Monday, February 28, 2005

عامر ماموں کی نظم

بہت سالوں پہلے عامر ماموں بحری جہازوں پر کام کیا کرتے تھے۔ جہازی کی زندگی چھوڑے ہوئے ایک مدّت ہوگئی لیکن سمندر سے ان کا عشق برقرار ہے۔ بدقسمتی سے بیچارے لاہور میں رہتے ہیں، لہروں اور نمک کی مہک سے دور۔ جب کبھی کراچی آنا ہوتا ہے تو سمندر کے دیدار کے لیے بیچین رہتے ہیں۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ سی ویو کی حالتِ زار دیکھ کر سمندری عشق کچھ غیر معقول معلوم ہوتا ہے۔

موصوف کا شاعری کا پرانا شوق ہے۔ (بلکہ ناصر کاظمی کا یہ شعر بھی میں نے انہی سے سیکھا تھا۔) سمندر کو دیکھ کر فورا جان میزفیلڈ کی نظم "سی فیور" ادا کرتے ہیں۔ جس پر میں اور بھیّا ان کا خوب مزاق اڑاتے ہیں۔ ایک پھیکا سا ترجمہ پیش ہے۔

میں سمندروں کو لوٹوں گا، تنہا سمندر اور آسماں کو،
اور میں مانگتا ہوں بس ایک اونچا جہاز اور چلنے کے گرد ایک تارا،
اور پہیّے کی ٹھوکر اور ہوا کا گیت اور لہراتے ہوئے سفید بادبان،
اور سمندر کے چہرے پر سرمئی دھند اور پھوٹتی ہوئی سرمئی صبح۔

میں سندروں کو لوٹوں گا، کیونکہ بہتی لہروں کی پکار،
وحشی اور صاف پکار ہے جو جھٹلائی نہیں جاسکتی،
اور میں مانگتا ہوں بس ایک آندھی کا دن اور اڑتے ہوئے بادل،
اور پھکی ہوئی پھوار اور اڑتا ہوا جھاگ اور بگلوں کی چیخ وپکار۔

میں سمندروں کو لوٹوں گا، اس خانہ بدوش زندگی کو،
اس بگلے اور مچھلی کی راہ کو، جہاں ہوا تیز چھری کی مانند ہے،
اور میں مانگتا ہوں بس ایک زندہ دل قصّہ کسی ہنس منکھ ہمسفر سے،
اور ایک خاموش نیند اور میٹھا خواب جب لمبا سفر ختم ہو۔

Friday, February 25, 2005

نمبر چار

مجھے آج پتا چلا کہ میرے عزیز دوست اسد کا ایرڈوش نمبر چار ہے۔ اسد نے ہی کے ساتھ ایک پرچا لکھا ہے۔ ہی نے ڈوناگی کے ساتھ، ڈوناگی نے ہرزوگ کے ساتھ، اور ہرزوگ نے ایرڈوش بقلم خود کے ساتھ ایک پرچہ شائع کیا ہے۔ تفصیلات یہاں اور یہاں دستیاب ہیں۔

ویسے اسد کا جس شعبے سے تعلق ہے وہاں وٹن نمبر کا زیادہ زور ہے۔ ایڈ وٹن ہمارے زمانے کے ذہین ترین انسان ہیں۔ دوسرے سوپرسٹرنگ انقلاب کے بانی ہونا کا سحرا ان کے سر ہے۔ ویسے تو ڈوناگی کے راستے اسد کا وٹن نمبر تین بنتا ہے۔ لیکن عین ممکن ہے کہ اس سے بھی چھوٹا کوئی راستہ ہو۔ سٹرنگ تھیوری کا فرقہ اتنا محدود ہے (اور اسد اس قدر قابل) کہ دو کا وٹن نمبر تو کہیں نہیں گیا!

Tuesday, February 22, 2005

کَیوِن بَیکَن، ایرڈوش اور گرڈل

سِکس ڈگریز آف کَیوِن بَیکَن ایک مشہور کھیل ہے جو جالوں کی طاقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ کھیل کی بنیاد اس غیرالہامی حقیققت میں ہے کہ کسی بھی (امریکی) اداکر کَیوِن بَیکَن سے چھے یا کم اداکاروں کے فاصلے پر ہے۔ یعنی اس اداکار نے کسی اور اداکار کے ساتھ کام کیا ہے، اس اداکار نے بھی کسی اور اداکار کے ساتھ کام کیا ہے وغیرہ۔ بالاخر کسی اداکار نے کیون بیکن کے ساتھ کام کیا ہے۔ ہمارے اداکار اور کیون بیکن کے درمیان اداکاروں کی تعداد اس کا بیکن نمبر کہلاتی ہے۔

اس حقیقت کا ثبوت سمجھنے کے لیے تھوڑی بہت گراف تھیوری کی ضرورت ہے۔ ریاضی کی دنیا میں اس کا متبادل ایرڈوش نمبر ہے۔ پال ایرڈوش ایک مشہور ریاضی دان تھے۔ ان کے چھپے ہوئے پرچوں کی تعداد اس قدر کثیر ہے کہ تقریبا ہر ریاضی دان (اور اکثر دوسرے سائینسدانوں) کا ایرڈوش نمبر آٹھ سے کم ہے۔ (ایک ایڑڈوش نمبر ہونے کی شرط ہے کہ آپ نے ایرڈوش کے ساتھ کوئی پرچہ لکھا ہو۔)

آج میں اس ماہ کے نیویارکر میں آینسٹاین اور گرڈل کے متعلق ایک مضمون پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایرڈوش نمبرز کا خیال آیا۔ معمولی لوگ غیرمعموولی لوگوں سے بہانے بہانے سے ملاپ ڈھونڈتے ہیں! تو میں نے کرٹ گرڈل سے یہ رشتہ نکالا۔ میں نے پروفیسر سیکس سے لاجک اور رکرژن تھیوری سیکھی۔ پروفیسر سیکس پال کوہن کے گریڈ طالب علم تھے۔ کوہن اور گرڈل لاجک کی دنیا میں ہم عصر تھے۔ (بلکہ پروفیسر سیکس بھی گرڈل سے ملے ہوئے ہیں۔) تو لیجے جناب، اس ناچیز کا گرڈل جیسے خدا سے ایک کمزور سا رشتہ نکل آیا۔

Wednesday, February 16, 2005

ناصر کاظمی

دل تو اپنا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے؟

Sunday, February 13, 2005

میٹروپلس کا گمنام سلون

دا ڈارک نائٹ رٹرنز سے اقتباس اور ترجمہ۔
(مصنّف مستقبل میں ایک سلون کا نقشہ بیان کررہے ہیں جہاں مختلف سوپرہیروز جمع ہوکر گزرے ہوئے ماضی کو یاد کرتے ہیں۔)

بارٹینڈر کو دیکھ کر آپ کو پہلا اشارہ ملتا ہے کہ اس جگہ میں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اس کا چہرہ کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ وہ ایک ایسے آدمی کا چھلکا ہے جو بہت کچھ دیکھ چکا ہے۔ ایک ٹوٹا ہوا انسان جس کی آنکھیں سرخ لیزر کی ہیں۔ اس کا ماتھا عجیب ہے جیسے کہ کوئی برفانی تودہ کبھی بھی گرنے والا ہو۔ اس کی جلد سلیٹی پڑ چکی ہے۔
اس کی آواز ایسی ہے کہ گویا کوک کی بوتلیں ایک دروازے کے نیچے پس رہی ہوں۔
اس کا نام جونز ہے۔
وہ کہتا ہے کہ وہ مریخ سے ہے۔
اور اس سے کوئی نہیں کہتا کہ وہ پاگل ہے، بار کا ایک اداس گاہک بھی نہیں۔ یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں۔
سب نے ایسے کام دیکھے اور کرے ہیں جو ناممکن سمجھے جاتے ہیں۔
یہ اس طرح کے لوگ نہیں ہیں جو گاڑیاں اٹھانے یا گولی کی رفتار سے تیز بھاگنے یا ہوا میں اڑنے کے بارے میں ڈینگیں ماریں۔ نہیں، یہ اس طرح کے لوگ نہیں[۔۔۔]

وہ حیرت انگیز کارناموں کی باتیں کرتے ہیں۔ ایک سٹیل کے انسان کی باتیں۔ اور ایک ایمیزون شہزادی کی۔
مگر وہ کبھی اس ظالم کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ جو نہ اڑ سکتا تھا اور نہ اپنے ہاتھوں سے سٹیل موڑ سکتا تھا۔ وہ جو سب کو خوف ذدہ کردیتا اور ہماری بزدلی پر ہنستا تھا۔ نہیں، وہ کبھی اس کا ذکر نہیں کرتے۔

ان میں سے کوئی بھی بیٹ مین کے بارے میں سننا نہیں چاہتا۔
کیا وہ خاموشی سے مار دیا گیا تھا؟ یا کیا اس نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کے لائق نہیں؟
یہ سوال ایک لمہے کو کھڑا ہوتا ہے اور پھر جونز سب کے لیے ایک اور گلاس کا بندوبست کرتا ہے۔

وہ پھر باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پرانے دنوں کی۔ عظیم دنوں کی۔
وہ یاد کرتے ہیں۔
وہ حالات کے بیچوں بیچ تھے۔
پہلے۔
اتنا عرصہ نہیں گزرا۔
جب ہیرو ہوا کرتے تھے۔

Wednesday, February 09, 2005

بیٹ مین بگنز

چند دنوں پہلے میں نے آنی والی فلم بیٹ مین بگنز کا ٹریلر دیکھا۔ اس بلاگ کو پڑھنے والے میرے بیٹ مین کے جنون سے بخوبی واقف ہوں گے۔ پچھلی چند بیٹ مین فلموں کا تجربہ اتنا اچّھا نہیں رہا اس لیے نئی فلم سے میری توقعات کوئی خاص نہیں۔ لیکن دو باتیں مثبت ہیں۔


  1. جوئیل شوماکر جیسے گھٹیا ڈائرکٹر کی چھٹّی کر دی گئی ہے۔ ویسے تو یہ بہت پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ کمال ہے، اس شخص نے بیٹ مین جیسی مضبوط فرینچائز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نئے ڈائریکٹر کِرس نولن ہوں گے۔ جن کی مشہور ممنٹو فلمسازی کا شاہکار ہے۔
  2. ویل کلمر اور جارج کلونی جیسے غیر یقینی بیٹ مینوں کے بعد ایک نیا چہرا بروس وین کا کردار ادا کرے گا: کرسچن بیل، جو ایسا جانا پہچانا نام نہیں۔ مائیکل کیٹن جیسا کام تو شاید نہ کر پائیں لیکن ان سے پھر بھی اچّھی کارکردگی کی توقع ہے۔

اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں وارنر برادرز کے اہلکاروں کو مشورہ دیتا کہ فرینک ملر کو اس فلم میں شامل کریں۔ ان کی بیٹ مین: ائیر ون کا مرکزی خیال بھی بیٹ مین بگنز سے ملتا جلتا ہے۔ یا پھر ٹاڈ مکفارلین۔ حالانکہ سپان کی فلمبندی اتنی خاص نہیں تھی، لیکن پھر بھی کوئی ایسا فنکار جس کا تعلق ڈی۔سی کامکس کی دنیا سے رہا ہو۔

شاید ایک کمرشل فلم سے اتنی امّیدیں وابستہ کرنا فضول ہے۔ اسٹودیو صرف پیسے کی زبان سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک فن کی کیا قدر؟

کیسٹ کہانی

جب میں چھوٹا تھا تو ای۔ایم۔آئی نے آڈیو کیسٹوں پر بچّوں کی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب جبکہ ٹیپ پر کتابیں عام ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں لگتی۔ لیکن اس زمانے میں تو بہت انہونی بات تھی۔ ٹی۔وی کے مشہور اداکار ان کہانیوں میں اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے۔ کہانیاں بھی دنیا بھر کی مقبول ترین تھیں۔ الف لیلی (یعنی سندباد، علی بابا وغیرہ) سے لے کر جیک اینڈ دا بین سٹاک اور سنڈریلا تک۔ اب شاید لوگ یہ پڑھ کر ہنسیں لیکن مجھے تو تمام کی تمام بہت پسند تھیں۔

حال ہی میں میں نے میوزک پاکستان نامی ایک سائٹ دریافت کی ہے جہاں اکثر کیسٹ کہانیاں دستیاب ہیں۔ کل ہی میں سندباد جہازی کے پہلے سفر سے لطف اندوز ہوا ہوں۔

ایک اور بات۔ کہانیوں کے درمیان، شاید خالی جگہ پر کرنے کے لیے، کیسٹ پر بچّوں کے لیے گانے بھی ہوتے تھے۔ ایک گانا میری یادداشت میں ایسا بسا ہوا ہے جیسے کل ہی میرے کانوں پر پڑا ہو۔ گانے کا نام تھا "اکّڑ بکّڑ"۔ یہ دو گینڈوں کی کہانی تھی جو ایک دن چڑیا گھر سے بھاگ کر شہر میں مزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ شروع کا حصّہ تو مجھے یاد نہیں لیکن درمیان کے بند کچھ اس طرح تھے۔ (گینڈے ایک ریسٹورنٹ سے کھاپی چکے ہیں لیکن جیب میں ایک کوڑی نہیں ہے!)

بیرا لے کر بِل جو آیا
دونوں گینڈوں نے غش کھایا
حلوائی بیرے سے بولا
کاٹ کے ان کے تم رکھ لو

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

ہانپتے کانپتے وہاں سے بھاگے
مال روڈ سے تھوڑا آگے
سنیما دیکھ کے گینڈے بولے
کیوں نہ دیکھیں آخری شو

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

ٹکٹوں پر جو ہوئی لڑائی
اتنی دیر میں پولیس بھی آئی
تھانیدار نے سزا سنائی
(اس سے آگے مجھے یاد نہیں)

چڑیا گھر میں رہتے ہیں
ہر دم گاتے رہتے ہیں

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

یہ گانا کیسٹ کہانی نمبر تین میں ہے، سندباد کے سفر کے فورا بعد۔ میں نے میوزک پاکستان والوں کو ای۔میل بھیجی ہے کہ اگر آپ کے پاس کیسٹ موجود ہے تو مہربانی فرما کے اکّڑ بکّڑ کو بھی دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اگر سننے والا چوکس ہو تو سندباد کے آخری دو سیکنڈوں میں اکّڑ بکّڑ کی ابتدا سن سکتا ہے۔

Tuesday, February 08, 2005

بیوٹِفل ڈے

کل اتفاق سے ریڈیو پر یوٹو کا گانا "بیوٹِفل ڈے" سنا۔ عجیب سی کیفیت ہوگئی۔ آخری دفعہ جب میں نے یہ گانا سنا تھا تو 31 اکتوبر 2004 تھی اور مینچسٹر، نیوہیمپشَر میں تیس ہزار کا مجمع تھا۔ جان کیری جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ لوگ "ٹو مور ڈیز" (دو دن اور) کے پرجوش نعرے لگا رہے تھے۔

میں کیری مہم کا ایک ادنی رضاکار تھا۔ اور ادنی رضاکار ہونے کی حیثیت سے میری ذمّہ داری خاصی معمولی تھی۔ یعنی ایک جنگلے پر کھڑے ہوکر دوسرے ادنی لوگوں کی ناکہ بندی کرنا۔ کمال کی بات ہے۔ ذرا سی طاقت انسان کا دماغ خراب کردیتی ہے۔ جنگلے کے ایک طرف میں اور دوسری طرف ایسے لوگ جو مجھ سے گفتگو وغیرہ کرکے دوسری طرف (یعنی کیری کے قریب) آنا چاہ رہے تھے۔ پولیس والے اور دیگر اعلی اہلکار مجھے وقتا فوقتا ہدایات دے رہے تھے۔ کیا شان تھی!

بعد میں کیری صاحب سے ہاتھ ملانے کا موقع ملا۔ ہاتھ تو خیر کیا، ایک انگوٹھا اور دو انگلیاں تھیں۔ پورا ہاتھ تو ایبی کو نصیب ہوا۔ الیکشن سے چند ماہ پہلے میں کیری صاحب کا کوئی خاص مداح نہ تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ بہتر لگنے لگے۔ اور اس دن تو ایسا سحرکن ماحول تھا کہ ہر انسان کو یقین تھا کہ دو دنوں میں یہ شخص صدارتی انتخاب جیت جائے گا۔

دو دن گزر گئے اور وہ شام ایک خواب سا لگنے لگی۔ اب صرف یوٹو اور بیوٹفل ڈے کی حسین یاد باقی ہے۔

Friday, February 04, 2005

انسان اور انسانیت

ووڈرو وِلسَن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں انسانیت سے محبّت تھی مگر انسانوں سے نفرت۔ جب کبھی اپنے اوپر تنقیدی نگاہ ڈالتا ہوں تو صدر وِلسَن سے ملتی جلتی ذہنیت پاتا ہوں۔ انسانیت میں میرا پختہ یقین ہے۔ برادری، خلوص، ہمدردی، اخلاق: یعنی دیگر جزبات و خیالات جنہیں انگریزی میں سالیڈَیرِٹی کہتے ہیں (جس کے اردو میں لغوی معنی اتحاد ہیں لیکن اصل مطلب اتحاد سے کہیں گہرا ہے) میرے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹھیک ہے کہ دنیا کا حال کچھ اتنا اچھا نہیں۔ جنگ، غربت، ناانصافی، ظلم و تشدّد ہر طرف نظر آتے ہیں۔ لیکن دنیا اور انسانیت بہتری کی طرف رواں ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ زمانہِ قدیم میں چنگیز خان جیسے نفیس لوگ لاکھوں کڑوڑوں کا قتل کرکے میٹھی نیند سویا کرتے تھے۔ تیس چالیس سال پہلے امریکہ نے انڈو چائینا میں لاتعداد لوگ مار ڈالے۔ لیکن عوام کے غصّے نے خون کی ہولی کو قائم نہ رہنے دیا۔ پاکستانی فوج نے جو مشرقی پاکستان پر ظلم ڈھائے وہ آج بلوچستان میں نہیں دہرائے جاسکتے۔ بڑی سی بڑی طاقت بھی آج ظلم و تشدّد کا استعمال کرنے سے پہلے بہانے تلاش کرتی ہے (جیسا کہ عراق میں دیکھا جارہا ہے)۔ سیدھی سی بات ہے، حلاکو خان کو بغداد کی اینٹیں بجانے کے لیے "وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" کے بہانے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ کیا یہی انسانیت کی ترقّی کی دلیل نہیں؟

یہ تو تھی بات انسانیت سے محبّت کی۔ اب چلتے ہیں انسانوں سے نفرت کی طرف۔ نفرت تو بہت وزنی لفظ ہے، میرا رویّہ ناپسندیدگی یا کترانے تک جاتا ہے۔ دنیا کی کون سی خامی ہے جو عام انسان میں موجود نہیں؟ (ظاہر ہے میں خود بھی عام انسانوں میں شامل ہوں۔) تنگ ذہنی، تعصب، خود غرضی: یعنی ایسی تمام خصوصیات جو سالیڈَیرِٹی کے مخالف ہیں۔ میں یہاں کسی بڑی بدی کی نہیں بلکہ عام لوگوں کی عام سی برائیوں کی بات کررہا ہوں۔ ہٹلر کے بارے میں تو لاتعداد کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہٹلر تو مرگیا۔ لیکن ان تھکا دینے والی، سخت بور کرنے والی معمولی برائیوں کا کیا کیا جائے جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں؟

Tuesday, February 01, 2005

تعصب

ہمارے معاشرے میں تعصب جس بری طرح سے پھیلا ہوا ہے، کسی حد تک مجھے اس کا اندازہ تھا۔ لیکن مجھے یہ غلط فہمی بھی تھی کہ مہزّب لوگ اپنے تعصبات کی نمائش اپنی ذاتی زندگی میں کرتے ہیں، اجنبیوں کے سامنے نہیں۔ بھیّا کے ولیمے کے روز جو واقعہ پیش آیا وہ اس مناسبت سے قابلِ ذکر ہے۔

میں بھیّا کے سسرابّا (یعنی بھابھی جان کے والد صاحب) سے گفتگو کررہا تھا۔ نہایت نفیس انسان معلوم ہوتے تھے۔ پرانے وقتوں میں میرٹھ میں مقیم تھے۔ جانے میں نے کیا موضوع چھیڑا کہ صاحب فرمانے لگے۔ میاں، میں نے تو اپنے بچّوں کے لیے شادی کے حوالے سے تین ہی شرائط رکھی تھیں۔ "نان مسلم" نہ ہو، شیعہ نہ ہو، اور پنجابی نہ ہو۔

ایسی بزرگ شخصیت کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں کچھ کھسیانہ سا ہوگیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت کو کیسے بتاؤں کہ میری ہونے والی ہمسفر غیرمسلم ہے، میرا بہترین دوست شیعہ ہے، اور میرے دیگر دوستوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اسی وقت ایک بیرا سوپ لے آیا اور خوش قسمتی سے گفتگو اختتام پزیر ہوئی۔

جیسا کہ میں نے کہا، مجھے ان بزرگ کے تعصب پر حیرت نہیں ہوئی۔ تعصب کرنا تو ہمارا قومی مشغلا ہے۔ تعجّب اس بات پر ہے کہ انہوں نے ایک بالکل انجان شخص کو بیٹھے بیٹھے ایسی باتیں کہ ڈالیں جو تہزیبب اور آدابِ گفتگو کے سخت خلاف ہیں۔ کیا معاشرہ اس پستی تک جاپہنچا ہے کہ ہم ذہن کی گندگی کو چھپانے کے بجائے اسے بھری محفل میں اچھالتے پھرتے ہیں؟