Tuesday, February 01, 2005

تعصب

ہمارے معاشرے میں تعصب جس بری طرح سے پھیلا ہوا ہے، کسی حد تک مجھے اس کا اندازہ تھا۔ لیکن مجھے یہ غلط فہمی بھی تھی کہ مہزّب لوگ اپنے تعصبات کی نمائش اپنی ذاتی زندگی میں کرتے ہیں، اجنبیوں کے سامنے نہیں۔ بھیّا کے ولیمے کے روز جو واقعہ پیش آیا وہ اس مناسبت سے قابلِ ذکر ہے۔

میں بھیّا کے سسرابّا (یعنی بھابھی جان کے والد صاحب) سے گفتگو کررہا تھا۔ نہایت نفیس انسان معلوم ہوتے تھے۔ پرانے وقتوں میں میرٹھ میں مقیم تھے۔ جانے میں نے کیا موضوع چھیڑا کہ صاحب فرمانے لگے۔ میاں، میں نے تو اپنے بچّوں کے لیے شادی کے حوالے سے تین ہی شرائط رکھی تھیں۔ "نان مسلم" نہ ہو، شیعہ نہ ہو، اور پنجابی نہ ہو۔

ایسی بزرگ شخصیت کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں کچھ کھسیانہ سا ہوگیا۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ حضرت کو کیسے بتاؤں کہ میری ہونے والی ہمسفر غیرمسلم ہے، میرا بہترین دوست شیعہ ہے، اور میرے دیگر دوستوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ اسی وقت ایک بیرا سوپ لے آیا اور خوش قسمتی سے گفتگو اختتام پزیر ہوئی۔

جیسا کہ میں نے کہا، مجھے ان بزرگ کے تعصب پر حیرت نہیں ہوئی۔ تعصب کرنا تو ہمارا قومی مشغلا ہے۔ تعجّب اس بات پر ہے کہ انہوں نے ایک بالکل انجان شخص کو بیٹھے بیٹھے ایسی باتیں کہ ڈالیں جو تہزیبب اور آدابِ گفتگو کے سخت خلاف ہیں۔ کیا معاشرہ اس پستی تک جاپہنچا ہے کہ ہم ذہن کی گندگی کو چھپانے کے بجائے اسے بھری محفل میں اچھالتے پھرتے ہیں؟

تبصرے  (1)

Blogger الف مقصورہ

دین وعقائد کی بنیاد پر تعصب تو صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر کوئی غلط دین پر ہو یا غلط عقائد رکھتا ہو، تو وہ اپنی اصلاح کر‌سکتا ہے، لیکن رنگ ‌ونسل، علاقے یا قوم کی بنیاد پر تعصب رکھنا تو نہایت جہالت کی بات ہے، کسی نے اپنی نسل، قوم یا آبائی علاقہ اپنی مرضی سے نہیں چنا ہوتا، یہ تو محض مقدرات میں سے ہے۔

8:23 AM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت