Wednesday, June 29, 2005

ایبی کا کراچی

ایبی کا کراچی سفرنامہ اب گوگل وِڈیو پر دستیاب ہے۔

ایبی کا کراچی

Sunday, June 26, 2005

ہماری تاریک تاریخ

برِ صغیر میں غلامی کی تاریخ پر ایک آنکھیں کھولنے والا مضمون۔

Wednesday, June 15, 2005

ایک ہیرو کی پیدائش

آج میں نے بیٹ مین بگنز دیکھی۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں، جوئل شوماکر نے ایک عظیم فرینچائیز کا بیڑا غرق کردیا تھا۔ پچھلی دو فلمیں ڈی سی کامکس پڑھنے والوں کے منہ پر تمانچہ تھیں۔ لیکن آج میں خوشی سے کہ سکتا ہوں کہ بیٹ مین، باب کین اور فرینک ملر کا بیٹ مین، ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کرس نولن کی شاندار ہدایت کاری اور کرسچن بیل کا بروس وین سچّے مداحوں کو مایوس نہیں کریں گے۔
بیٹمین بگنز
کہانی کے بارے میں کیا کہوں؟ کچھ عناصر تو سیدھے ائیر ون سے لیے گئے ہیں۔ وہ بدنصیب رات جب ٹومس اور مارتھا وین ایک تاریک گلی میں بےدردی سے قتل کردیے جاتے ہیں فلم کا مرکزی سین ہے۔ مارتھا کا موتیوں کا ہار، سڑک پر بہتا خون، ایک عام مجرم کے آگے زندگی کی بےمعنی حیثیت، اور دس سالہ بروس کی بےبسی، سب کے سب ویسے ہی ہیں جیسا کامک پڑھنے والے اپنی آنکھوں کے آگے سینکڑوں بار دیکھ چکے ہیں۔ اور فلم کے آخری حصّے میں ناظرین نو مینز لینڈ کا دھیما سا عکس پائیں گے۔

لیئم نیسن نے راس الغل کی اچھی عکاسی کی ہے۔ لیکن بہترین مجرم کا انعام اس نئے اداکار کو ملتا ہے جو ڈاکٹر جونیتھن کرین کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ایسا حیبت ناک سکئیرکرو ہے کہ دیکھنے والے کو عرصے تک ڈرائے رکھےگا۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک ہالیووڈ فلم ہے۔ اسلیے کچھ کمزوریوں کا شکار ہے۔ عوام کو خوش کرنے کے لیے دھماکے اور تیزرفتار گاڑیاں درکار ہیں۔ جوکہ شایاد کردار کے مطابق نہیں۔ لیکن ان کمزوریوں (اور کیٹی ہومز) کے باوجود بیٹ مین بگنز ایک عمدہ فلم ہے۔ آج ایک ہیرو دوبارہ سے پیدہ ہوا ہے۔

Monday, June 13, 2005

"ذ" پر پابندی

یہ اردو میں "ز" اور "ذ" دونوں کی کیا ضرورت ہے؟ ویسے تو میں اس بحث میں "ض" اور "ظ" کو بھی لاسکتا ہوں، لیکن کم ازکم یہ حروف شکل میں تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ "ز" اور "ذ" کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ کمپیوٹر پر پڑھے جانے والے عام فونٹوں پر تو "ز" اور "ذ" بالکل ایک جیسے لگتے ہیں۔ حال ہی میں جہانزیب نے میری غلطی پکڑی جہاں میں نے "مذاق" کے بجائے "مزاق" لکھا تھا۔ میں کہتا ہوں غلطی میری نہیں، بابائے اردو کی ہے۔ (مولوی عبدلحق نہیں، سیکڑوں سال پرانا کوئی بابا ہوگا۔)

بہرحال آج سے میں "ذ" کے خلاف ایک تحریک شروع کرنا چاہتا ہوں۔ یہ حرف غیر ضروری ہے۔ اسے واپس ارب یا ایران بھجوا دینا چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

Saturday, June 11, 2005

مچّھر اور آدمی

دیسی ٹورنٹس کی سائٹ پر یہ فقرہ نظر آیا۔
ایک مچّھر آدمی کو لیچڑ بنا دیتا ہے۔

نجانے کیوں یہ پڑھنے کے بعد میرا ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا۔ کیا بیوقوفی ہے! کراچی کی زبان میں لیچڑ اسے کہتے ہیں جو آپ کے ساتھ چپک جائے، جیسا کہ بِن بلایا مہمان۔ اسے جملے میں استعمال کرتا ہوں۔
بہت رات ہوگئی تھی لیکن طارق لیچڑ ہوکر جانے کا نام ہی نہیں لےرہا تھا۔

لیچڑ کو آپ اسم کی طرح بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
بہت رات ہوگئی تھی لیکن طارق لیچڑوں کی طرح بیٹھا رہا۔

لغت کھول کر دیکھی تو معلوم ہوا کہ لیچڑ کے اصل معنی کنجوس کے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مچّھر آدمی کو کنجوس یا لیچڑ کیسے بناتا ہے؟

اس کا جواب صرف کراچی کی گرمی کی ایک رات گزارنے والے سمجھ سکتے ہیں۔ ایسی رات جب کے۔ای۔ایس۔سی نے اپنا کمال دکھایا ہو اور ایک مچھر خواب گاہ میں دندناتا پھر رہا ہو۔

بہرحال، پھر بھی یہ فقرہ ایسا تو نہیں کہ ہنس ہنس کر انسان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں۔ اگر آپ بھی اسے پڑھنے کے بعد آنکھوں میں نمی پائیں تو مجھے ضرور بتائیے گا۔

Friday, June 10, 2005

جہنم میں گئے ستھ

نجانے بڑے فلمسازوں کو کیا ہوجاتا ہے۔ فلمبندی کے عام اصول بھول جاتے ہیں۔ بھائی جارج لوکس کا زوال تو ایپیسوڈ وَن سے ہی نمایاں تھا لیکن ہر آنے والی سٹار وارز کی قسط اس زوال کا تالیاں بجا بجا کر اعلان کرتی ہے۔

یہ ایپیسوڈ تھری بھی کیا بلا تھی؟ کیا کسی پاگل چار سالہ بچّے سے اس کی کہانی لکھوائی گئی تھی؟ کیا اداکاروں کا کھانا پینا بند کردیا گیا تھا تاکہ وہ لکڑی کے پتلے ہونے کی شاندار اداکاری کرسکیں؟ کمال کی بات ہے: ایون مکگریگر، نیٹلی پورٹمن، اور ہیڈن کرسٹنسن اپنی اپنی جگہ خوب اداکار ہیں۔ سٹار وارز سے ہٹ کر ان کا کام عمدہ ہے۔ لیکن بھائی لوکس کی ہدایتکاری سب کو مجسموں میں تبدیل کردیتی ہے۔

ایک اور بات: پاڈمے (ملکہ آمیڈالا) پہلی فلم میں تو نہایت مضبوط کردار تھیں۔ لیکن "سِتھ" میں نجانے کیوں ایک بسورتی ہوئی کمزور شخصیت بن گئیں۔ جیسا کہ ایبی نے لکھا ہے، اس فلم میں ایک بھی مضبوط عورت کا کردار نہیں تھا۔ سینیما اور بالخصوص سائینس فکشن سینیما جس بری طرح عورتوں کی عکاسی کرتا ہے وہ قابلِ شرم ہے۔

Sunday, June 05, 2005

او کراچی، میری معافی قبول کر

دنیا کے اخبارات کے مطالع سےتو لگتا ہے کہ کراچی (یا پاکستان) اور آزاد خیالی الٹ ہیں۔ یہاں صرف داڑھی والے خونخوار لوگ تشدّد اور آگ کے لیے جیتے ہیں۔ امریکہ کے جھنڈوں، صدر بش کے پتلوں اور ماچسوں کا کاروبار خوب گرم ہے۔ سڑکوں پر خواتین کی توہین ہونا عام سی بات ہے۔ بھلا ایسی جگہ ایک امریکی لڑکی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟

اگر ایبی کے تجربات حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، تو اخبارات سراسر جھوٹے ہیں۔ سچّی سی بات ہے۔ ایبی کے ساتھ بازار وغیرہ جاتے ہوئے میرے دل میں بھی کچھ خدشات تھے۔ اوّل تو اس کی گوری رنگت کا معاملہ۔ دوسرا اس کے عورت ہونے کا۔ چوک جیسے دیگر جریدے پڑھیں (مثلا یہاں اور یہاں) تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ بازار لچر مردوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جو عورتوں کا جینا حرام کردیتے ہیں۔ بیہودہ فقرے کستے ہیں۔ سیٹیاں بجاتے ہیں وغیرہ۔ میں عورت نہیں (واقعی!)۔ اسلیے عورت ہوکر بازاروں میں گھومنے کا تجربہ نہیں رکھتا۔ لیکن اپنے پیارے شہر کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں شاید رکھتا تھا۔

لوگوں نے ایبی کے ساتھ وہی سلوک کیا جیسے کسی اور کے ساتھ کرتے ہیں۔ یعنی کے سر پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ سیدھی سی بات ہے، ہر ایک اپنے کاموں میں مصروف ہوتا ہے۔ کس کے پاس اتنا فالتو وقت کہاں ہے کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کسی اور کو گھورے، خواہ وہ ایک غیرملکی عورت ہی کیوں نہ ہو۔ ہم صدر، طارق روڈ اور کلفٹن جیسی جگہوں میں گھنٹون گھومتے رہے۔ زینب مارکیٹ میں تو دوکانداروں کا ایسا رویّہ تھا کہ جیسے روز ہی امریکیوں سے سودا کرتے ہوں۔ حیرت کی بات ہے، کسی نے زیادہ پیسے لینے کی کوشش بھی نہیں کی! ایک قالین والے نے مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں ٹھندی پیپسی تک پلائی۔ جہاں بھی گئے کسی نے بھی ایسا ظاہر نہیں کیا کہ ہم کوئی انوکھا کام کررہے ہیں یا ایبی کوئی عجب شہ ہے۔

اگر قدامت پسندی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تو افسوس کہ وہ عام دنیا میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں تھا۔ بھابھی نےدبے الفاظ میں کہا کہ خدا کے لیے ایبی کو طارق روڈ تو نہ لےجائیے گا، وہ بھی بغیر ڈوپٹّے کے۔ اور یہ پڑھے لکھے، ڈفینس میں رہنے والے اس تبقے کی نمائندہ ہیں جو اپنے آپ کو "لِبرل" کہتا ہے، اور عوام کو نیچ اور قدامت پسند سمجھتا ہے۔ یعنی عوام کے کردار کا معیار ڈوپٹّے پر آکر رک گیا۔

تو میری معافی قبول کر، شہر کراچی۔ تو آزاد خیال ہے، اور شاید ہمیشہ تھا۔ غلطی تو ہم "پڑھے لکھوں" کی ہے جو اخبارات اور رسائل کے رعب میں آکر تجھے ناجانے کیا سمجھنے لگے ہیں۔

Saturday, June 04, 2005

گمشدہ فرد

اگر آپ اس بلاگ پر باقاعدگی سے آنے والے چار یا پانچ افراد میں سے ایک ہیں تو یقینا میری گمشدگی سے واقف ہوں گے۔ کاش کہ اس گمشدگی کا کوئی دلچسپ سبب ہوتا۔ میں کہ پاتا کہ میں روانڈا میں گوریلوں پر رسیرچ کررہا تھا۔ یا کہ جنوبی امریکہ کے کسی مارکسسٹ گروہ نے مجھے یرغمالی بنا لیا تھا۔ افسوس کہ حقیقی سبب نہایت معمولی ہے۔ شادی کے بعد جب میں اور ایبی کراچی سے لوٹے تو اپنے انٹرنیٹ کنیکشن کو مرگ شدہ پایا۔ پھر کام میں ایسا الجھے کہ اسے صحیح کرانے کی فرصت ہی نہ ملی۔ بالاخر کل کیبل کمپنی سے ایک صاحب آئے اور دنیا سے ہمارا رابطہ بہال کرگئے۔ تو اب میں بلاگ کو توجہ دینے کی پوری کوشش کروں گا۔