Wednesday, March 16, 2005

لنگوئسٹکس اور انسانی حقوق

ایم آئی ٹی میں ایک انسانی حقوق اور انصاف کا پروگرام ہے۔ ہر سہمائی مشہور شخصیات کے لیکچر منعقد کرتے ہیں۔ کل پروفیسر چومسکی مہمان تھے۔ لیکچر کا عنوان تھا انسانی حقوق اور لنگوئسٹکس کی عالمگیری حیثیت۔ اور ظاہر ہے، پروفیسر چومسکی سے بہتر دونوں موضوعات پر کون بول سکتا ہے؟

ویسے تو یہ عنوان بڑا عمدہ لگتا ہے مگر افسوس کہ لنگوئسٹکس اور انسانی حقوق کا کوئی سیدھا سادھا تعلق نہیں ہے، "نرم" سائینس یا پوسٹ۔موڈرنزم کے مداح خواح کتنا ہی اصرار کریں۔ تو بیچارے پروفیسر چومسکی نے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی عام رشتہ تو نہیں ہے اسلیے میں دونوں موضوعات پر علیحدہ علیحدہہ گفتگو کروں گا۔ بات لنگوئسٹکس سے شروع ہوئی۔ ابھی انہوں نے یونیورسل گریمر کا نام لیا ہی تھا کہ ایبی کی آنکھ لگ گئی! میں نے سننے کی پوری کوشش کی لیکن ذیادہ تر مواد مجھ سے بالاتر تھا۔ جب انسانی حقوق کی بات آئی تو پھر جاکر حاظرین میں زندگی کے آثار نظر آئے۔

پروفیسر چومسکی سدا سلامت رہیں۔ ان کی عمر اسّی سے زیادہ ہوگی۔ ویسے تو خوش صحت ہیں لیکن مجھے ہمیشہ ایک عجیب سا خوف لگا رہتا ہے کہ ایک دن آئے گا جب وہ ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے۔

تبصرے  (2)

Blogger Danial

کتنے خوش نصیب ہیں آپ کہ اتنے بڑے تعلیمی ادارے میں ایسے بڑے لوگوں کو سن رہے ہیں۔ خدا آپ کے علم میں اضافہ کرے۔

8:04 PM  
Blogger ضیا

ارے داینیال کیسے بات کررہے ہیں آپ۔ اس میں خوش نصیبی کی کیا بات؟ جہاں روزگار ملتا ہے وہیں رہنا پڑتا ہے۔ اور رہی بات بڑے تعلیمی اداروں کی۔ تو سب فضول ہیں۔ تعلیم کا معیار تو طالب علم کی لگن سے ہوتا ہے۔ "بڑے" تعلیمی ادارے "بڑی" فیسیں لے کر دنیا کو بیوقوف بناتے ہیں :)۔

10:30 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت