Monday, June 13, 2005

"ذ" پر پابندی

یہ اردو میں "ز" اور "ذ" دونوں کی کیا ضرورت ہے؟ ویسے تو میں اس بحث میں "ض" اور "ظ" کو بھی لاسکتا ہوں، لیکن کم ازکم یہ حروف شکل میں تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ "ز" اور "ذ" کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ کمپیوٹر پر پڑھے جانے والے عام فونٹوں پر تو "ز" اور "ذ" بالکل ایک جیسے لگتے ہیں۔ حال ہی میں جہانزیب نے میری غلطی پکڑی جہاں میں نے "مذاق" کے بجائے "مزاق" لکھا تھا۔ میں کہتا ہوں غلطی میری نہیں، بابائے اردو کی ہے۔ (مولوی عبدلحق نہیں، سیکڑوں سال پرانا کوئی بابا ہوگا۔)

بہرحال آج سے میں "ذ" کے خلاف ایک تحریک شروع کرنا چاہتا ہوں۔ یہ حرف غیر ضروری ہے۔ اسے واپس ارب یا ایران بھجوا دینا چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

تبصرے  (12)

Blogger Kunwal

نہیں نہیں نہیں، کچھ بھی نہیں بدلنا چاہئے۔ 1996 میں جرمنی، آسٹریا، سوتزر لینڈ، لختن شٹائن اور بیلجیم کے پالٹشن نے مل کے فیصلہ کیا کہ جرمن سپیلنگ کو ایک ریفورم کی ضرورت ہے۔ ان کا مقصد تھا کہ سپیلنگ آسان ہو جائے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ سب کچھ زیادہ کنفیوزنگ ہو گیا۔
مثال ۱: کافی دیر سے لوگ کہہ رہے تھے کہ شارپ ایس کی کوئی ضرورت نہیں ہے
(ß)
پھر پالٹشن نے کچھ لفظوں سے ß ہٹا دیا اور کچھ لفظوں میں رہنے دیا۔
مثال ۲: فوٹو کو اب ایف کے ساتھ لکھتے ہیں، پی ایچ کے ساتھ نہیں۔ میں نے اپنے آپ کو اتنی مشکلوں سے سمجھایا کے اب ایف کے ساتھ لکھنا ہے اور اب ہمیشہ انگریزی، فرانسیسی میں غلطی کرتی ہوں۔ پھر یاد آتا ہے کہ ان زبانوں میں تو کوئی سپیلنگ ریفورم نہیں ہوئی۔ ایسے ہی میرے خیال سے فضول بات ہے ایک لفظ کی سپیلنگ بدلنا جو کسی اور زبان سے آیا ہو۔
خیر نتیجہ کیا ہے؟ کئی لوگ پرانی سپیلنگ، کئی لوگ نئی سپیلنگ اور کئی لوگ دونوں کو ملا کے استعمال ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بالکل الگ لکھتے ہیں یہ کہہ کے کہ جناب یہ "نئی سپیلنگ" ہے۔ چند رائٹرس اور پبلشرس مل کے سپیلنگ ریفورم کو بوئکاٹ کر رہے ہیں۔ اور ہاں۔ ابھی پچھلے مہینے پھر سے سپیلنگ ریفورم کے چند حصے بدلے گئے۔ سپیلنگ کو "مزاق" سمجھا ہوا ہے۔
;)

4:40 AM  
Blogger Hypocrisy Thy Name

اگر کچھ کرنا ہی ہے ترقّی کی کوشش کیجئے ۔ تبدیلیاں خود بخود آئیں گی

8:16 AM  
Blogger rai

اردو میں ان زائد الفاظ کی موجودگی سے زبان کا فائدے سے زیادہ نقصان ہو رہا ہے اس لیے میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ ان کو ختم کر دینا بہتر ہے۔
اردو.........ٹھہرا ہوا پانی؟

10:54 AM  
Blogger rai

الفاظ نہیں حروف

11:01 AM  
Blogger Asma

Assalamoalaykum w..w!

well, about this "zay" and "zaal" story, if this is changed then next time we would be coming up with something else that needs to be changed.

Changes are good and necessary but changes in a fully formed language may lead to deterioration!

I don't know whether its very much concerned to said topic or not; but u know what happened when Kamal Attaturk introduced roman styled writing in turkey instead of arbic script; u can see what happened ... newer generations are now far from Quran, from the real essence that can only be understood if origibal script be read... well , i'm going elsewhere ... i dont think so there's any need for such change ... we have to look beyond such things towards bigger goals and aims!

Wassalam

[haa ... i wrote one comment and copied it evrywhere i can ... pretty clever of me :)]

4:16 PM  
Blogger jaywalker

آپ نے آخری سطر میں عرب کو ارب لکھا ہے!

6:27 AM  
Blogger ضیا

شکریہ جےواکر۔ یہاں میں چپکے سے "ع پر پابندی" مہم کی جھلک دے رہا تھا :)

9:56 AM  
Blogger Dr. Iftikhar Raja

جہاں تک اردو میں ان دونوں اور اس طرح کے دیگر کئی الفاظ کا تعلق تو یہ بعض اورقات مشکل تو ضرور پیدا کردیتے ہیں مگر اسکا ایک فائدہ یہ کہ قاری اور صاحبِ بیان ان چھوٹے اور بظاہر مہمل حروف کی پہچان اور انفرادیت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ میں ایک غیر اردو اور غیرانگلش معاشرے میں رہتا ہوں اور ہماری روز مرہ کی زبان پنجابی نہیں بلکہ اطالوی ہے، یہ اردو کی ودیت کردہ صلاحیت ہے کہ آج الحمداللہ اطالوی بولتے ہوئے ادائیگی کی درستگی پر اہلِ زبان بھی عش عش کراٹھتے ہیں۔ اسکے برعکس اہلِ عرب چونکہ ’’ب’’ اور ’’پ’’ میں فرق نہیں کرسکتے لہذا وہ پاکستان کو باکستان کہتے ہیں، ایک اطالوی ٹ اور ت میں فرق نہیں کرسکتا لہذا ٹورنٹو کو تورنتو بلائے گا، اور تو اور ہمارے خان صاحب جب ٹھیگ کو ٹیک کہتےہیں تو پنجابی کو ہنسی آجاتی ہے۔ اردو کے حروفِ تحجی کی بڑی تعداد اسکی وسعتوں کی مظہر ہے، آج آپکے پاس دنیا کی کسی زبان کا کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جسکی آپ اردو میں درست ادائیگی کے ساتھ نہ لکھ یا بیان کرسکیں۔
یہ صرف میں دعوہٰ ہی نہیں بلکہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اردو شاعری کی طرح لاجوب اور لا تمثیل حقیقت

3:37 PM  
Anonymous فاتح الدین بشیر

ڈاکٹر افتخار صاحب
آپ نے فرمایا کہ 'دنیا کی کسی زبان کا کوئی بھی ایسا لفظ نہیں جسکی آپ اردو میں درست ادائیگی کے ساتھ نہ لکھ یا بیان کرسکیں' کسی حد تک تو بجا ہے لیکن ہمارے اپنے ملک میں بولی جانے والی کئی علاقائی زبانوں کے کچھ حروف ایسے بھی ہیں جنہیں اردو میں نہ تو لکھا جا سکتا ہے نہ ادا کیا جا سکتا ہے، مثلاًً سندھی زبان کا ایک حرف 'ن' کے نقطہ کو ہٹا کر 'ط' کے ساتھ لکھا جاتا ہے، جس کا تلفظ اردو میں 'ڑ' اور 'ن' کی تقریباًً مجموعی شکل ہے۔

3:27 PM  
Blogger ضیا

بشیر صاحب، آپ نے درست فرمایا۔ انگریزی میں بھی "وی" اور "ڈبلیو" کے درمیان اردو کے حروف میں تفریق کرنا مشکل ہے۔

9:12 AM  
Anonymous فاتح الدین بشیر

جی ہاں! اردو میں تو ایسا ممکن نہیں لیکن موجودہ عربی میں ایک حرف کا اضافہ کر دیا گیا ہے جو کہ ف پر ایک کی بجائے تین نقاط لگا کر لکھا جاتا ہے، اور وی کی آواز دیتا ہے جب کہ ڈبلیو کے لئے وہی روائتی واو مستعمل ہے۔

5:08 PM  
Blogger Rizwan

badalna youn bhee muhkil hai kia koi muqtadra tou moujoud naheen aor abhee tou ham lakeer kai faqeer hain. urdudaan tabkaa chahai kissi mazhab aor mulk mein hou bawajoud en mushkilaat aor ROAROUN(patharoun)kai tabdeelee sai dartaa hai.

1:29 PM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت