Thursday, March 31, 2005

نام میں کیا رکھا ہے؟

یونیورسٹی آف سنسنیٹی کی باسکٹ بال ٹیم کے ایک کھلاڑی ہیں جن کا نام ہے جہاد محمّد۔ اب سوال یہ کھڑا ہوتا ہے کہ موصوف ہوائی جہاز کا سفر کیسے کرتے ہیں؟

Friday, March 25, 2005

انٹرویو میم

آصف کے ذریعے اس انٹرویو میم میں شامل ہوا ہوں۔ ان کے سوالات اور میرے جوابات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. آپ کو بیٹھے بٹھائے اردو بلاگ بنانے کا شوق کیوں چرایا؟ مثالیں دے کر وا‍ضح کیجئے۔

    جواب نہایت آسان ہے جسے میں ایک لفظ میں دے سکتا ہوں (لیکن دونگا نہیں): احساسِ جرم۔

    حال میں کسی نے نہایت سنگدلی سے مجھ سے پوچھا کہ میاں، اردو لکھنا پڑھنا بھی یاد ہے یا سب بھول بھال گئے ہو؟ سچ ہمیشہ کڑوا لگتا ہے۔ بات ذہن میں اٹک سی گئی۔ پہلے کچھ عرصے کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی مشق کی۔ جب ٹائیپنگ میں روانی ہوگئی تو بلاگ بنانے کا خیال سوجھا۔ نتیجہ سامنے ہے۔

  2. پروفیسر نوم چومسکی جدید امریکی دانشوروں میں انفرادی سوچ کے حامل ہیں۔ مغرب میں حالیہ صنعتی اور اقتصادی نظام کے بارے میں بالخصوص اور باقی دنیا کے نظاموں کے متعلق بالعموم ان کا خیال ہے کہ رفتہ رفتہ یہ فطری آزادیوں کو سلب کر لیتے ہیں۔ چونکہ آپ بھی مغرب میں قیام پذیر ہیں تو آپ کے اس بارے میں کیا تجربات ہیں؟

    پروفیسر چومسکی کبھی کھلم کھلا اقرار تو نہیں کرتے لیکن وہ اینارکو۔سنڈکلزم کے ہامی ہیں۔ یہ وہ نظریہِ حیات ہے جس میں انسان فطری اور باہمی رشتوں میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں، طاقت اور استبدادیت سے پرے۔ جدید کیپِٹلسٹ نظام کے بارے میں میرے خیالات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ خصوصا امریکہ میں مجھے اقتصادی اور تکنیکی ترقّی کے فوائد نظر نہیں آتے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں لوگ سخت غربت کا شکار ہیں۔ لیکن ایسی ترقّی کا کی کیا فائدہ جہاں عام انسان کو مجبورا ہفتے میں پچاس ساٹھ گھنٹے یا دو نوکریوں پر کام کرنا پڑے؟ اصل ترقّی یہ ہے کہ معیشت کی پروڈکشن اس قدر اثر آفرین ہو کہ عام مزدور کو دن میں صرف چھے گھنٹے کام کرنا پڑے۔ یا پھر وہ سال میں ایک مہینے کی چھٹّی لے سکے۔ تاکہ باقی وقت وہ فنونِ لطیفہ یا ادب یا کسی روحانی کام پر صرف کرسکے۔ امریکہ میں یہ چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لوگ اس غیرفطری نظام میں اس بری طرح پھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ انھیں زندگی سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک اینارکسٹ معاشرے میں نفع کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ وہاں لوگ صرف اتنا کام کریں گیں جتنا ضروری ہو یا جس میں ان کا دل ہوگا۔

    پتہ نہیں کہ میں آپ کے سوال کا صحیح جواب دے پایا ہوں یا نہیں۔ لیکن یہ کہتا چلوں کہ اگر پاکستان سے موازنہ کیا جائے تو یہ تمام بحث کتابی سی ہے۔ کم از کم یہاں کے نظام میں انسان کے کام اور قابلیت کی تھوڑی بہت قدر ہے۔ سوچ اور بڑی حد تک عمل کی مکمل آزادی ہے۔ ایسی آزادی کا شعور پاکستان اور دوسری نئی ریاستوں میں نہیں پایا جاتا کیونکہ وہاں حکومت کے آگے فرد کی کوئی حیثیت نہیں۔ حکومت کا مقصد فرد کی بہتری نہیں بلکہ طاقت کا بےجا استعمال ہے۔

  3. کیا آپ کے خیال میں اسلام کے حالیہ فہم کو کسی بنیادی اصلاح و درستگی کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو سب سے اشد کس چیز میں؟

    میں ذاتی طور پر مزہب میں یقین نہیں رکھتا۔ لیکن پاکستانی ہونے کے ناتے اسلام اور اس کی اصلاح کے متعلق نظریات ضرور رکھتا ہوں۔ چند بنیادی باتیں جن سے اسلام اور آجکل کے مسلمان مستفید ہوسکتے ہیں وہ یہ ہیں:

    روداری یا قوتِ برداشت۔ اگر دوسرا انسان آپ کے اصولوں کے خلاف بات کررہا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ آپ اسے چپ کرائیں یا جان سے مارڈالیں۔ یہاں ایک کہاوت قابلِ ذکر ہے جو عموما وولٹیر کے کھاتے میں آتی ہے: میں آپ سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن مرتے دم تک آپ کو اپنی رائے رکھنے کے حق کا دفاع کروں گا۔

    صحیفہ آسمانی کو حرف بحرف پڑھنا۔ انجیل میں کئی جگہ لکھا ہے کہ ہم جنس مردوں کو قتل کردیا جائے، ہفتے کے روز کام کرنے والے کو کڑی سزا دی جائے وغیرہ۔ لیکن آج ایسے عیسائی کم ہی ہوں گے جو واقعی ہفتے کے روز کام کرنے والے کو مارنے نکل کھڑے ہوں۔ اسی طرح مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ گناہ اور ثواب بندے اور خدا کے درمیان ہے۔ اسلیے قران پڑھ کر چور کا ہاتھ کاٹنا یا زانی کو سنگ سار کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ شکر ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام تو نہیں لیکن اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصوّر ضرور ہے کہ حکومت اور قانون کاگناہ کا تعین کرنے میں ہاتھ ہونا چاہیے۔ گستاخیِ رسول کا قانون بھی اسی حرف بحرفی کی ایک مثال ہے۔

    اور ہاں اگر خواتین کو کمتر سمجھنا ترک کردیں تو میں اپنے مسلمان بھائیوں کا نہایت شکر گزار ہوں گا۔

  4. پاکستان کے مستقبل کو آپ کیسا دیکھتے ہیں؟

    میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں نہ تو مایوس ہوں اور نہ پرامّید۔ میرے خیال سے حالات جوں کے توں چلتے رہیں گے۔ امرا امیر ہوتے جائیں گے، غربا غریب۔ بدعنوانی برقرار رہے گی۔ آرمی اور سولین ڈکٹیٹر میوزکل چیرز کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔ مجھ جیسے لوگ جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ سمجھنے کی خوش فہمی کا شکار ہیں اپنے کشادہ ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر لمبی چوڑی تقریریں کرتے رہیں گے۔ عام آدمی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

  5. آپ کو ڈائس پر کھڑا کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنی حسب منشاء کچھ بھی ارشاد فرمائیں۔ ہم ہمہ تن گوش ہیں۔

    (میں آپ سے آپکے پس منظر اور تعلیم کے متعلق پوچھنا چاہتا تھا لیکن سوالات پورے ہوگئے اور ان تمام سوالات میں سے میں کچھ بھی حذف نہیں کرنا چاہتا۔ اگر آپ اضافی طور پر ہمیں بتانا چاہیں تو خوشی ہوگی۔)

    شکریہ آصف کہ آپ نے مجھے بلارکاوٹ بک بک کرنے کا موقع دیا۔ میرے پاس کرنے کو ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے اسلیے آپ کے پسِ منظر اور تعلیم والے سوال کا جواب دیتا چلوں۔ پسِ منظر خاصا بور ہے۔ میں کراچی میں پلا بڑھا ہوں۔ "اے" لیولز تک تعلیم وہیں حاصل کی۔ اس کے بعد امریکہ چلا آیا، جہاں کمپیوٹر سائنس میں جعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک سافٹویر کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔

اگر پڑھنے والے اس میم میں شریک ہونا چاہیں تو تبصرہ کر کے مجھے آگاہ کردیں۔ ان کے لیے پانچ عدد وسال تیار کیے جائیں گے جن کے جواب ان کو اپنے بلاگ پر دینے ہوں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو ابھی اتنی عام نہیں ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی سے بھی واقف ہوں۔ اسلیے سوالات اردو یا انگریزی دونوں میں کیے جاسکتے ہیں۔

Saturday, March 19, 2005

خاتون کی امامت

کالج کے پہلے سال کے رمضان میں میں باقاعدگی سے مغرب کے وقت مسجد جایا کرتا تھا۔ شہر کے متّقی مسلمان مفت افتار اور کھانے کا بندوبست کرتے تھے۔ اور مفت کھانے کی رشوت ایک غریب طالب علم کو ایک وقت نماز پڑھوانے کے لیے کافی تھی۔ اس وقت مجھے ایک بات سخت کھٹکتی تھی۔ مسجد تک تو میں اور میری دوست نادیہ ساتھ جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ایک چھوٹے دروازے کے ذریعے عورتوں کے احاطے میں داخل ہوجاتی۔ اور پھر ہماری ملاقات نماز اور کھانے کے بعد ہوتی۔ اس دوران مسجد میں تمام عورتیں چھپی ہوئی، مردوں کی گندی نظروں سے اوجھل، اپنی جگہ بیٹھی رہتیں۔

اس رمضان کے بعد پچھلے سال ایک مسجد پھر جانا ہوا۔ اخبار کے سلسلے میں ایک (مسلمان!) صاحب کا انٹرویو لینا تھا اور ان کا اصرار تھا کہ مسجد میں ملا جائے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو مجبورا مجھے بھی نمازیوں کے ساتھ شامل ہونا پڑا۔ اس مسجد میں بھی ماجرا ویسا ہی تھا۔ یعنی خواتین ڈھکی چھپی اپنے احاطے تک محدود تھیں۔ مسجد والے اپنے آپ کو جدّت پسند تصوّر کرتے تھے۔ نماز کے بعد ایک سوال جواب اور دینی مباحثے کا سلسلہ ہوا لیکن ایک بار پھر خواتین اس میں شامل نہ تھیں۔ چڑ تو مجھے بہت آئی لیکن سوچا، میں کون سا نمازی وغیرہ ہوں جو دوسرے لوگوں کو ان کے مزہب کے بارے میں ٹوک سکوں؟

بہر حال، پچھلے ہفتے ایک خبر دیکھنے میں آئی کہ نیویارک میں نماز ادا کی جائے گی جہاں ایک خاتون امامت کریں گی۔ دل بہت خوش ہوا۔ اسلام کو ایسے ہی نڈر اور اصول پرست لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو دائیں بازو کے جہلا کی ٹھیکےداری کا بےخوف سامنا کرسکیں۔ میں نے آسرا نومانی کو جھٹ ای۔میل بھیج ڈالی کہ اپنی تحریک کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ باسٹن آئیں تاکہ مجھ جیسا گناہگار ایک خاتون کے پیچھے نماز ادا کرسکے۔ کاش وہ دن بھی آئے جب پاکستان کی ہر دوسری مسجد میں ایک خاتون امامت کررہی ہوں۔

Wednesday, March 16, 2005

لنگوئسٹکس اور انسانی حقوق

ایم آئی ٹی میں ایک انسانی حقوق اور انصاف کا پروگرام ہے۔ ہر سہمائی مشہور شخصیات کے لیکچر منعقد کرتے ہیں۔ کل پروفیسر چومسکی مہمان تھے۔ لیکچر کا عنوان تھا انسانی حقوق اور لنگوئسٹکس کی عالمگیری حیثیت۔ اور ظاہر ہے، پروفیسر چومسکی سے بہتر دونوں موضوعات پر کون بول سکتا ہے؟

ویسے تو یہ عنوان بڑا عمدہ لگتا ہے مگر افسوس کہ لنگوئسٹکس اور انسانی حقوق کا کوئی سیدھا سادھا تعلق نہیں ہے، "نرم" سائینس یا پوسٹ۔موڈرنزم کے مداح خواح کتنا ہی اصرار کریں۔ تو بیچارے پروفیسر چومسکی نے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی عام رشتہ تو نہیں ہے اسلیے میں دونوں موضوعات پر علیحدہ علیحدہہ گفتگو کروں گا۔ بات لنگوئسٹکس سے شروع ہوئی۔ ابھی انہوں نے یونیورسل گریمر کا نام لیا ہی تھا کہ ایبی کی آنکھ لگ گئی! میں نے سننے کی پوری کوشش کی لیکن ذیادہ تر مواد مجھ سے بالاتر تھا۔ جب انسانی حقوق کی بات آئی تو پھر جاکر حاظرین میں زندگی کے آثار نظر آئے۔

پروفیسر چومسکی سدا سلامت رہیں۔ ان کی عمر اسّی سے زیادہ ہوگی۔ ویسے تو خوش صحت ہیں لیکن مجھے ہمیشہ ایک عجیب سا خوف لگا رہتا ہے کہ ایک دن آئے گا جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے۔

Tuesday, March 15, 2005

جسٹس لیگ، لمیٹد

آجکل میں جسٹس لیگ کا پہلا سیزن دیکھ رہا ہوں۔ پائلٹ (سیکرٹ بگنّنگز) کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ اس قدر کمال کی اینیمیشن، اتنے پرکشش کردار، اور اتنی اعلی داستان نگاری میرے مشاہدے میں تو نہیں ہیں۔ ابتدا میں جسٹس لیگ میں سات کردار ہیں: سوپرمین، بیٹ مین، ونڈر وومن، ہاک گرل، فلیش، گرین لینٹرن اور جان جونز۔ ہاک گرل کا کردار کچھ کمزور لگا لیکن باقی سب اتنے مکمل ہیں کہ جیسے ڈی۔سی کامکس کے صفحوں سے ابھی ابھی اٹھ کے آئے ہوں۔


اور بیٹ مین، آہ بیٹ مین۔ بالکل باب کین اور فرینک ملر کا بیٹ مین ہے۔ ان تاریک دہائیوں کا کردار نہیں جو کسی جوکر کی مانند تھا۔ اور جان جونز کی تنہائی، ایک عظیم نسل کے آخری فرد کی تنہائی، کچھ ایسی پراثر ہے کے دیکھنے والا ایک عجیب سی اداسی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

جسٹس لیگ کے دو ہی سیسن ہوئے تھے کہ کسی حکیم کو خیال آیا کہ اس شو کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور پھر جسٹس لیگ انلمیٹڈ کا آغاز ہوا۔ انلمیٹد معیار میں تو جسٹس لیگ کے برابر ہے۔ لیکن اس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ چھے سوپر ہیرو دنیا کے تمام مسائل حل کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ تو جناب جسٹس لیگ کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے تقریبا تمام سوپرہیرو اب لیگ کے رکن ہیں۔ پہلے شو کی بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر ایک کردار کو ابھرنے کا پورا موقع ملتا تھا۔ لیکن اب، سیکڑوں کرداروں کے ساتھ، کسی ایک کردار کو بہت کم وقت ملتا ہے۔ اور سیدھی سی بات ہے۔ معمولی کرداروں (مثلا بوسٹر گولڈ!) کے لیے تو کوئی جسٹس لیگ نہیں دیکھتا۔ میرا جیسا ناظر تو جانے پہچانے ناموں (بیٹ مین!) کے لیے جسٹس لیگ کا مداح ہے۔

کارٹون نیٹورک کے اعلی حکام سے میری گزارش ہے۔ انلمیٹڈ چھوڑ کر اس آسان وقت کو لوٹ جائیے جب لیگ کے جانے پہچانے سات رکن تھے۔ میرے لحاظ سے تو جسٹس لیگ لمیٹد ہی بہتر تھا۔

Monday, March 14, 2005

جھمپا لاہری سے ملاقات

پچھلے سال کی بات ہے۔ دا نَیمسَیک پڑھنے کے بعد میں جھمپا لاہری کا دیوانہ ہوگیا۔ پھر اِنٹَرپرٹَر آف مَیلاڈِیز پڑھی تو دیوانگی جنون تک پہنچ گئی۔ (حالانکہ جھمپا کی کتب پڑھنے کی یہ ترتیب کچھ الٹ ہے لیکن پھر بھی۔) پھر ایک دن ایبی نے دریافت کیا کہ جھمپا باسٹن آرہی ہیں۔ صرف باسٹن ہی نہیں بلکہ ایم۔آئی۔ٹی آرہی ہیں۔ میں خوشی سے پھولے نہ سمایا۔ چٹ اپنی فرائڈے ٹائمز کی مدیرہ سے ڈینگیں مارنے لگا کہ جھمپا سے انٹرویو تو کہیں نہیں گیا۔ اس نے بھی نیا نیا کتابوں کا صفحہ شروع کیا تھا۔ بہت خوش ہوئی۔ اور میں جھمپا کے آنے کے دن گنتا گیا۔

پھر اچانک خبر آئی۔ جھمپا نے اپنا دورہ ملتوی کردیا ہے۔ ایک آدھ ہفتے بعد آئیں گی۔ اور اب ہارورڈ بک سٹور میں بولیں گی۔ ایک آدھ ہفتہ بھی گزر گیا۔ جھمپا کا کوئی نام ونشان نہیں۔ میں بیچین، مدیرہ کا موڈ خراب۔ بہرحال، جھمپا نہ آئیں۔ اور میری ان سے ملاقات نہ ہوئی۔ آج جب اِنٹَرپرٹَر آف مَیلاڈِیز پھر پڑھی تو اس ناہونے والی ملاقات کی یاد آئی۔ جھمپا، اگر آپ (1) اردو پڑھنا جانتی ہیں، (2) اس بلاگ سے واقف ہیں، اور (3) ایک جنونی مداح کو انٹرویو دینے پر کوئی اعتراض نہیں رکھتیں، تو فورا مجھے ای۔میل کریں۔

Friday, March 11, 2005

دا میٹرکس

میں کراچی میں پلا بڑھا ہوں۔ کھانے پینے کے شہر میں۔ اور ہمارے یہاں سبزیوں کا شمار کھانے پینے میں نہیں ہوتا۔ سیدھی سی بات ہے، کراچی والے گوشت خور ہیں۔ جس شہر میں بیس طرح کے کباب ملیں وہ سبزی خوروں کو بیوقوف سمجھے گا۔ لیکن کیا کسی حساس جاندار کی جان لے کر پیٹ بھرنا ٹھیک ہے؟ کوئی بھی سوچنے سمجھنے والا اور اصول پرست انسان اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتا ہے۔


سوچ تو میں رکھتا ہوں۔ لیکن اصولوں پر عمل اکثر نہیں کر پاتا۔ عام اسطلاح میں مجھے منافق کہتے ہیں۔ پلیٹ پر رکھا ہوا گوشت کا ٹکڑا کسی جیتی جاگتی مخلوق سے اتنا دور ہوتا ہے کہ کھانے والے کو خیال ہی نہیں آتا کہ وہ غلط کام کررہا ہے۔ کسی جاندار کی لاش سے خوشی نچوڑ رہا ہے۔ کسی حساس جاندار کی، جو شاید خود کچھ سوچ رکھتا تھا، درد، تکلیف، خوشی محسوس کرسکتا تھا۔

سبزی خوری کے مخالف اپنے نظریے کی چند گھسی پٹی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ مثلا۔
  • گوشت نہ کھانا صحت کے لیے مضر ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یعنی گوشت کھانا صحت کے لیے نقصاندہ ہے۔ ویسے بھی، کیا وہ ہندو اور جین وغیرہ جو صرف سبزیاں کھاتے ہیں جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں؟
  • اگر ہم گوشت نہ کھائیں تو جانوروں کی تعداد بےتحاشہ بڑھ جائے گی۔ بالکل فضول۔ جو جانور ہم کھاتے ہیں وہ کوئی جنگلوں سے نہیں آتے، بلکہ صرف ہمارے کھانے کے لیے پالے جاتے ہیں۔
  • جانور ناعقل ہیں، اسلیے کھانے کے قابل ہیں۔ نہایت تکبّر کی بات ہے۔ انسان خود ایک جانور ہے۔ اگر کل کو کسی دوسرے سیّارے سےکوئی ترقّی یافتی مخلوق زمین پر آکر انسانیت کو کھانے سے پہلے یہی دلیل پیش کرے تو ہمیں کیسا لگے؟
کوٹزی کی تصنیف الیزابتھ کوسٹیلو پڑھ کر مجھے اپنی گوشت خوری سے بڑی گھن آئی تھی۔ لیکن انسان عادت کا کمزور غلام ہے۔ میری گوشت خوری اب مرغی تک محدود ہے۔ اور مہینے میں ایک برگر تک۔

اب ملاحزہ کیجیے، اس تحریر کے عنوان کو مطلب۔ دا میٹرکس۔

Wednesday, March 09, 2005

ناکام انٹرنیٹ تلاش

مجھے پتہ نہیں تھا کہ لوگ اردو میں بھی سرچ انجنز کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ میری ہی نادانی تھی۔ جیسے جیسے اردو کا انٹرنیٹ پر استعمال بڑھتا جارہا ہے، ظاہر ہے کہ لوگ گوگل اور یاہو وغیرہ کا استعمال بھی اردو میں کر رہے ہیں۔ اس بلاگ پر جن الفاظ کی تلاش میں لوگ پہنچتے ہیں، وہ یہ ہیں:

دی ایل ورڈ

بِٹ ٹورنٹ اور ازیوریس کی عنایت سے میں آجکل دی ایل ورڈ کا پہلا سیزن گھر بیٹھے دیکھ رہا ہوں۔ کمال کا ڈرامہ سیریل ہے۔ اتنے سارے مضبوط زنانہ کردار ٹیلیویژن پر دیکھنے کو کم ہی ملتے ہیں۔ اس ڈرامہ میں سب کچھ ہے: جزبات، ہنسی مزاق، عشق و محبّت، اور ظاہر ہے، امریکہ جدید میں ایک ہم جنسی عورت ہونے کے مسائل پر سنجیدہ تبصرہ۔ دنیا کا نقشہ اتنا مکمل ہے کہ دیکھنے والے کو مردوں کی غیرحاضری محسوس ہی نہیں ہوتی۔ تیسرے درجے کے سطحی پروگراموں (جس میں امریکی ٹیلیویژن کی تقریبا تمام پیداوار شامل ہے) کے مقابلے میں دی ایل ورڈ ہمارے زمانے کا شاہکار ہے۔