Wednesday, June 15, 2005

ایک ہیرو کی پیدائش

آج میں نے بیٹ مین بگنز دیکھی۔

جیسا کہ میں پہلے لکھ چکا ہوں، جوئل شوماکر نے ایک عظیم فرینچائیز کا بیڑا غرق کردیا تھا۔ پچھلی دو فلمیں ڈی سی کامکس پڑھنے والوں کے منہ پر تمانچہ تھیں۔ لیکن آج میں خوشی سے کہ سکتا ہوں کہ بیٹ مین، باب کین اور فرینک ملر کا بیٹ مین، ایک بار پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ کرس نولن کی شاندار ہدایت کاری اور کرسچن بیل کا بروس وین سچّے مداحوں کو مایوس نہیں کریں گے۔
بیٹمین بگنز
کہانی کے بارے میں کیا کہوں؟ کچھ عناصر تو سیدھے ائیر ون سے لیے گئے ہیں۔ وہ بدنصیب رات جب ٹومس اور مارتھا وین ایک تاریک گلی میں بےدردی سے قتل کردیے جاتے ہیں فلم کا مرکزی سین ہے۔ مارتھا کا موتیوں کا ہار، سڑک پر بہتا خون، ایک عام مجرم کے آگے زندگی کی بےمعنی حیثیت، اور دس سالہ بروس کی بےبسی، سب کے سب ویسے ہی ہیں جیسا کامک پڑھنے والے اپنی آنکھوں کے آگے سینکڑوں بار دیکھ چکے ہیں۔ اور فلم کے آخری حصّے میں ناظرین نو مینز لینڈ کا دھیما سا عکس پائیں گے۔

لیئم نیسن نے راس الغل کی اچھی عکاسی کی ہے۔ لیکن بہترین مجرم کا انعام اس نئے اداکار کو ملتا ہے جو ڈاکٹر جونیتھن کرین کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ایسا حیبت ناک سکئیرکرو ہے کہ دیکھنے والے کو عرصے تک ڈرائے رکھےگا۔

ظاہر ہے کہ یہ ایک ہالیووڈ فلم ہے۔ اسلیے کچھ کمزوریوں کا شکار ہے۔ عوام کو خوش کرنے کے لیے دھماکے اور تیزرفتار گاڑیاں درکار ہیں۔ جوکہ شایاد کردار کے مطابق نہیں۔ لیکن ان کمزوریوں (اور کیٹی ہومز) کے باوجود بیٹ مین بگنز ایک عمدہ فلم ہے۔ آج ایک ہیرو دوبارہ سے پیدہ ہوا ہے۔

تبصرے  (1)

Blogger iabhopal

میں فلموں کے معاملہ میں بالکل بے بہرہ ہوں ۔ پہلے بھی فلم شاد و نادر ہی دیکھتا تھا مگر پچھلے بیس سال سے کوئی فلم نہیں دیکھی ۔ اس لئے میں کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں ۔

اردو میڈیم کے ایک طالب علم نے کچھ انکشاف کیا ہے ۔ ذرا دیکھئے تو یہ اردو میڈیم طالب علم کیا کہتا ہے ۔
http://hypocrisythyname.blogspot.com/2005/06/urdu-medium-school.html

1:57 AM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت