Saturday, March 19, 2005

خاتون کی امامت

کالج کے پہلے سال کے رمضان میں میں باقاعدگی سے مغرب کے وقت مسجد جایا کرتا تھا۔ شہر کے متّقی مسلمان مفت افتار اور کھانے کا بندوبست کرتے تھے۔ اور مفت کھانے کی رشوت ایک غریب طالب علم کو ایک وقت نماز پڑھوانے کے لیے کافی تھی۔ اس وقت مجھے ایک بات سخت کھٹکتی تھی۔ مسجد تک تو میں اور میری دوست نادیہ ساتھ جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ایک چھوٹے دروازے کے ذریعے عورتوں کے احاطے میں داخل ہوجاتی۔ اور پھر ہماری ملاقات نماز اور کھانے کے بعد ہوتی۔ اس دوران مسجد میں تمام عورتیں چھپی ہوئی، مردوں کی گندی نظروں سے اوجھل، اپنی جگہ بیٹھی رہتیں۔

اس رمضان کے بعد پچھلے سال ایک مسجد پھر جانا ہوا۔ اخبار کے سلسلے میں ایک (مسلمان!) صاحب کا انٹرویو لینا تھا اور ان کا اصرار تھا کہ مسجد میں ملا جائے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو مجبورا مجھے بھی نمازیوں کے ساتھ شامل ہونا پڑا۔ اس مسجد میں بھی ماجرا ویسا ہی تھا۔ یعنی خواتین ڈھکی چھپی اپنے احاطے تک محدود تھیں۔ مسجد والے اپنے آپ کو جدّت پسند تصوّر کرتے تھے۔ نماز کے بعد ایک سوال جواب اور دینی مباحثے کا سلسلہ ہوا لیکن ایک بار پھر خواتین اس میں شامل نہ تھیں۔ چڑ تو مجھے بہت آئی لیکن سوچا، میں کون سا نمازی وغیرہ ہوں جو دوسرے لوگوں کو ان کے مزہب کے بارے میں ٹوک سکوں؟

بہر حال، پچھلے ہفتے ایک خبر دیکھنے میں آئی کہ نیویارک میں نماز ادا کی جائے گی جہاں ایک خاتون امامت کریں گی۔ دل بہت خوش ہوا۔ اسلام کو ایسے ہی نڈر اور اصول پرست لوگوں کی ضرورت ہے۔ جو دائیں بازو کے جہلا کی ٹھیکےداری کا بےخوف سامنا کرسکیں۔ میں نے آسرا نومانی کو جھٹ ای۔میل بھیج ڈالی کہ اپنی تحریک کو پھیلانے کی کوشش کریں۔ باسٹن آئیں تاکہ مجھ جیسا گناہگار ایک خاتون کے پیچھے نماز ادا کرسکے۔ کاش وہ دن بھی آئے جب پاکستان کی ہر دوسری مسجد میں ایک خاتون امامت کررہی ہوں۔

تبصرے  (4)

Blogger Danial

جو بات مجھے کھٹکتی ہے وہ یہ کہ کئی اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی اپنی آنکھوں پر روایات اور جہالت کا پردہ چڑھالیتے ہیں اور ایک سادہ سی بات بھی انہیں غیر منطقی نظر آتی ہے۔

6:55 PM  
Anonymous جاوید

اللہ سے دعا ہے کہ آپ کو دین کو صحیح سمجھنے کی توفیق دے اور آپ کی حالت پر آللہ رحم کرے

12:24 PM  
Blogger ضیا

آپ کے خلوص کا شکریہ جاوید صاحب۔ مجھے اپنی "حالت" سے کوئی شکایت نہیں۔

2:38 PM  
Blogger Ahtasham

کیا آپ لوگوں نیں اسلام کو مزاق بنا رکہا ہے

9:27 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت