فلمی شاہکار
فلم کا نام ہے آماڈئیس۔ اور سالوں سے یہ میرے ذہن پر چھائی ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اس کا مرکزی خیال ہلا دینے والا ہے: ایک معمولی انسان جو اپنی معمولیت کی آگ میں دہک رہا ہے اور اپنا ایمان کھو بیٹھا ہے۔
آماڈئیس کا آخری سِین اس مرکزی خیال کی بہت خوبی سے عکاسی کرتا ہے۔ میں نے یہ سِین اردو میں سبٹائٹل کیا ہے۔ آپ اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔


تبصرے (6)
اوہ یہ فلم اتنی اچھی لگ رہی ہے۔ کبھی موقع ملے تو ضرور دیکھوں گی۔ انتونیو سالئیری کے بارے میں پہلے کبھی کچھ سنا ہی نہیں تھا (کم از کم ایک دفعہ نام کا تو ذکر ہونا چاہۓ تھا میوزکل ایڈیوکیشن میں)۔ خیر، موتسارت از گریٹ!!! اپنے زمانے کا سوپر سٹار تھا۔ آج پتا چلا کہ یہی فلم فالکو کی انسپائریشن تھی۔ شکریہ ضیاء جی اس فلم کے بارے میں بتانے کا۔
کنول آپ کو تو شاید اور بھی پسند آئے کیونکہ تمام کہانی وئینا میں ہے! (سٹی آف میوزک وغیرہ) ویسا سنا ہے کہ اصل میں شوٹنگ پراگ میں ہوئی تھی، وئینا میں نہیں۔
بہت خوب ضیاء۔ یہ تو بتاؤ کہ اس فلم کا تمہاری شخصیت پر کیا اثر پڑا ہے۔ کہیں اپنے اندر بھی تو آماڈیوس کو نہیں پاتے۔ تم نے سب ٹائٹلنگ بہت اچھی کی ہے۔ برائے مہربانی کچھ اس پر بھی روشنی ڈالو کہ اس کے لیے کیا سوفٹویر استعمال کیا تھا۔
ارے نبیل، مجھے تو میوزک کی الف۔بے بھی نہیں آتی، کہاں کا آماڈئیس! سب ٹائٹلنگ کے لیے میں نے ونڈوز مووی میکر استعمال کیا تھا۔ ڈی۔وی۔ڈی رِپ کرنے کے لیے ڈی۔وی۔ڈی ڈیکرپٹر۔
مجھے بھی فلم اچھی لگ رہی ہے لیکن میں پہلے ہی آخری سین دیکھ کر مزا خراب نہیں کرنا چاہتا :)
اوہو مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی، میرا خیال تھا کہ فلم تو سب نے دیکھی ہوئی ہو گی، صرف ترجمے کی بات ہے۔ مستقبل کے مہمانوں کے کیے گزارش ہے کہ اگر آپ نے آماڈئیس نہیں دیکھی ہے اور دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سین کو دیکھ کر مزا کرکرا نہ کریں۔
تبصرہ کیجیے
کیفے حقیقت