Sunday, June 05, 2005

او کراچی، میری معافی قبول کر

دنیا کے اخبارات کے مطالع سےتو لگتا ہے کہ کراچی (یا پاکستان) اور آزاد خیالی الٹ ہیں۔ یہاں صرف داڑھی والے خونخوار لوگ تشدّد اور آگ کے لیے جیتے ہیں۔ امریکہ کے جھنڈوں، صدر بش کے پتلوں اور ماچسوں کا کاروبار خوب گرم ہے۔ سڑکوں پر خواتین کی توہین ہونا عام سی بات ہے۔ بھلا ایسی جگہ ایک امریکی لڑکی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا؟

اگر ایبی کے تجربات حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، تو اخبارات سراسر جھوٹے ہیں۔ سچّی سی بات ہے۔ ایبی کے ساتھ بازار وغیرہ جاتے ہوئے میرے دل میں بھی کچھ خدشات تھے۔ اوّل تو اس کی گوری رنگت کا معاملہ۔ دوسرا اس کے عورت ہونے کا۔ چوک جیسے دیگر جریدے پڑھیں (مثلا یہاں اور یہاں) تو خیال پیدا ہوتا ہے کہ بازار لچر مردوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جو عورتوں کا جینا حرام کردیتے ہیں۔ بیہودہ فقرے کستے ہیں۔ سیٹیاں بجاتے ہیں وغیرہ۔ میں عورت نہیں (واقعی!)۔ اسلیے عورت ہوکر بازاروں میں گھومنے کا تجربہ نہیں رکھتا۔ لیکن اپنے پیارے شہر کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں شاید رکھتا تھا۔

لوگوں نے ایبی کے ساتھ وہی سلوک کیا جیسے کسی اور کے ساتھ کرتے ہیں۔ یعنی کے سر پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔ سیدھی سی بات ہے، ہر ایک اپنے کاموں میں مصروف ہوتا ہے۔ کس کے پاس اتنا فالتو وقت کہاں ہے کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کسی اور کو گھورے، خواہ وہ ایک غیرملکی عورت ہی کیوں نہ ہو۔ ہم صدر، طارق روڈ اور کلفٹن جیسی جگہوں میں گھنٹون گھومتے رہے۔ زینب مارکیٹ میں تو دوکانداروں کا ایسا رویّہ تھا کہ جیسے روز ہی امریکیوں سے سودا کرتے ہوں۔ حیرت کی بات ہے، کسی نے زیادہ پیسے لینے کی کوشش بھی نہیں کی! ایک قالین والے نے مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں ٹھندی پیپسی تک پلائی۔ جہاں بھی گئے کسی نے بھی ایسا ظاہر نہیں کیا کہ ہم کوئی انوکھا کام کررہے ہیں یا ایبی کوئی عجب شہ ہے۔

اگر قدامت پسندی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تو افسوس کہ وہ عام دنیا میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں تھا۔ بھابھی نےدبے الفاظ میں کہا کہ خدا کے لیے ایبی کو طارق روڈ تو نہ لےجائیے گا، وہ بھی بغیر ڈوپٹّے کے۔ اور یہ پڑھے لکھے، ڈفینس میں رہنے والے اس تبقے کی نمائندہ ہیں جو اپنے آپ کو "لِبرل" کہتا ہے، اور عوام کو نیچ اور قدامت پسند سمجھتا ہے۔ یعنی عوام کے کردار کا معیار ڈوپٹّے پر آکر رک گیا۔

تو میری معافی قبول کر، شہر کراچی۔ تو آزاد خیال ہے، اور شاید ہمیشہ تھا۔ غلطی تو ہم "پڑھے لکھوں" کی ہے جو اخبارات اور رسائل کے رعب میں آکر تجھے ناجانے کیا سمجھنے لگے ہیں۔

تبصرے  (3)

Blogger Danial

میرا خیال یہ ہے کہ کراچی امیدوں کا شہر ہے جہاں خواب بستے ہیں۔ امیدوں اور خوابوں کے لئیے آزاد خیالی بہت ضروری ہے۔

8:04 PM  
Anonymous زکریا

لگتا ہے کراچی اس سلسلے میں اسلام آباد اور راولپنڈی سے بہت بہتر ہے۔

8:06 PM  
Blogger Hypocrisy Thy Name

بیٹے کے بعد باپ کے لکھنے کی گنجائش تو بہت کم رہ جاتی ہے مگر کچھ اضافہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

کراچی واقعی راولپنڈی اور اسلام آباد سے بہتر تھا اور ہے کم از کم اس معاملہ میں۔ وجوہ جو میری سمجھ میں آئی وہ یہ ہیں۔
اول۔ کراچی کا متوسط اور کافی غریب طبقہ بھی پڑھا لکھا ہے
دوم۔ کراچی ایک متحرّک شہر ہے۔ یعنی لوگ اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے محنت میں لگے رہتے ہیں۔ خواتیں گھروں میں کام کر کے دوکانوں پر بیچنے کے لٹئے پہنچاتی رہتی ہیں۔
سوم۔ کراچی عرصہ دراز سے ایک بین الاقوامی شہر ہے۔

اسلام آباد امیروں اور وڈیروں کی آماجگاہ ہے۔ یہاں ہر صوبے کے وڈیروں نے ڈیرہ جما لیا ہے۔ اور اب یہ حالت ہے کہ متوسط طبقہ کے بچوں کی تعلیم بھی یہاں مشکل بنا دی گئی ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ بدنام تو غریب ہوتا ہے یا متوسط طبقہ مگر بدتمیڑی کرنے والوں کی اکثریت بڑے لوگوں کی مہنگے سکولوں میں پڑھنے والی اولاد ہوتی ہے۔

10:51 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت