Friday, February 04, 2005

انسان اور انسانیت

ووڈرو وِلسَن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہیں انسانیت سے محبّت تھی مگر انسانوں سے نفرت۔ جب کبھی اپنے اوپر تنقیدی نگاہ ڈالتا ہوں تو صدر وِلسَن سے ملتی جلتی ذہنیت پاتا ہوں۔ انسانیت میں میرا پختہ یقین ہے۔ برادری، خلوص، ہمدردی، اخلاق: یعنی دیگر جزبات و خیالات جنہیں انگریزی میں سالیڈَیرِٹی کہتے ہیں (جس کے اردو میں لغوی معنی اتحاد ہیں لیکن اصل مطلب اتحاد سے کہیں گہرا ہے) میرے لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

ٹھیک ہے کہ دنیا کا حال کچھ اتنا اچھا نہیں۔ جنگ، غربت، ناانصافی، ظلم و تشدّد ہر طرف نظر آتے ہیں۔ لیکن دنیا اور انسانیت بہتری کی طرف رواں ہے۔ سیدھی سی بات ہے۔ زمانہِ قدیم میں چنگیز خان جیسے نفیس لوگ لاکھوں کڑوڑوں کا قتل کرکے میٹھی نیند سویا کرتے تھے۔ تیس چالیس سال پہلے امریکہ نے انڈو چائینا میں لاتعداد لوگ مار ڈالے۔ لیکن عوام کے غصّے نے خون کی ہولی کو قائم نہ رہنے دیا۔ پاکستانی فوج نے جو مشرقی پاکستان پر ظلم ڈھائے وہ آج بلوچستان میں نہیں دہرائے جاسکتے۔ بڑی سی بڑی طاقت بھی آج ظلم و تشدّد کا استعمال کرنے سے پہلے بہانے تلاش کرتی ہے (جیسا کہ عراق میں دیکھا جارہا ہے)۔ سیدھی سی بات ہے، حلاکو خان کو بغداد کی اینٹیں بجانے کے لیے "وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں" کے بہانے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ کیا یہی انسانیت کی ترقّی کی دلیل نہیں؟

یہ تو تھی بات انسانیت سے محبّت کی۔ اب چلتے ہیں انسانوں سے نفرت کی طرف۔ نفرت تو بہت وزنی لفظ ہے، میرا رویّہ ناپسندیدگی یا کترانے تک جاتا ہے۔ دنیا کی کون سی خامی ہے جو عام انسان میں موجود نہیں؟ (ظاہر ہے میں خود بھی عام انسانوں میں شامل ہوں۔) تنگ ذہنی، تعصب، خود غرضی: یعنی ایسی تمام خصوصیات جو سالیڈَیرِٹی کے مخالف ہیں۔ میں یہاں کسی بڑی بدی کی نہیں بلکہ عام لوگوں کی عام سی برائیوں کی بات کررہا ہوں۔ ہٹلر کے بارے میں تو لاتعداد کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہٹلر تو مرگیا۔ لیکن ان تھکا دینے والی، سخت بور کرنے والی معمولی برائیوں کا کیا کیا جائے جو ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں؟