Sunday, February 13, 2005

میٹروپلس کا گمنام سلون

دا ڈارک نائٹ رٹرنز سے اقتباس اور ترجمہ۔
(مصنّف مستقبل میں ایک سلون کا نقشہ بیان کررہے ہیں جہاں مختلف سوپرہیروز جمع ہوکر گزرے ہوئے ماضی کو یاد کرتے ہیں۔)

بارٹینڈر کو دیکھ کر آپ کو پہلا اشارہ ملتا ہے کہ اس جگہ میں کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ آپ اس کا چہرہ کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ وہ ایک ایسے آدمی کا چھلکا ہے جو بہت کچھ دیکھ چکا ہے۔ ایک ٹوٹا ہوا انسان جس کی آنکھیں سرخ لیزر کی ہیں۔ اس کا ماتھا عجیب ہے جیسے کہ کوئی برفانی تودہ کبھی بھی گرنے والا ہو۔ اس کی جلد سلیٹی پڑ چکی ہے۔
اس کی آواز ایسی ہے کہ گویا کوک کی بوتلیں ایک دروازے کے نیچے پس رہی ہوں۔
اس کا نام جونز ہے۔
وہ کہتا ہے کہ وہ مریخ سے ہے۔
اور اس سے کوئی نہیں کہتا کہ وہ پاگل ہے، بار کا ایک اداس گاہک بھی نہیں۔ یہ بات ہرگز نہیں ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں۔
سب نے ایسے کام دیکھے اور کرے ہیں جو ناممکن سمجھے جاتے ہیں۔
یہ اس طرح کے لوگ نہیں ہیں جو گاڑیاں اٹھانے یا گولی کی رفتار سے تیز بھاگنے یا ہوا میں اڑنے کے بارے میں ڈینگیں ماریں۔ نہیں، یہ اس طرح کے لوگ نہیں[۔۔۔]

وہ حیرت انگیز کارناموں کی باتیں کرتے ہیں۔ ایک سٹیل کے انسان کی باتیں۔ اور ایک ایمیزون شہزادی کی۔
مگر وہ کبھی اس ظالم کا ذکر نہیں کرتے۔ وہ جو نہ اڑ سکتا تھا اور نہ اپنے ہاتھوں سے سٹیل موڑ سکتا تھا۔ وہ جو سب کو خوف ذدہ کردیتا اور ہماری بزدلی پر ہنستا تھا۔ نہیں، وہ کبھی اس کا ذکر نہیں کرتے۔

ان میں سے کوئی بھی بیٹ مین کے بارے میں سننا نہیں چاہتا۔
کیا وہ خاموشی سے مار دیا گیا تھا؟ یا کیا اس نے فیصلہ کیا کہ ہم اس کے لائق نہیں؟
یہ سوال ایک لمہے کو کھڑا ہوتا ہے اور پھر جونز سب کے لیے ایک اور گلاس کا بندوبست کرتا ہے۔

وہ پھر باتیں کرنے لگتے ہیں۔ پرانے دنوں کی۔ عظیم دنوں کی۔
وہ یاد کرتے ہیں۔
وہ حالات کے بیچوں بیچ تھے۔
پہلے۔
اتنا عرصہ نہیں گزرا۔
جب ہیرو ہوا کرتے تھے۔

تبصرے  (2)

Blogger Danial

خوب ترجمہ کیا ہے جناب۔

8:45 PM  
Blogger Kunwal

کیا آپ ہچہائکر کے کچھ ڈائلوگز کا بھی ترجمہ کر سکتے ہیں کسی وقت؟
:)

6:00 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت