ke bare is truh bate kur te ho.islam ek aalumgir din he.our quran qiamut tuk rehne waly ek mujiza he.tmam aasmany kitabo me tehrif hocho ky he.sirf quran me tehrif nhi hoy.kue ke us ki hifazut ke zimme Aallah tala ne ly he.{Aallah tala aap ko hidayt de}aameen{

11:34 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت