Wednesday, February 09, 2005

کیسٹ کہانی

جب میں چھوٹا تھا تو ای۔ایم۔آئی نے آڈیو کیسٹوں پر بچّوں کی کہانیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اب جبکہ ٹیپ پر کتابیں عام ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں لگتی۔ لیکن اس زمانے میں تو بہت انہونی بات تھی۔ ٹی۔وی کے مشہور اداکار ان کہانیوں میں اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے۔ کہانیاں بھی دنیا بھر کی مقبول ترین تھیں۔ الف لیلی (یعنی سندباد، علی بابا وغیرہ) سے لے کر جیک اینڈ دا بین سٹاک اور سنڈریلا تک۔ اب شاید لوگ یہ پڑھ کر ہنسیں لیکن مجھے تو تمام کی تمام بہت پسند تھیں۔

حال ہی میں میں نے میوزک پاکستان نامی ایک سائٹ دریافت کی ہے جہاں اکثر کیسٹ کہانیاں دستیاب ہیں۔ کل ہی میں سندباد جہازی کے پہلے سفر سے لطف اندوز ہوا ہوں۔

ایک اور بات۔ کہانیوں کے درمیان، شاید خالی جگہ پر کرنے کے لیے، کیسٹ پر بچّوں کے لیے گانے بھی ہوتے تھے۔ ایک گانا میری یادداشت میں ایسا بسا ہوا ہے جیسے کل ہی میرے کانوں پر پڑا ہو۔ گانے کا نام تھا "اکّڑ بکّڑ"۔ یہ دو گینڈوں کی کہانی تھی جو ایک دن چڑیا گھر سے بھاگ کر شہر میں مزے اڑاتے پھرتے ہیں۔ شروع کا حصّہ تو مجھے یاد نہیں لیکن درمیان کے بند کچھ اس طرح تھے۔ (گینڈے ایک ریسٹورنٹ سے کھاپی چکے ہیں لیکن جیب میں ایک کوڑی نہیں ہے!)

بیرا لے کر بِل جو آیا
دونوں گینڈوں نے غش کھایا
حلوائی بیرے سے بولا
کاٹ کے ان کے تم رکھ لو

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

ہانپتے کانپتے وہاں سے بھاگے
مال روڈ سے تھوڑا آگے
سنیما دیکھ کے گینڈے بولے
کیوں نہ دیکھیں آخری شو

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

ٹکٹوں پر جو ہوئی لڑائی
اتنی دیر میں پولیس بھی آئی
تھانیدار نے سزا سنائی
(اس سے آگے مجھے یاد نہیں)

چڑیا گھر میں رہتے ہیں
ہر دم گاتے رہتے ہیں

اکّڑ بکّڑ، بم بم بم بم، بم بے بو

یہ گانا کیسٹ کہانی نمبر تین میں ہے، سندباد کے سفر کے فورا بعد۔ میں نے میوزک پاکستان والوں کو ای۔میل بھیجی ہے کہ اگر آپ کے پاس کیسٹ موجود ہے تو مہربانی فرما کے اکّڑ بکّڑ کو بھی دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اگر سننے والا چوکس ہو تو سندباد کے آخری دو سیکنڈوں میں اکّڑ بکّڑ کی ابتدا سن سکتا ہے۔

تبصرے  (4)

Blogger Danial

میں بھی اپنے بچپن میں یہ کہانیاں سنا کرتا تھا بلکہ میں تو جنون کی حد تک دیوانہ تھا۔ احمد نے جب اڑنا سیکھا، ٹارزن، حسن بانو اور حیوان، سنڈریلا، لالچی مچھیرن، جیک اور پھلی کی بیل، دیو کے تین سنہری بال، پودنا پودنی وغیرہ۔ میں اب بھی کبھی کبھی میوزک پاکستان پر جاکر یہ کہانیاں سنتا ہوں۔ میرے بلاگ پر ایک لنک ہے پاکستان پاپولر کلچر ہسٹری کے ایم ایس این گروپ کا وہاں ضرور جائیے۔

9:49 PM  
Blogger ضیا

ڈیر دینیال: پاکستان پاپولر کلچر ہسٹری گروب کا پتہ دینا کا بہت شکریہ! مجھے تمام پوسٹ پڑھنے میں کچھ وقت لگے گا :)

دوسرا سوال: کیا آپ کو اکّڑ بکّڑ کے بول یاد ہیں؟

9:53 PM  
Blogger Nabeel

ڈیر ضیاء

غضب کی یادداشت ہے تمہاری، محض یادداشت کے زور پر گانے کے سارے بول لکھ دیے۔ میں بھی بچپن میں بہت شوق سے کیسٹ کہانی سنتا تھا۔ میں نے جب سے تمہارا بلاگ پڑھا ہے، ہر وقت اکڑبکڑ گنگناتا رہتا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ اگر چڑیا گھر کے گینڈے میرا گانا سن لیں تو وہیں بے ہوش ہو جائیں۔ پچھلے سال میں پاکستان گیا تھا تو میں نے فیروزسنز سے اپنی بیٹی کے لیے کیسٹ کہانی کی دس کیسٹس خریدیں۔ اب نہ جانے میرے کیسٹ پلیر میں کوئی مسئلہ ہے یا فیروزسنز والے میرے ساتھ ہاتھ کر گئے ہیں یہ کیسٹس چل کر نہیں دیتی۔ اب مجھے کوئی ٹکنیک پتا چلی تو میں ضرور اکڑ بکڑ والا گانا تمہیں ڈیجیٹائز کرکے بھیجوں گا۔

نبیل

6:07 AM  
Blogger ضیا

ڈیر نبیل: یہ یادداشت بھی عجب چیز ہے۔ امتحان وغیرہ کا سلسلہ ہو تو مجال ہے کہ پچھلے دن کا پڑھا ہوا یاد آجائے۔ لیکن بچپن کا بیوقوفی کا گانا خوب یاد ہے :)

بھئی اگر آپ کے کیسٹ چل جائیں اور اکّڑ بکّڑ کی ایم۔پی۔3 بن جائے تو میں ساری عمر آپ کا غلام ہوجاؤں گا!! (چلیں ایک آدھ ہفتہ تو کہیں نہیں گیا!)آپ کی بیٹی کتنی عمر کی ہے؟

9:12 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت