Friday, March 11, 2005

دا میٹرکس

میں کراچی میں پلا بڑھا ہوں۔ کھانے پینے کے شہر میں۔ اور ہمارے یہاں سبزیوں کا شمار کھانے پینے میں نہیں ہوتا۔ سیدھی سی بات ہے، کراچی والے گوشت خور ہیں۔ جس شہر میں بیس طرح کے کباب ملیں وہ سبزی خوروں کو بیوقوف سمجھے گا۔ لیکن کیا کسی حساس جاندار کی جان لے کر پیٹ بھرنا ٹھیک ہے؟ کوئی بھی سوچنے سمجھنے والا اور اصول پرست انسان اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتا ہے۔


سوچ تو میں رکھتا ہوں۔ لیکن اصولوں پر عمل اکثر نہیں کر پاتا۔ عام اسطلاح میں مجھے منافق کہتے ہیں۔ پلیٹ پر رکھا ہوا گوشت کا ٹکڑا کسی جیتی جاگتی مخلوق سے اتنا دور ہوتا ہے کہ کھانے والے کو خیال ہی نہیں آتا کہ وہ غلط کام کررہا ہے۔ کسی جاندار کی لاش سے خوشی نچوڑ رہا ہے۔ کسی حساس جاندار کی، جو شاید خود کچھ سوچ رکھتا تھا، درد، تکلیف، خوشی محسوس کرسکتا تھا۔

سبزی خوری کے مخالف اپنے نظریے کی چند گھسی پٹی دلیلیں پیش کرتے ہیں۔ مثلا۔
  • گوشت نہ کھانا صحت کے لیے مضر ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یعنی گوشت کھانا صحت کے لیے نقصاندہ ہے۔ ویسے بھی، کیا وہ ہندو اور جین وغیرہ جو صرف سبزیاں کھاتے ہیں جسمانی طور پر کمزور ہوتے ہیں؟
  • اگر ہم گوشت نہ کھائیں تو جانوروں کی تعداد بےتحاشہ بڑھ جائے گی۔ بالکل فضول۔ جو جانور ہم کھاتے ہیں وہ کوئی جنگلوں سے نہیں آتے، بلکہ صرف ہمارے کھانے کے لیے پالے جاتے ہیں۔
  • جانور ناعقل ہیں، اسلیے کھانے کے قابل ہیں۔ نہایت تکبّر کی بات ہے۔ انسان خود ایک جانور ہے۔ اگر کل کو کسی دوسرے سیّارے سےکوئی ترقّی یافتی مخلوق زمین پر آکر انسانیت کو کھانے سے پہلے یہی دلیل پیش کرے تو ہمیں کیسا لگے؟
کوٹزی کی تصنیف الیزابتھ کوسٹیلو پڑھ کر مجھے اپنی گوشت خوری سے بڑی گھن آئی تھی۔ لیکن انسان عادت کا کمزور غلام ہے۔ میری گوشت خوری اب مرغی تک محدود ہے۔ اور مہینے میں ایک برگر تک۔

اب ملاحزہ کیجیے، اس تحریر کے عنوان کو مطلب۔ دا میٹرکس۔

تبصرے  (2)

Blogger Kunwal

میری بہن نے چھ سال پہلے گوشت کھانا بند کر دیا۔ جب بھی ہم پاکستانیوں سے ملتے ہیں تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ گوشت کیوں نہیں کھاتیں، ہم کیا ہندو ہیں وغیرہ وغیرہ۔ میری بہن تھک گئی ہےان سوالوں کے جواب دے دے کر۔ میں خود بہت کم گوشت کھاتی ہوں مگر چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

ویسے یہاں تو جانور پالنے کے بھی اتنے سخت قانون ہوتے ہیں۔ ان کے پیکٹس پر تو فارمر اور جانور (!) کے پورے پورے نام اور پرسنل ہسٹریز لکھے ہوتے ہیں۔ یہاں کے لوگ پھر وافعی یہ پڑھ کے خریدتے ہیں (شاید لوگ خوش ہوتے ہیں کہ جو جانور وہ کھا رہے ہیں اس کا نام ریزی یا سوزی تھا)۔

6:10 AM  
Blogger ضیا

آپ کی بہن کو میری طرف سے آداب۔ میں ان کے اس فعل سے بہت متاثر ہوا ہوں۔

6:28 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت