Saturday, July 16, 2005

کون سا بہتر ہے؟

اعظمی صاحب کی آج ای۔میل آئی۔ موضوع تھا: کون سا بہتر ہے؟ ترجمہ کچھ یوں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شہزاد تنویر، لندن کا خودکش دہشت گرد، بہت مزہبی تھا۔ اکثر مسجد جایا کرتا تھا۔ اسے لڑکیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔

میرا سترہ سالہ بیٹا شہزاد اعظمی بالکل مزہبی نہیں ہے۔ کبھی مسجد نہیں جاتا۔ اسے لڑکیاں بہت پسند ہیں۔

کون سا شہزاد بہتر ہے؟
ظاہر ہے اعظمی صاحب، آپ کا شہزاد بہتر ہے۔ بس اسے مسجد سے دور رکھیے۔

تبصرے  (11)

Blogger منیراحمدطاہر

نہیں جناب کوئی شہزاد بہتر نہیں دونوں ہی غلطی پر ہیں۔میرے خیال میں اس میں سارا قصور علما کرام اور ماں باپ کا ہے جو نہیں بتاتے کہ صیحیح کیا ہے اور غلط کیا، سیدھا راستہ کیا ہے جہاد کسے کہتے ہیں، کب کیا جاتا ہے کیسے کیا جاتا یا کیوں کیا جاتا ہے یہ ساری بات نوجوان نسل کو بتانی چاہیے مگر اس وقت یہ دونوں کام نہیں ہو رہے۔

2:33 PM  
Blogger ضیا

کاش حقیقت اتنی سیدھے سادھی ہوتی منیر صاھب۔ دہشت گرد اس لیے بدی کی طرف آتے کیونکہ ماں باپ کی تربیت میں کمی ہوتی۔

انسان اپنے اعمال کا خود ذمّہدار ہوتا ہے۔ سماج یا والدیں کو اس حد تک مجرم ٹھیرانا درست نہیں۔

2:50 PM  
Blogger Nabeel

ضیاء، تم نے کافی نرم الفاظ کا استعمال کیا ہے اپنی پوسٹ میں۔ میرے ذہن میں تو اس قدر تلخ خیالات آ رہے ہیں کہ میں لکھ نہیں پا رہا۔ یہاں یورپ میں جو ناکارہ ترین لوگ سوشل سیکیورٹی پر گزارا کر رہے ہیں اور کسی قابل نہیں ہیں ان پر کہیں سے الہام ہو جاتا ہے کہ مغربی معاشرے کو سنوارنے کی ذمہ داری اللہ نے انہیں سونپ دی ہے۔ اس کے لیے انہیں واحد طریقہ یہ نظر آتا ہے کہ خودکش دھماکوں سے خود کو اور دوسروں کو اڑا دیں۔ لوگوں کو اپنے بچوں کو ایسے ابلیس صفت لوگوں سے بچا کر رکھنا چاہیے۔

7:03 PM  
Blogger Hypocrisy Thy Name

مجھے افسوس ہوتا ہے ایسے مسلمانوں کی عقل پر جو ہر مجرم کو مسلمان اور جرم کا منبع مسجد کو قرار دیتے ہیں ۔ اگر ان کو قرآن سمجھنے یا مسجد میں جانے کی توفیق نہیں ہوتی تو کم از کم یورپ اور امریکہ کے ان مجرموں کے حالات ہی پڑھ لیں جن کو پچیس سے ساٹھ سال تک قید ہوئی ۔

بم دھماکوں کو تو اہل مغرب اور ان کے پرستار اسلام اور مسجد سے نتھی کر دیتے ہیں مگر مغرب والوں نے منظم طریقہ سے افغانستان اور عراق میں جو بے قصور مسلمانوں کا ہزاروں کی تعداد میں بے رحمانہ یا وحشیانہ قتل کیا ہے اور جو لاکھوں عراقی جن میں بچوں کی غالب اکثریت تھی دس سال کی پابندیوں سے مار دیئے ۔ان کو کس گرجا کے ساتھ باندھیں گے ؟

4:48 AM  
Blogger Hypocrisy Thy Name

Here is some information for you, Mr Zia !

There is every possibility ty that you will blame Muslims and mosques for this also.

Shortly before Christmas 1991 the Medical Educational Trust in London published a comprehensive study of casualties. Up to 250,000 men, women and children were killed or died as a direct result of the American-led attack on Iraq. A one-sided slaughter.

In evidence before the House of Commons Foreign Affairs Select Committee, the major international relief agencies reported that 1.8 million people had been made homeless, and Iraq's electricity, water, sewerage, communications, health, agriculture and industrial infrastructure had been "substantially destroyed", producing "conditions for famine and epidemics".

Most of this was not reported, or was tucked away. In the most covered war in history, almost everybody had missed the story.

It is hardly surprising that, in the nine years since, the death of half a million children due to economic sanctions, and the continuing bombing of populated areas in Iraq by American and British aircraft, are not news. "The thought that the state is punishing so many innocent people," wrote playwright Arthur Miller, "is intolerable. And so the evidence has to be internally denied."

You can read more at http://www.commondreams.org/views/062200-101.htm

11:27 PM  
Blogger ضیا

آپ نے بھلا یہ کیسے سوچ لیا کہ عراقی بچّوں کے لیے آپ ہی کا دل روتا ہے؟ نہایت گھمنڈ کی بات ہے۔ آپ میرے یا میرے خیالات کے بارے میں کیا جانتے ہیں جو ایسا الزام لگارہے ہیں؟

ناجائز اور ظالم جنگوں کے خلاف کڑوڑوں "مغرب والے" اھتجاج کرتے رہے ہیں۔ پھر بھلا آپ انسانیت کو "ہم" اور "وہ"، "مغرب والے" اور "مسلمان" میں کیوں بانٹتے ہیں؟

اور ہاں، واقعی کچھ جرائم ہیں جن کے لیے مسلمان اور مسجد ذمّہ دار ہیں۔ کب تک اس حقیقت سے آپ چھپتے رہیں گے؟

5:58 PM  
Blogger Hypocrisy Thy Name

آپ نے مسجد سے بچوں کو دور رکھنے کی بات کی تھی ۔ اگر یا چند مسجد والے مسجد کا غلط استعمال کریں تو بجائے اس کے کہ غلط کام کرنے ولے کو ٹھیک کیا جائے کیا مسجدیں چھوڑ دی جائیں ؟

9:54 AM  
Blogger Abdul Qadir

Why are you stoping children from going to Masjid, will it help in improving the situation

8:31 PM  
Anonymous Shuaib

میرے خیال میں دوسرا سترہ سالہ شہزاد صحیح جارہا ہے ;)

12:59 PM  
Anonymous Anonymous

That's a great story. Waiting for more. Accounting software for medium sized manufacturing business Bj cumshot counteracting the side effects of prozac Canada fishing regulations mcdonald investments virginia benz Farmer s insurance jeff miller http://www.play-scrabble-online.info/Craps_r_win.html Boating contest 660 canon driver lbp printer List of cellphone companys employment Herpes treatment acyclovir valtrex.md Parental time control for pc Summer soccer camps los angeles disney trading pins for sale Body piercing and eczema Neurontin overdose Natural hair chlorine remover

3:15 AM  
Anonymous جنون

ضیاء صاھب کی بات تو اس لطیفے پر با لکل فٹ بیٹھتی ہے کہ:
بش نے جب بیگم کی پریگننسی کی خبر سنی تو بلا سوچے سمجھے فورا کہ دیا کہ اس میں بھی اسامہ کا قصور ہے
کہیں ایسا تو نہیں کہ ضیا صاحب کی کج ادایی میں بھی کسی مولوی نے کان میں اذان دینے کی بجاے ناک میں دے دی ہو جو لمحہ بلمحہ انکے من میں مڑوڑ خلاف مولوی اور مسجد اٹھاتی ہو
اور جو یہ نبیل صاحب کی باسی کڑھی میں ابال آرہا ہے اسکا محور بھی ناقص معلومات اور ہذیانی کیفیات ہیں اگر خود کش ھملہ آوروں کے بارے معلومات ھاصل کرنی ہیں تو ۱۱ ستمبر کے خودکشوں کی سی ڈیز عام مل جاتی ہیں۔ ذرا دیکھیے اور بتایے کہ کیا وہ لوگ سوشل سیکورٹی پر گذاراہ کرلینے والے تحے یا ان میں سے صرف ایک کا نام لیا جایے تو انجینیر محمد عطاء تھا

11:22 AM  

تبصرہ کیجیے

کیفے حقیقت