Friday, June 10, 2005

جہنم میں گئے ستھ

نجانے بڑے فلمسازوں کو کیا ہوجاتا ہے۔ فلمبندی کے عام اصول بھول جاتے ہیں۔ بھائی جارج لوکس کا زوال تو ایپیسوڈ وَن سے ہی نمایاں تھا لیکن ہر آنے والی سٹار وارز کی قسط اس زوال کا تالیاں بجا بجا کر اعلان کرتی ہے۔

یہ ایپیسوڈ تھری بھی کیا بلا تھی؟ کیا کسی پاگل چار سالہ بچّے سے اس کی کہانی لکھوائی گئی تھی؟ کیا اداکاروں کا کھانا پینا بند کردیا گیا تھا تاکہ وہ لکڑی کے پتلے ہونے کی شاندار اداکاری کرسکیں؟ کمال کی بات ہے: ایون مکگریگر، نیٹلی پورٹمن، اور ہیڈن کرسٹنسن اپنی اپنی جگہ خوب اداکار ہیں۔ سٹار وارز سے ہٹ کر ان کا کام عمدہ ہے۔ لیکن بھائی لوکس کی ہدایتکاری سب کو مجسموں میں تبدیل کردیتی ہے۔

ایک اور بات: پاڈمے (ملکہ آمیڈالا) پہلی فلم میں تو نہایت مضبوط کردار تھیں۔ لیکن "سِتھ" میں نجانے کیوں ایک بسورتی ہوئی کمزور شخصیت بن گئیں۔ جیسا کہ ایبی نے لکھا ہے، اس فلم میں ایک بھی مضبوط عورت کا کردار نہیں تھا۔ سینیما اور بالخصوص سائینس فکشن سینیما جس بری طرح عورتوں کی عکاسی کرتا ہے وہ قابلِ شرم ہے۔