Friday, March 25, 2005

انٹرویو میم

آصف کے ذریعے اس انٹرویو میم میں شامل ہوا ہوں۔ ان کے سوالات اور میرے جوابات مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. آپ کو بیٹھے بٹھائے اردو بلاگ بنانے کا شوق کیوں چرایا؟ مثالیں دے کر وا‍ضح کیجئے۔

    جواب نہایت آسان ہے جسے میں ایک لفظ میں دے سکتا ہوں (لیکن دونگا نہیں): احساسِ جرم۔

    حال میں کسی نے نہایت سنگدلی سے مجھ سے پوچھا کہ میاں، اردو لکھنا پڑھنا بھی یاد ہے یا سب بھول بھال گئے ہو؟ سچ ہمیشہ کڑوا لگتا ہے۔ بات ذہن میں اٹک سی گئی۔ پہلے کچھ عرصے کمپیوٹر پر اردو لکھنے کی مشق کی۔ جب ٹائیپنگ میں روانی ہوگئی تو بلاگ بنانے کا خیال سوجھا۔ نتیجہ سامنے ہے۔

  2. پروفیسر نوم چومسکی جدید امریکی دانشوروں میں انفرادی سوچ کے حامل ہیں۔ مغرب میں حالیہ صنعتی اور اقتصادی نظام کے بارے میں بالخصوص اور باقی دنیا کے نظاموں کے متعلق بالعموم ان کا خیال ہے کہ رفتہ رفتہ یہ فطری آزادیوں کو سلب کر لیتے ہیں۔ چونکہ آپ بھی مغرب میں قیام پذیر ہیں تو آپ کے اس بارے میں کیا تجربات ہیں؟

    پروفیسر چومسکی کبھی کھلم کھلا اقرار تو نہیں کرتے لیکن وہ اینارکو۔سنڈکلزم کے ہامی ہیں۔ یہ وہ نظریہِ حیات ہے جس میں انسان فطری اور باہمی رشتوں میں جڑے ہوئے ہوتے ہیں، طاقت اور استبدادیت سے پرے۔ جدید کیپِٹلسٹ نظام کے بارے میں میرے خیالات سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ خصوصا امریکہ میں مجھے اقتصادی اور تکنیکی ترقّی کے فوائد نظر نہیں آتے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ یہاں لوگ سخت غربت کا شکار ہیں۔ لیکن ایسی ترقّی کا کی کیا فائدہ جہاں عام انسان کو مجبورا ہفتے میں پچاس ساٹھ گھنٹے یا دو نوکریوں پر کام کرنا پڑے؟ اصل ترقّی یہ ہے کہ معیشت کی پروڈکشن اس قدر اثر آفرین ہو کہ عام مزدور کو دن میں صرف چھے گھنٹے کام کرنا پڑے۔ یا پھر وہ سال میں ایک مہینے کی چھٹّی لے سکے۔ تاکہ باقی وقت وہ فنونِ لطیفہ یا ادب یا کسی روحانی کام پر صرف کرسکے۔ امریکہ میں یہ چیز دیکھنے کو نہیں ملتی۔ لوگ اس غیرفطری نظام میں اس بری طرح پھنسے ہوئے ہوتے ہیں کہ انھیں زندگی سے لطف اندوز ہونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک اینارکسٹ معاشرے میں نفع کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ وہاں لوگ صرف اتنا کام کریں گیں جتنا ضروری ہو یا جس میں ان کا دل ہوگا۔

    پتہ نہیں کہ میں آپ کے سوال کا صحیح جواب دے پایا ہوں یا نہیں۔ لیکن یہ کہتا چلوں کہ اگر پاکستان سے موازنہ کیا جائے تو یہ تمام بحث کتابی سی ہے۔ کم از کم یہاں کے نظام میں انسان کے کام اور قابلیت کی تھوڑی بہت قدر ہے۔ سوچ اور بڑی حد تک عمل کی مکمل آزادی ہے۔ ایسی آزادی کا شعور پاکستان اور دوسری نئی ریاستوں میں نہیں پایا جاتا کیونکہ وہاں حکومت کے آگے فرد کی کوئی حیثیت نہیں۔ حکومت کا مقصد فرد کی بہتری نہیں بلکہ طاقت کا بےجا استعمال ہے۔

  3. کیا آپ کے خیال میں اسلام کے حالیہ فہم کو کسی بنیادی اصلاح و درستگی کی ضرورت ہے؟ اگر ہے تو سب سے اشد کس چیز میں؟

    میں ذاتی طور پر مزہب میں یقین نہیں رکھتا۔ لیکن پاکستانی ہونے کے ناتے اسلام اور اس کی اصلاح کے متعلق نظریات ضرور رکھتا ہوں۔ چند بنیادی باتیں جن سے اسلام اور آجکل کے مسلمان مستفید ہوسکتے ہیں وہ یہ ہیں:

    روداری یا قوتِ برداشت۔ اگر دوسرا انسان آپ کے اصولوں کے خلاف بات کررہا ہے تو ضروری نہیں ہے کہ آپ اسے چپ کرائیں یا جان سے مارڈالیں۔ یہاں ایک کہاوت قابلِ ذکر ہے جو عموما وولٹیر کے کھاتے میں آتی ہے: میں آپ سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن مرتے دم تک آپ کو اپنی رائے رکھنے کے حق کا دفاع کروں گا۔

    صحیفہ آسمانی کو حرف بحرف پڑھنا۔ انجیل میں کئی جگہ لکھا ہے کہ ہم جنس مردوں کو قتل کردیا جائے، ہفتے کے روز کام کرنے والے کو کڑی سزا دی جائے وغیرہ۔ لیکن آج ایسے عیسائی کم ہی ہوں گے جو واقعی ہفتے کے روز کام کرنے والے کو مارنے نکل کھڑے ہوں۔ اسی طرح مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ گناہ اور ثواب بندے اور خدا کے درمیان ہے۔ اسلیے قران پڑھ کر چور کا ہاتھ کاٹنا یا زانی کو سنگ سار کرنا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں۔ شکر ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام تو نہیں لیکن اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصوّر ضرور ہے کہ حکومت اور قانون کاگناہ کا تعین کرنے میں ہاتھ ہونا چاہیے۔ گستاخیِ رسول کا قانون بھی اسی حرف بحرفی کی ایک مثال ہے۔

    اور ہاں اگر خواتین کو کمتر سمجھنا ترک کردیں تو میں اپنے مسلمان بھائیوں کا نہایت شکر گزار ہوں گا۔

  4. پاکستان کے مستقبل کو آپ کیسا دیکھتے ہیں؟

    میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں نہ تو مایوس ہوں اور نہ پرامّید۔ میرے خیال سے حالات جوں کے توں چلتے رہیں گے۔ امرا امیر ہوتے جائیں گے، غربا غریب۔ بدعنوانی برقرار رہے گی۔ آرمی اور سولین ڈکٹیٹر میوزکل چیرز کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔ مجھ جیسے لوگ جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ سمجھنے کی خوش فہمی کا شکار ہیں اپنے کشادہ ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر لمبی چوڑی تقریریں کرتے رہیں گے۔ عام آدمی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

  5. آپ کو ڈائس پر کھڑا کر دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنی حسب منشاء کچھ بھی ارشاد فرمائیں۔ ہم ہمہ تن گوش ہیں۔

    (میں آپ سے آپکے پس منظر اور تعلیم کے متعلق پوچھنا چاہتا تھا لیکن سوالات پورے ہوگئے اور ان تمام سوالات میں سے میں کچھ بھی حذف نہیں کرنا چاہتا۔ اگر آپ اضافی طور پر ہمیں بتانا چاہیں تو خوشی ہوگی۔)

    شکریہ آصف کہ آپ نے مجھے بلارکاوٹ بک بک کرنے کا موقع دیا۔ میرے پاس کرنے کو ایسی کوئی خاص بات نہیں ہے اسلیے آپ کے پسِ منظر اور تعلیم والے سوال کا جواب دیتا چلوں۔ پسِ منظر خاصا بور ہے۔ میں کراچی میں پلا بڑھا ہوں۔ "اے" لیولز تک تعلیم وہیں حاصل کی۔ اس کے بعد امریکہ چلا آیا، جہاں کمپیوٹر سائنس میں جعلی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایک سافٹویر کمپنی میں ملازمت اختیار کرلی۔

اگر پڑھنے والے اس میم میں شریک ہونا چاہیں تو تبصرہ کر کے مجھے آگاہ کردیں۔ ان کے لیے پانچ عدد وسال تیار کیے جائیں گے جن کے جواب ان کو اپنے بلاگ پر دینے ہوں گے۔ مجھے معلوم ہے کہ انٹرنیٹ پر اردو ابھی اتنی عام نہیں ہے۔ تھوڑی بہت انگریزی سے بھی واقف ہوں۔ اسلیے سوالات اردو یا انگریزی دونوں میں کیے جاسکتے ہیں۔

تبصرے  (12)

Blogger Danial

ماشا۶اللہ آپ بہت اچھا لکھتے ہیں۔ اصلاح کی بات کریں تو مسلمان خون خرابے پر تیار ہوجاتے ہیں ان کا دین اور ان کا فہم اسلام ان کے نظر میں سب کچھ ہے۔ اس کی آڑ میں چاہے وہ کتنے ہی ظلم کریں سب جائز ہیں۔ صرف تعلیم عام ہونے سے ہی اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے اور تعلیم کی راہ میں اسلامی دنیا کے حکمران کیسے کیسے روڑے اٹکاتے ہیں یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔

9:31 PM  
Blogger Danial

میں بھی یہ انٹرویو انٹرویو کھیلنا چاہتا ہوں۔

9:34 PM  
Blogger دختر

لکھتے تو آپ اچھا ہیں ، مگر ایک بات جو میں کہنا چاہوں گی وہ یہ کہ آپ کا مذہب سے کتنا تعلق ہے یہ آپ کا ذاتی معاملہ مگر عیسا‏ئی ، انجیل کے احکامات پر کس طرح عمل کر رہے ہیں ، اس کا ایک مسلمان کے قرآن پہ عمل کے طریقہ سے کوئی موازنہ نہیں۔ مسلمان کو قرآن کے ہر حکم پہ عمل کرنا ہے اگر وہ نہیں کرتا تب بہی قرآن ہی ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اس کی کیا سزا ہے۔ اور دانیال اصلاح کی ضرورت اسلام کو نہیں مسلمانوں کو ہے۔

1:11 PM  
Blogger Danial

دختر بہن بجا فرمایا آپ نے۔ لیکن ایسا کیوں ہے کہ وہ لوگ جو اسلام میں اصلاحات دیکھنا چاہتے ہیں راندہ درگاہ ٹہریں؟ حالانکہ مقصد ہم سب کا یہی ہے کہ مسلمان خوشحال ہوں۔ اور جیسا کہ اسلامیکیٹ نامی بلاگ کہتا ہے۔ "اسلام اپنے لئیے نہیں بول سکتا، مسلمان بول سکتے ہیں۔" مسلمانوں کو اسلام کے لئیے بولنے دیں میرے خیال میں اس سے بھلائی کی امید کی جاسکتی ہے ۔

3:29 AM  
Anonymous dukhtar

دانیال ، میرے خیال میں اسلام اتنا مکمل اور واضح ہے کے،اس کو کسی بھی طرح کسی بھی دور میں اصلاح کی ضرورت نہیں۔ آصف کے سوال میں بھی بات اسلام کے فہم میں اصلاح کی ہے اور اس کی واقعی میں ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو اسلام میں اصلاح کے بجائے اس پہ عمل کی اصلاح کی ضرورت ہے، اور اسی میں ان کی فلاح اور خوشحالی ہے۔ اور ہاں جہاں تک بات لوگوں کو راندہ درگاہ ٹہرانے کی ہے تو اس کا فیصلہ بہی اسلام کی روشنی میں ہونا چاہیے کہ آیا جو بات وہ کہ رہے ہیں،کتنی صحیع ہے ۔ مگر افسوس یہ کہ مجھے نہیں پتا یہ فیصلہ کون کرے ؟

8:17 PM  
Blogger Kunwal

ایک چھوٹی سی بات: آپ جھمپا لاہری سے تو نہیں مل سکے لیکن آپ کے بڑے فین ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی دن آپ سے ملاقات ہوئی تو آٹوگریف مانگوں گی۔ (:

اور ہاں، آپ اگر ہیڈر امج کو ہر سائٹ سے (مثلا آرکائو پیجز) ہوم پیج پہ لنک کرین تو تھوڑی آسانی ہو جاۓ گی۔ ضروری نہیں ہے لیکن میں ہمیشہ وہاں کلک کرتی ہوں اور پھر کچھ ہوتا نہیں۔

4:40 PM  
Blogger Asif

ارے آپ تو ماہر معلوم ہوتے ہیں انٹرویو دینے کے۔ میں کیپٹلزم کی انتہائی شکل کو پسند نہیں کرتا کیونکہ جیسا آپ نے لکھا یہ انسان سے تمام روحانیت چھین لیتی ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ ایک اینارکسٹ معاشرے میں اس کا حل موجود ہے، اس پر بحث ہو سکتی ہے۔
مسلمانوں کو رواداری یاد دلانے کا شکریہ۔ صحیح میں اس کی بہت ضرورت ہے۔ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے کہ (نسبتا حالیہ دور میں) اس عدم رواداری کے فروغ کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں۔

6:06 PM  
Blogger Abdul Qadir

محترم ضیا صاحب !

میں کافی عرصے سے آپ کے بلاگ کا خاموش قاری ہوں ، آج کچھ بولنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔ میں نے آپ کے بلاگ سے اندازہ لگایا ہے کہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی آپ اسلام سے ذرا فاصلے پر ہیں ۔ اور اسلام کے کئی اصولوں سے مطمئن نہیں ہیں ۔ آپ کی وہ تحریر جس میں آپ نے اپنے بھائی کی شادی کا تذکرہ کیا تھا ، اور خاتون کی امامت والی تحریر اور آپ کے انٹرویو کے جوابات ، ان تحریروں کو پڑھنے کے بعد میرے ذہن میں کچھ سوالات ابھرے ہیں ، اگر آپ ان کا جواب مرحمت فرمائیں تو بہت مہربانی ۔ یہ سوالات کچھ سخت ضرور ہونگے مگر یقین کیجیے کہ میں کوئی مولوی ٹائپ کی چیز نہیں ہوں اور نہ ہی ان سوالات کا مقصد آپ کی دل آزاری ہے ۔ یہ صرف معلومات عامہ کے لیے ہیں ۔

نکاح والی تحریر میں آپ نے اصرار کیا تھا کہ نکاح میں مذہبی رسومات کا عمل دخل بالکل نہیں ہونا چاہیے ۔ اس لحاظ سے آپ کیا تجویز کرتے ہیں کہ شادی بیاہ کے موقع پر نکاحِ مسنونہ کے بارے میں کیا لائحہ عمل ہونا چاہیے ؟ رخصتی کے وقت سر پر قرآن مجید اٹھانے کے تو میں بھی خلاف ہوں ۔ کیونکہ اس مقصد کے لیے قرآن کو نہیں بھیجا گیا ۔

خاتون کی امامت والے مضمون میں آپ پہلے لکھتے ہیں کہ خواتین الگ تھلگ مردوں کی گندی نظروں سے اوجھل رہتی تھیں ۔ مگر پھر آپ لکھتے ہیں کہ مسجد والے عورتوں کو بھی مباحثے میں شامل نہیں کرتے ۔ دوسری بات یہ کہ اسلام عورت کو عورتوں کی امامت کی اجازت دیتا ہے ، مگر عورت کو مردوں اور عورتوں کی مشترکہ امامت کی اجازت نہیں دیتا ۔ آپ کس امامت کے حق میں ہیں اور کیوں؟

یہ بات آپ بھی جانتے ہونگے کہ مہینے میں کچھ دن عورتیں ناپاکی کی حالت میں ہونے کی وجہ سے نماز وغیرہ ادا نہیں کرسکتیں اور ان کو بعد میں یہ نمازیں قضا کرنی پڑتی ہیں ۔ اس طرح اگر عورت باقاعدگی سے امامت کرائے تو اس تعطیل کے دوران آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ اور کیا یہ ناپاکی کی حالت بھی نماز کے لیے کوئی حیثیت رکھتی ہے یا نہیں؟

رواداری سے متعلق آپ کا نظریہ بالکل درست ہے مگر یہ بتائیے کہ اصلاح کی ضرورت اسلام کو ہے یا مسلمانوں کو ۔ آپ کی تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اسلام کی اصلاح کو تجویز کرتے ہیں ۔ جبکہ میرے خیال میں اللہ نے قرآن مجید میں خود ارشاد فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا ہے ۔ چنانچہ میری ناقص رائے کے مطابق اصلاح انسانوں کی ہونی چاہیے مگر اصلاح کرتے وقت یہ دیکھ لینا چاہیے کہ آیا ہم صرف تبدیلی ہی لا رہے ہیں یا مطلوبہ اصول کو اس کی اصل صورت میں پیش کر رہے ہیں ۔

میں امید کرتا ہوں کہ آپ مجھے ضرور مطمئن کریں گے ۔ اس سے میرے خیالات میں بہتری کی توقع پیدا ہوسکتی ہے ۔ اور میں دوبارہ یہ کہتا ہوں کہ ان سوالات کی بنا پر ناراض نہ ہوئیے گا ۔

6:21 PM  
Blogger ضیا

لگتا ہے کہ آصف کے سوالات کچھ زیادہ ہی مقبول ہوگئے ہیں :) میں باری باری تمام مہمانوں کو جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

شکریہ، دانیال۔ آپ کے اور میرے خیالات کافی حد تک ہم آہنگ ہیں، یہ بات تو ہمیں پہلے سے پتہ تھی۔ اور آپ نے بالکل صحیح کہا اصلاح کا نام سن کر زیادہ تر مسلمان خاصے بگڑ جاتے ہیں۔ خیر ہم مستقبل سے اچّھی امّید رکھ سکتے ہیں۔

دختر، آپ کی تشریف آوری کا بہت بہت شکریہ۔ چند نکتوں پر میں آپ سے اتفاق نہیں رکھتا۔ مثلا نظریے اور اس کے ماننے والوں کے درمیان تفریق کرنا کس حد تک درست ہے؟ کمیونسم اچھی شہ ہے، خامی تو سٹالین میں تھی۔ اسلام بہترین نظام ہے، غلطی طالبان کی تھی۔ وغیرہ وغیرہ۔ شاید آپ صحیح کہ رہی ہیں، اصلاح کی ضرورت صرف مسلمانوں کو ہے، اسلام کو نہیں۔ لیکن میں آنکھیں بند کرکہ یہ نہیں مان سکتا کہ کوئی بھی نظام مکمل اور درست ہے۔ میں اپنی مثال دہراتے چلوں۔ اگر کوئی نظام کہتا ہے کہ ہفتے کے روز کام نہ کرو یا ہم جنس انسان کو قتل کردو تو میں اس نظام کے بارے میں سوالات ضرور کروں گا۔

7:42 PM  
Blogger ضیا

اور داینیال، سوالوں کے لیے تیّار ہوجائیے۔

8:21 PM  
Blogger ضیا

کنول، ابھی عمر پڑی ہے۔ جھمپا بھی کبھی نہ کبھی مل ہی جائیں گی :) میرے اور بڑے فین؟ آپ طنز خوب کرتی ہیں! میں ہیڈر امیج پر فورا کام شروع کرتا ہوں!

آصف، میرا خیال ہے کہ اینارکسم پر بھی بحث ہو ہی جانی چاہیے :)

آداب قدیر۔ خاموشی ترک کرنے کا بہت شکریہ۔ میں آپ کے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

جہاں تک نکاح کا سوال ہے، تو اس تحریر میں مزاح کا پہلو بھی نمایاں تھا۔ مجھے لوگوں کی شادیوں میں مزہبی رسومات پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن جاہل مولوی طبقے کی شرکت کو میں پسند نہیں کرتا۔ میری سوچ یہ ہے کہ دین نے ہر انسان کو زندگی کے اہم واقعات پر اختیار دیا ہے: پیدائش، شادی، موت وغیرہ۔ تو پھر کیا ضرورت ہے کہ کسی اجنبی کو اپنے ذاتی دن میں شریک کیا جائے جب خاندان کو کوئی معتبر شخص تمام دینی فرائض ادا کرسکتا ہے؟

آپ کی خاتون کی امامت اور مہینے کے مخصوص ایّام والی بات وزنی ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بات کہتا چلوں کہ پیشہ ور امام کا اسلام میں کوئی مقام نہیں ہے۔ مسجد مہلّے کے رہائشیوں کے ملنے کی جگہ ہے۔ جب جماعت کا وقت ہوتا ہے تو نمازیوں میں سے کوئی بھی فرد امامت کرسکتا ہے۔ امریکہ کی مسجدوں میں یہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یعنی امام کوئی ایک بندھا ہوا شخص نہیں ہوتا بلکہ ہر جماعت کے وقت ایک فرد منتخب کیا جاتا ہے۔ تو جواب سیدھا ہے کہ ایک خاتون مخصوص ایّام میں امامت نہ کریں۔ باقی دنوں میں ان کا بھی اتنا ہی حق ہونا چاہیے جتنا کسی مرد کا ہے۔ اور ہاں، "مردوں کی گندی نظروں" کے حوالے میں طنز کا پہلو تھا۔

اسلام اور مسلامانوں میں تفریق کرنے پر میں کچھ ستور پہلے لکھ چکا ہوں۔ شاید "اصل" اسلام کے بارے میں میری معلومات ناقص ہے۔ لیکن اگر اسلام کا مسلمانوں کے رویّوں سے تھوڑا بہت بھی تعلق ہے، تو میں کہوں گا کہ ہاں، اسلام کو اصلاح کی ضرورت ہے۔

اور رہا سوال ناراضگی کا، تو بھئی یہ آپ نے کیسی بات کی؟ اگر بھائی ہی بھائیوں کے نظریات پر تنقید اور بحث نہیں کریں گے تو زندگی میں کیا لطف؟ :)

8:28 PM  
Blogger Zack

اسلام اور مسلمانوں میں فرق کرنا عام ہے مگر جیسا آپ نے کہا دین یپنے پیروکاروں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ پھر یہ بھی سوچیں کہ مذہب کی تفسیر انسان ہی کرتے ہیں۔ بہرحال ہی بحث لاحاصل ہے۔ یوں کہیے کہ اسلام جیسے وہ مسلمانوں کے اعمال میں ظاہر ہے اسے اصلاح کی ضرورت ہے۔

8:46 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت