Friday, April 08, 2005

فلمی شاہکار

فلم کا نام ہے آماڈئیس۔ اور سالوں سے یہ میرے ذہن پر چھائی ہوئی ہے۔ میرے نزدیک اس کا مرکزی خیال ہلا دینے والا ہے: ایک معمولی انسان جو اپنی معمولیت کی آگ میں دہک رہا ہے اور اپنا ایمان کھو بیٹھا ہے۔





آماڈئیس کا آخری سِین اس مرکزی خیال کی بہت خوبی سے عکاسی کرتا ہے۔ میں نے یہ سِین اردو میں سبٹائٹل کیا ہے۔ آپ اسے یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

تبصرے  (6)

Blogger Kunwal

اوہ یہ فلم اتنی اچھی لگ رہی ہے۔ کبھی موقع ملے تو ضرور دیکھوں گی۔ انتونیو سالئیری کے بارے میں پہلے کبھی کچھ سنا ہی نہیں تھا (کم از کم ایک دفعہ نام کا تو ذکر ہونا چاہۓ تھا میوزکل ایڈیوکیشن میں)۔ خیر، موتسارت از گریٹ!!! اپنے زمانے کا سوپر سٹار تھا۔ آج پتا چلا کہ یہی فلم فالکو کی انسپائریشن تھی۔ شکریہ ضیاء جی اس فلم کے بارے میں بتانے کا۔

1:10 PM  
Blogger ضیا

کنول آپ کو تو شاید اور بھی پسند آئے کیونکہ تمام کہانی وئینا میں ہے! (سٹی آف میوزک وغیرہ) ویسا سنا ہے کہ اصل میں شوٹنگ پراگ میں ہوئی تھی، وئینا میں نہیں۔

1:20 PM  
Blogger Nabeel

بہت خوب ضیاء۔ یہ تو بتاؤ کہ اس فلم کا تمہاری شخصیت پر کیا اثر پڑا ہے۔ کہیں اپنے اندر بھی تو آماڈیوس کو نہیں پاتے۔ تم نے سب ٹائٹلنگ بہت اچھی کی ہے۔ برائے مہربانی کچھ اس پر بھی روشنی ڈالو کہ اس کے لیے کیا سوفٹویر استعمال کیا تھا۔

7:31 AM  
Blogger ضیا

ارے نبیل، مجھے تو میوزک کی الف۔بے بھی نہیں آتی، کہاں کا آماڈئیس! سب ٹائٹلنگ کے لیے میں نے ونڈوز مووی میکر استعمال کیا تھا۔ ڈی۔وی۔ڈی رِپ کرنے کے لیے ڈی۔وی۔ڈی ڈیکرپٹر۔

2:57 PM  
Blogger Asif

مجھے بھی فلم اچھی لگ رہی ہے لیکن میں پہلے ہی آخری سین دیکھ کر مزا خراب نہیں کرنا چاہتا :)

7:22 PM  
Blogger ضیا

اوہو مجھ سے کچھ غلطی ہو گئی، میرا خیال تھا کہ فلم تو سب نے دیکھی ہوئی ہو گی، صرف ترجمے کی بات ہے۔ مستقبل کے مہمانوں کے کیے گزارش ہے کہ اگر آپ نے آماڈئیس نہیں دیکھی ہے اور دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سین کو دیکھ کر مزا کرکرا نہ کریں۔

12:21 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت